حکومت کا بینظیر بھٹو کیخلاف تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ

اس حوالے سے مجوزہ آرڈیننس کا مسودہ پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا

تیسری بار وزیراعظم بننے سے تحفظات برقرار ہیں، بینظیر بھٹو 58 ٹو بی کا خاتمہ اور مقدمات کی واپسی چاہتی ہیں، شیخ رشید احمد کی نجی ٹی وی چینل گفتگو

اسلام آباد ۔ حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کیخلاف تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے مجوزہ آرڈیننس کا مسودہ پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق منگل کے روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں بینظیر بھٹو کیخلاف تمام مقدمات واپس لینے پر اتفاق کیا گیا جبکہ حکومت نے بینظیر بھٹو کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کیلئے ایک مجوزہ آرڈیننس تیار کیا ہے۔ جس کا مسودہ پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ آرڈیننس میں کیسز کے ختم کرنے کے حوالے سے لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے ذرائع کے مطابق پیپلز پارتی کے قانونی اور آئینی ماہر سنیٹر فاروق نائیکم اس کا مطالعہ کریں گے۔ وزیراعظم ہاؤس میں وزیر اعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بینظیر بھٹو کیخلاف مقدمات واپس لینے کے حواے سے جو اتفاق رائے ہوا ہے اس میں 90 فیصد شرکاء کی یہ رائے تھی کہ بینظیر بھٹو کیخلاف کیسز ختم کئے جائیں اور انہیں وطن واپس آنے کی اجازت دی جائے۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بتایا کہ وزیراعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا، جس میں صدارتی انتخابات، سابق وزیراعظم کیخلاف مقدمات کی واپسی اور دیگر اہم امور پر غور کیا گیا۔ شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ بینظیر بھٹو کیخلاف مقدمات کی واپسی پر متفق ہو گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر تحفظات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر 58ٹو بی کا خاتمہ اور مقدمات کی واپسی چاہتی ہیں۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ وردی سے متعلق فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ بعض ذرائع کا کہنا تھا کہ قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے اپنے مطالبات تسلیم کئے جانے کے حوالے سے حکومت کو چار اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی، پیپلز پارٹی میں ذمہ دار ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری اور صدر جنرل پرویز مشرف کے معتمد خاص طارق عزیز سے رابطہ کر کے تیسری بار وزیراعظم بننے پر پابندی ختم کرنے اور مقدمات کے خاتمہ سمیت دیگر مطالبات تسلیم کرنے کیلئے کل چار اکتوبر بروز جمعرات کی ڈیڈ لائن دی ہیذرائع کے مطابق محترمہ کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے کل تک ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو 5اکتوبر کو ہم قومی و صوبائی اسمبلی سے اپنے استعفے دیدیں گے۔ ذرائع کے مطابق ٹیلیفون پر ہونے والے رابطے میں بینظیر بھٹونے طارق عزیز کو یاد دلایا ہے کہ صدر مشرف نے ان سے ملاقات کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی ان کا ساتھ دے تو وہ صدارتی انتخابات سے قبل وردی اتارنے سمیت اس کے دیگر مطالبات بھی منظور کر لیں گے۔ مگر ابھی تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے ہمیں خدشات ہیں کہ صدر مشرف چوہدری برادران کے دباؤ میں آکر ہمارا کوئی بھی مطالبہ پورا نہیں کریں گے اور ہمیں عوام میں نقصان ہو گا۔ ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو نے طارق عزیز پر واضح کیا ہے کہ اگر کل چار اکتوبر تک ان کے مطالبات منظور نہ کئے گئے تو پیپلز پارٹی پانچ اکتوبر کو قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں سے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے استعفے سپیکرز کے پاس جمع کرا دے گی۔ ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو کی ہدایات پر پیپلز پارٹی کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین پارلیمنٹ کو 5 اکتوبر سے قبل استعفے پارلیمانی لیڈر کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو نے طارق عظیم کو بتایا کہ حکومت نے 2002ء میں بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ دھوکہ کیا تھا اور ہمارے بہت سارے اراکین پارلیمنٹ کو اپنے ساتھ ملا کر حکومت قائم کی تھی اور اب اس وقت بھی ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کے مسئلے پر حتمی جواب نہیں دیا جا رہا۔ ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو نے طارق عزیز پر واضح کر دیا ہے کہ وہ جنرل مشرف کو بتا دیں کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے ہر حال میں استعفے دیدیں گے۔ کیونکہ پہلے بھی مذاکرات کے چکر میں پڑ کر پیپلز پارٹی کو عوامی میں خاصی سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Share

Leave a Reply