علی احمد کرد کو وکلاء کیخلاف نازیبا کلمات کہنے پر نوٹس

آپ کے جذباتی اور غیر سنجیدہ رویہ نے وکلاء کی بھی توہین کی ہے، ڈاکٹر اسلم خاکی

اسلام آباد ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایڈووکیٹ اور انصاف ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر اسلم خاکی نے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ رہنما علی احمد کرد کو ایک نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علی احمد کردنے 28 ستمبر کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے موقع پر سخت جذباتی رویہ کا مظاہرہ کیا جس سے عدلیہ کی توہین بھی کی گئی اور اپنی وکلاء برادری کی بھی۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ علی احمد کرد نے اس موقع پر فیصلہ کے تائیدی جج صاحبان کے متعلق جو کہا وہ تو عدلیہ اس کا نوٹس لینے کی مجاز ہے مگر میری تشویش آپ کے اس بیان سے ہے جو آپ نے اس موقع پر میڈیا کے سامنے یوں ادا کئے۔ ’’وہ مرد کا بچہ نہیں ہو گا جو وکیل کل الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کے موقع پر نہیں آئے گا‘‘ یہ کہ مذکورہ بالا بیان سے جو آپ کے انتہائی جذباتی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کی ایک کڑی ہے عام وکلاء اور خاص طور پر جو سیاسی تحریکوں کا حصہ نہیں بننا چاہتے کیلئے سخت ذہنی کوفت کا سبب بنی ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بیان وکلاء کی آزادی رائے و آزادی الحاق کے حق کیخلاف ہونے کے علاوہ انتہائی مکروہ الزام جو قذف بھی ہو سکتا ہے کے مترادف ہے اس لئے بذریعہ نوٹس آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ آپ اپنے اس بیان کو واپس لیں اور اس پر آپ کے سینئر مرتبہ اور ماضی میں وکلاء کاز کیلئے جدوجہد کے پیش نظر آپ سے کسی قسم کی معافی کہلوانے کی بجائے صرف یہ درخواست کی جاتی ہے کہ آپ اپنے اس بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ محتاط رویہ رکھیں۔

Share

Leave a Reply