Urdu News-Online Urdu Newspaper

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News-Online Urdu Newspaper header image 2
Print This Post Print This Post

اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں‘ پردے کی اسلامی حیثیت ہے نہ حدود اﷲ کا کوئی تصور قرآن میں موجود ہے‘ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

November 6th, 2007 by Editor · No Comments;  

اسلام صرف مکمل دین ہے اسے مکمل ضابطہ حیات قرار دینا درست نہیں‘ یہ محض مولانا مودودی کی فکر تھی‘ داڑھی سنت ہے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں غیر مسلم بھی داڑھی رکھتے تھے

توہین رسالت کے قانون میں بہت کمزوریاں ہیں انہیں دور کرنے کی ضرورت ہے‘ یہ کہنا غلط ہے کہ حدود اﷲ میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی‘ ڈاکٹر خالد مسعود کی خصوصی بات چیت

اسلام آباد ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مسعود نے کہا ہے کہ اسلام مکمل ضابطہ حیات نہیں ہے یہ مولانا مودودی کی فکر تھی‘ اسلام صرف مکمل دین ہے اسے مکمل ضابطہ حیات کہنا درست نہیں اس کے معنی دوسرے ہیں‘ اسلام میں چہرے کا پردہ ہے نہ سر کا یہ محض معاشرتی رواج ہے‘ حجاب صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کیلئے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ اگرچہ داڑھی سنت ہے تاہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں داڑھی رکھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت کے قانون میں کمزوریاں ہیں ان کمزوریوں کو دور کیا جانا چاہئے اسلامی قانون کے مطابق اگر کسی کے منہ سے توہین پر مبنی الفاظ نکل گئے ہیں تو اسے توبہ کا موقع ملنا چاہئے لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حدود اﷲ کا کوئی تصور قرآن میں موجود نہیں یہ تصور فقہا حضرات کا ہے کہ مخصوص سات جرائم کو حدود اﷲ کہا جائے۔ قرآن و سنت میں کہیں بھی یہ الفاظ نہیں آئے۔ یہ کہنا کہ حدود اﷲ میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوسکتی غلط ہے یہ لوگوں کو مصیبت میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اسلام مکمل قانون ضرور ہے لیکن یہ کوئی مکمل ضابطہ حیات نہیں۔دین کو ضابطہ حیات مولانا مودودی نے قرار دیا اسلام محض ایک مکمل دین ہے مکمل ضابطہ حیات کے معنی دوسرے ہیں۔ جہاں تک سیاست اور معیشت کا تعلق ہے اس میں دین اسلام کا کردار محض مدد گار کے طور پر سمجھنا چاہئے اسلام کا اپنا کوئی نظام نہیں ہے اس کے بنیادی اصول اسلام نے دے دیئے ہیں جو بھی آپ کا کوئی دوسرا نظام ان اصولوں پر ہے سب سے بڑا اصول ان میں یہ ہے کہ آپ اﷲ کو سب سے بڑا حاکم مانیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی ذات سب سے طاقتور ہے۔ اور اس کے بعد عدل و انصاف یہ دو اصول ہیں باقی جس طرح کا نظام اس زمانے میں چیزوں کو پورا کرتا ہے وہ ٹھیک ہے۔ توہین رسالت کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر خالد نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جب اقلیت یہ سوال اٹھاتی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ توہین رسالت کا قانون صرف اقلیتوں کیلئے ہے حالانکہ وہ اس قانون کا مقصد نہیں ہے انہوں نے کہا ہمارا موقف ہے کہ توہین رسالت قانون میں موجود خامیوں کو دور کرنا چاہئے۔

اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو