بینظیر بھٹو کا نظر بندی کے احکامات ماننے سے انکار

اسلام آباد ۔ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے نظر بندی کے احکامات ماننے سے انکار کردیا۔ تفصیلات کے مطابق آج جمعہ کی صبح سے ہی پولیس نے ایف ایٹ ٹو میں واقع زرداری ہاؤس کو گھیرے میں لے لیا اور بینظیر بھٹو کو باہر نہیں نکلنے دیا گیا تاہم وہ لیاقت باغ پہنچنے کیلئے زرداری ہاؤس کے عقبی دروازے سے باہر آئیں اس موقع پر پولیس نے ان کو روکنے کی کوشش کی تاہم بینظیر بھٹو نے میگا فون پر پولیس سے کہا کہ ان کے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کوئی اختلافات نہیں لہذا انہیں نہ روکا جائے جبکہ اس دوران اے سی مجسٹریٹ رانا اکبر حیات دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ان کی نظر بندی کے تحریری احکامات لے کر آئے تاہم انہوں نے وہ احکامات لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ ان احکامات کو نہیں مانتیں بعد ازاں نجی ٹی وی چینل سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران بینظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہیں گرفتار نہیں کیا گیا اور نہ ہی انہیں وارنٹ گرفتاری دکھائے گئے انہوں نے کہا کہ پولیس نے ان کے گھر کے تمام راستے بلاک کردیئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ کے باہر تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کئے گئے جنہوں نے گھر کو مکمل محاصرے میں لئے رکھا جبکہ پشاور میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر میں بھی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ پیپلز پارٹی کے رکن پارلیمنٹ راجہ جاوید اشرف نے کہا کہ پولیس نے ان کا جلسہ رکوانے کے لئے پانچ ہزار کارکنوں کو گرفتار کرلیا ہے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں و کارکنوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بینظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت کہتی ہے کہ خودکش حملہ آور راولپنڈی میں داخل ہوگئے ہیں تو انہیں گرفتار کیوں نہیں کرتی انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کا جواب دے کہ جب انہیں یہ پتہ چل جاتا ہے کہ خودکش حملہ آور شہر میں داخل ہوگئے ہیں تو وہ پھر انہیں گرفتار کیوں نہیں کرتی جبکہ تقریباً چار بجے کے قریب بینظیر بھٹو نے گھر سے باہر نکلنے کی کوشش کی اور انہوں نے کارکنوں سے میگا فون کے ذریعے خطاب کیا۔

Share

Leave a Reply