لال مسجد اور جامعہ فریدیہ کے معاملہ پر وفاق المدارس اور حکومت کے درمیان کشیدگی

بڑی تعداد میں علماء کرام نے وفاقی دار الحکومت میں جناح سپر مارکیٹ کی سڑک کو بلاک کردیا

حکومت کے خلاف دھرنا مطالبات کے حق میں نعرہ بازی ،حکومت کی بااختیار ٹیم سے مذاکرات کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر

اسلام آباد (ثناء نیوز) جماعت اہل سنت راولپنڈی اسلام آباد اور وفاق المدارس کے زیر اہتمام جامعہ فریدیہ اور لال مسجد کی بندش کے خلاف جناح سپر اسلام آباد میں دھرنا اور مظاہرہ ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی کی طرف سے اس یقین دہانی کے بعد کہ ہفتہ کے روز علماء کرام کے مقتدر قوتوں سے مذاکرات کرائے جائیں گے ۔ علماء اور طلباء نعرے لگاتے ہوئے پر امن طور پر منتشر ہو گئے ۔ جمعرات کے روز جماعت اہل سنت اور وفاق المدارس کے زیر اہتمام علماء او ر طلباء صبح ہی سے جامع مسجد باب الالسلام میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے ۔نماز ظہر کے بعد بڑی تعداد میں علماء اور طلباء جلوس کی شکل میں جامع فریدیہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ جلوس کی قیادت راولپنڈی اسلام آباد کے مقامی علماء مولانا نذیر فاروقی ، مولانا قاری عبد الرشید ، شیخ الحدیث مولانا عبد الرؤف ، مولانا عزیز الرحمان ہزاروی ، مولانا ظہور احمد علوی اور شیخ الحدیث مولانا عبد الغفار کررہے تھے ۔ تاہم مسجد سے نکلنے کے تھوڑی دیر بھر جناح سپر میں مسلح پولیس کا دستہ جلوس کے راستے میں کھڑا ہو گیا اور علماء کو آگے جانے سے روک دیا ۔ جس پر علماء و طلباء کے ہمراہ سڑک پر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ۔ اس موقع پر اے سی سٹی کامران چیمہ ، سیکریٹری اوقاف خان محمد ، ایس پی نصیر آفتاب نے علماء کو اس پر راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ پر امن طور پر منتشر ہو جائیں ان کے اعلی حکام سے مذاکرات کرائے جائیں گے تاکہ مسئلے کا کو ئی پر امن حل نکل سکے تاہم علماء نے کہیں بھی جا کر مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جس نے مذاکرات کرنے ہیں یہاں آجائے یہ مذاکرات کاڈرامہ بہت ہو چکا ۔ بار بار کے مذاکرات سے تنگ آچکے ہیں اس سے مذاکرات کرائیں جو با اختیار بھی ہو جب تک جامع فریدیہ اور لال مسجد کو نہیں کھولا جاتا اور مولانا عبد العزیز کو رہا کر کے خطابت پر بحال نہیں کیا جاتا ہمارا احتجاج جاری رہے گا ۔ علماء نے اعلان کردیا کہ ہمارے راستے سے پولیس کو نہ ہٹایا گیا تو یہی دھرنا دیں گے اور نما ز تراویح پڑھ کر جائیں گے ۔ اس موقع پر پولیس کی مزید نفری بھی پہنچ گئی اور قائم مقام ایس ایس پی تیمور علی بھی پہنچ گئے تاہم ہزاروں پولیس اہلکاروں کو علماء کے سامنے سے ہٹا دیا گیا ۔ علماء نے مذاکرات کے لئے کہیں بھی جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ جس نے مذاکرات کرنے ہیں یہاں آکر کرے ۔ جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد چوہدری محمد علی خود موقع پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے علماء کو یقین دلایا کہ ہفتہ کے روز چیف کمشنر آفس میں ان کے مذاکرات مقتدر حلقوں سے کرائے جائیں گے جس پر علماء اور طلباء پر امن طور پر منتشر ہو گئے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر جامعہ فریدیہ اور لال مسجد کو نہ کھولا گیا اور جامعہ حفصہ کو دوبارہ اس کی جگہ پر تعمیر نہ کیا گیا تو ملک بھر میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی جس کا آغاز آج سے ہو چکا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جامعہ فریدیہ کے کھلنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ جامعہ فریدیہ کی بندش مدارس کی بندش کا نقطہ آغاز ہے ۔ حکومت کو اس کی اجازت نہیں دیں گے ۔ علماء اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات میں محکمہ اوقاف کے سینئر افسر خان محمد نے اہم کردار ادا کیا ۔ آخر میں علماء دعا کے بعد پر امن طور پر منتشر ہو گئے ۔

Share

Leave a Reply