اسلام آباد ۔ سپریم کورٹ نے سات ججوں کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی اور عبوری آئینی حکم کے خلاف جاری ہونے والے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سمجھا جائے گا کہ ایسا کوئی فیصلہ جاری ہی نہیں ہوا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ،جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں 8 رکنی فل کور ٹ نے منگل کو حکومت کی طرف سے دائر ہونے والی درخواست کی سماعت کے بعد حکم جاری کیا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان ملک قیوم کے مطابق فل کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ 7 ججوں نے 3 نومبر کو ایمرجنسی کے خلاف جو فیصلہ جاری کیا تھا وہ کالعدم قراردیا جاتا ہے اور ایسا سمجھا جائے گاکہ اس طرح کا کوئی فیصلہ ہوا ہی نہیں عدالت نے کہا کہ جس وقت یہ فیصلہ جاری کیا گیا ہے اس وقت عبوری آئینی حکم اور ججوں کے دوبارہ حلف کا آرڈر جاری ہوچکا تھا اور ان ججوں کو اس قسم کا حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا کیونکہ وہ جج نہیں رہے تھے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے دوسرا حکم یہ بھی دیا ہے کہ عدالت کے اگلے حکم تک پی سی او اور ایمرجنسی قائم رہ سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ عدالت میں 9 میں سے 8 جج موجود تھے جبکہ ایک جج جسٹس سعید اشہد طبیعت خراب ہونے کے باعث نہیں آسکے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ توقع ہے کہ آئندہ ہفتے سے باقاعدہ مقدمات کی سپریم کورٹ میں سماعت کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ حکومت کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ جسٹس محمد نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس محمد قائم جان، جسٹس محمد موسیٰ کے لغاری اور جسٹس محمد اعجاز یوسف شامل ہیں۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے سپریم کورٹ کے سات ججوں کے فیصلے کے خلاف درخواست پیر کو دائر کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ا٘س سات رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں خود لکھا ہے کہ میڈیا میں یہ خبریں آرہی تھیں کہ ملک میں ایمرجنسی لگنے والی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے گیارہ رکنی بینچ سے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا کہ وہ اس درخواست کو پیر کو سنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے فیصلہ دیا ا٘س وقت نہ تو وہاں پر درخواست گزار موجود تھا، نہ ہی اس بینچ نے اس ضمن میں حکومت کو نوٹسز جاری کیے تھے اور نہ ہی انہیں سنا گیا۔ ملک قیوم نے کہا کہ بدھ کے روز لاہور ہائی کورٹ کے مزید تین چار ججز حلف ا٘ٹھائیں گے۔ واضح رہے کہ برطرف کیے جانے والے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سنیچر کی رات صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل اعتزاز احسن کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دائر کی جانے درخواست پر فیصلہ سنایا تھا کہ حکومت ان درخواستوں کی سماعت تک ملک میں ایمرجنسی یا مارشل لاء نہیں لگائیں گے۔ ادھر چیف جسٹس جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے سپریم کورٹ میں مقدمات کے سماعت کے لیے تین بینچ بھی تشکیل دیے ہیں۔ ان بنچوں میں سے پہلے بینچ میں چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے علاوہ جسٹس محمد موسیٰ اور جسٹس فقیر محمد کھوکھر شامل ہیں۔ جبکہ دوسرے بنچ کی سربراہی جسٹس نواز عباسی کر رہے ہیں جبکہ اس میں جسٹس اعجاز الحسن اور جسٹس قائم جان شامل ہیں۔ تیسرا بنچ جسٹس جاوید بٹر کی سربراہی میں بنا ہے جس میں جسٹس چوہدری محمد یوسف بھی شامل ہیں۔
اس خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں





0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
You must log in to post a comment.