واشنگٹن(ایف اے آئی )مغربی میڈیا میں ایک بار پھر پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے متعلق ہزرہ
سرائی شروع ہو گئی ہے اور ایک امریکی انسٹی ٹیوٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسے سٹیلائٹ امیج حاصل کئے گئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نیا اٹیمی ری ایکٹر تعمیر کر رہا ہے اور اس ری ایکٹر کے ذریعے ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال ہونے والا پلو ٹونیم تیار کیا جا سکے گا جبکہ بھارت بھی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں اضافے کیلئے کام کر رہا ہے۔واشنگٹن کے انسٹی ٹیوٹ آف سائنس فارانٹرنیشنل سیکورٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ تین جولائی کو حاصل کی گئی تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کا تیسرا ری ایکٹر خوشاب میں تیزی سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس ری ایکٹر کی تیاری اور دیگر ایٹمی سرگرمیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بنانے کیلئے پلوٹونیم کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان اٹامک انرجی ایجنسی کے سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد اپنے انفراسٹرکچر کی توسیع کر رہا ہے۔پاکستان اعلانیہ ایٹمی طاقت ہے اور پر امن مقاصد کیلئے ایٹمی پروگرام پر کام ملکی مفاد میں جاری ہے۔تا ہم انہوں نے اس رپورٹ پر تبصرے سے انکار کر دیا۔رپورٹ کی تیاری میں کام کرنے والے اور اقوام متحدہ کے سابق معائنہ کا ر دیوڈ البرائٹ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے پاکستان نے کروز میزائلوں کیلئے لائٹر وار ہیڈ کی تیاری کا فیصلہ کیا ہو۔رپورٹ کے مطابق بھارت بھی یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.