اسلام آباد ۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے شاتم رسول سلمان رشدی کو برطانوی حکومت کی جانب سے ’’سر‘‘ کا خطاب دیئے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عالم اسلام کے جذبات کو براہ راست مجروح کرنے اور ان کے زخم ہرے کرنے کے مترادف ہے۔ برطانیہ رشدی سے خطاب واپس لے اور دشمنان رسول کی پشت پناہی کی پالیسی چھوڑ دے۔ جمعرات کو اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی کے ہنگامی اجلاس میں وکلاء نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ اس موقع پر سلمان رشدی کے خلاف ایک باقاعدہ قرارداد مذمت منظور کی گئی جس میں برطانوی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ بدنام زمانہ گستاخ رسول کو سر کا خطاب دے کر مسلمانان عالم اور بالخصوص پاکستانی عوام اور وکلاء کے مذہبی جذبات اور احساسات کو پامال کرنے سے باز رہے۔ وکلاء نے اپنی تقاریر میں کہا کہ عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ نبی کریم سرکار دو عالمؐ کی شان میں گستاخی ناقابل معافی جرم ہے۔ پورا عالم اسلام سلمان رشدی کی اسلام دشمن تحریروں اور آپ سے سر کا خطاب دیئے جانے پر سراپا احتجاج ہے۔ اجلاس سے بار کے صدر ہارون الرشید ایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل سیّد محمد طیب ایڈووکیٹ، فضل الرحمن نیازی، چوہدری حسیب، نیاز اﷲ خان، چوہدری اشرف گجر، شعیب شاہین سمیت کئی دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا۔



0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment