اسلام آباد ۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نثار بیگ نے کفیلہ صدیقی قتل کیس میں ملوث سابق وزیر مملکت شاہد جمیل قریشی کی عبوری ضمانت قبل از گرفتاری جمعہ کو منسوخ کر دی جس کے بعد پولیس نے سابق وزیر مملکت کو گرفتار کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق شاہد جمیل قریشی کفیلہ صدیقی کیس میں عبوری ضمانت پر تھے اور جمعہ کو جب عبوری ضمانت کی سماعت شروع ہوئی تو پولیس نے عبوری ضمانت میں مزید توسیع کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ اس مقدمہ کی تفتیش کے دوران اب تک جو شواہد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق کفیلہ صدیقی کی موت پراسرار طریقے سے ہوئی ہے اور یہ ایک قتل معلوم ہوتا ہے۔ پولیس نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کی عبوری ضمانت منسوخ کی جائے تاکہ اس سے مزید تتفتیش کر کے حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے شاہد جمیل قریشی کی عبوری ضمانت منسوخ کر کے اسے چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ عبوری ضمانت کی منسوخی پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تھانہ شالیمار میں منتقل کر دیا۔
———————————-
اپ ڈیٹ
کفیلہ صدیقی کیس میں سابق وزیر مملکت شاہد جمیل کی عبوری ضمانت منسوخ ، پولیس نے کمرہ عدالت سے گرفتارکرلیا
کفیلہ کی موت ابھی تک پراسراہے،شاہد جمیل کو تفتیش کیلئے حوالے کیاجائے،پولیس ،چارروزہ ریمانڈ دیدیاگیا ،ملزم تھانہ شالیمار منتقل
کفیلہ صدیقی کیس میں سابق وزیر مملکت برائے مواصلات انجینئرشاہد جمیل کی عبوری ضمانت منسوخ ، پولیس نے کمرہ عدالت سے گرفتارکرلیا،سینئر سول جج نے چارروزہ ریمانڈ دیدیا ۔ جمعہ کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نثار بیگ کی عدالت میں کفیلہ صدیقی مبینہ قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو شاہد جمیل کے وکیل سردار محمد اسحاق خان اور مدعی پارٹی کے وکیل ظہیر الدین بابر عدالت میں پیش ہوئے اور کفیلہ صدیقی کے قتل کے حوالے سے شاہد جمیل پر لگائی گئی دفعہ 316 پر بحث کی ۔پولیس نے موقف اختیارکیاکہ ابھی تک ملنے والے شواہد سے کفیلہ صدیقی کی موت پراسرانظرآتی ہے لہذاشاہد جمیل کو تفتیش کیلئے اس کے حوالے کیاجائے۔عدالت نے بحث مکمل ہونے کے بعد اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ 15 منٹ کے بعد اس کیس کا فیصلہ سنا دے گی۔ اس دوران عدالت نے ملزم شاہد جمیل کو عدالت سے باہر بھیج دیا تاہم 11 بجکر32 منٹ پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نثار بیگ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے دفعہ 316 کے ملزم شاہد جمیل کی عبوری ضمانت کو منسوخ کر دیا ۔عدالتی فیصلے کے بعد گیارہ بجکر 35 منٹ پر پولیس نے ملزم شاہد جمیل کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔بعدازاں پولیس نے ملزم شاہد جمیل کو سینئر سول جج عابد رضوان عابد کی عدالت میں پیش کرکے اس کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا ہے ۔ملزم سابق وزیرمملکت انجینئرشاہد جمیل کوبعد میں تھانہ شالیمار منتقل کردیاگیا۔
—————————
ضمانت ختم ہوتے ہی پولیس اہلکار شاہد جمیل پر جھپٹ پڑے ،زدوکوب کیاگیا،ملزم کی مسکراہٹ چھن گئی
اسلام آباد (ایف اے آئی ) کفیلہ صدیقی کیس کے ملزم شاہد جمیل کی عبوری ضمانت ختم ہوتے ہی سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکار اس پر جھپٹ پڑے اور انہوں نے فوراً ہی ہتھکڑیاں لگا دیں۔ کمرہ عدالت سے باہر آتے ہی پولیس اہلکاروں نے دھکم پیل اور شدید رش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شاہد جمیل کو زدوکوب کیا۔ پولیس اہلکاروں کے رویہ اور میڈیا کے پریشر نے شاہد جمیل کے چہرے سے مسکراہٹ چھین کر انہیں شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا۔
—————————–
ملزم کی ضمانت ختم ہونے پر ’’یامیرے رب تیراشکریہ ‘‘،ہم دکھی ہیں،پوری امید ہے کہ انصاف ملے گا،بہن کفیلہ صدیقی
اسلام آباد (ایف اے آئی ) کفیلہ صدیقی کیس کی سماعت کے موقع پر مرحومہ کی بہن شازیہ صدیقی مسلسل روتی رہیں۔ ملزم شاہد جمیل کی ضمانت خارج ہونے پر شازیہ صدیقی نے اونچی آواز میںکہا ’’یامیرے رب تیرا شکریہ‘‘ ۔شازیہ صدیقی نے ایف اے آئی سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم دکھی ہیں اور دکھی کا سہارا صرف خدا کی ذات ہے اور ہم پوری امید کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ضرور انصاف دیگا۔
—————————————–
ملزم شاہد جمیل کی ضمانت خارج ہونا پہلی کامیابی اورآئندہ دو تین روز میں اہم پیشرفت متوقع ہے،وکیل مدعی پارٹی
اسلام آباد (ایف اے آئی ) کفیلہ صدیقی کیس کے مدعی پارٹی کے وکیل راجہ ظہیر الدین بابر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملزم شاہد جمیل کی ضمانت خارج ہونا کفیلہ کیس کی پہلی کامیابی ہے،پولیس کی تحویل میں آنے کے بعد آئندہ دو تین روز میں اہم پیشرفت کی توقع ہے۔ انہوں نے کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے متعلق سوال پر بتایا کہ ملزم شاہد جمیل کا بھائی پنجاب پولیس میں ایس ایس پی اور انتہائی کرپٹ ہے۔ اس نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے رپورٹ اپنی مرضی کے مطابق بنوائی ہے تاہم مدعی پارٹی نئے سرے سے تحقیقات کرانے کیلئے درخواست دائر کرے گی اور امید ہے کہ دوبارہ ایسانتیجہ نہیں نکلے گا جو پہلے نکلا ہے ۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ابھی تو پولیس تحویل میں ملزم نے بہت کچھ کہنا ہے اور وہی اس کیس کی اصل روح ہوگی۔ ایڈووکیٹ راجہ ظہیر الدین بابر نے کہا کہ میں توصرف ایک سوال پوچھتا ہوں کہ ملزم مری ہوئی خاتون کو 9 گھنٹے موٹروے پر لے جا کر کیا کرتا رہااور عدالت میں میرے دلائل بھی یہی تھے ۔انہوں نے کہاکہ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ پولیس کے تعاون سے ہم کفیلہ کیس کے اصل حقائق تک ضرور پہنچیں گے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.