حکومت نے پرامن کارکنوں کو گرفتار کر کے ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے، بینظیر بھٹو

صدر مشرف وردی اتار دیں، ملک میں فوری انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے، ملک بچانے کیلئے وطن واپس آئی ہوں، ہمیں متحد ہو کر قائد کے پاکستان کو بچانا ہو گا، عوام ضمیر کی آواز بر باہر نکلیں، ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان میں عراق جیسی صورتحال پیدا ہو، حکومت ہمیں خودکش حملوں کی خبریں سنانے کی بجائے انہیں گرفتار کرے، پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن کا میڈیا سے خطاب

اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے اور سیاسی رہنماؤں و پرامن کارکنوں کو گرفتار کر کے ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے، پیپلز پارٹی کے 5 ہزار سے زائد رہنماؤں و کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا، ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں عراق جیسی صورتحال پیدا ہو جائے، ملک بچانے کیلئے وطن واپس آئی ہوں، ہمیں متحد ہر کر قائد کے پاکستان کو بچانا ہو گا، عوام ضمیر کی آواز پر باہر نکلیں، صدر مشرف فوری طور پر وردی اتار دیں اور فوری انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے، حکومت خودکش حملوں کی خبریں ہمیں سنانے کی بجائے انہیں گرفتار کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں زرداری ہاؤس کے باہر میگا فون کے ذریعے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ہمارے پانچ ہزار سے زائد رہنماؤں و کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے‘ حکومت ریاستی دہشت گردی پر اتر آئی ہے۔ پرامن کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ اور اس سے ریاستی دہشتگردی کا ارتکاب کیا ہے یسا لگ رہا ہے کہ پورے ملک کو پولیس سٹیٹ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں امن و امان قائم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔ قبائلی علاقوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ پہلے وزیرستان میں حالات خراب کئے گئے اب سوات میں حالات خراب ہوچکے ہیں۔ ہمارے فوجی جہاں جاتے ہیں ان کو گرفتار کرلیا جاتا ہے یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان اسلامی ملکوں میں دوسرا بڑا ملک ہے اگر پاکستان کمزور ہوتا ہے تو عالم اسلام کمزور ہوجائے گا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چار اصول ہیں۔ نمبر ایک اسلام ہمارا دین ہے۔ دو جمہوریت ہماری سیاست ہے‘ مساوات محمدیؐ اور چار عوام کی طاقت۔ انہوں نے کہا کہ میں جہاں بھی جاتی ہوں حکومت مجھے ڈراتی ہے کہ خودکش حملہ ہوگا مجھے بتانے کے بجائے حکومت ان خودکش بمباروں کو پکڑے جن کے بارے میں وہ خبریں سنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ ایجنسیوں کو معلوم ہے کہ خودکش حملہ آور کون ہیں اور وہ اس وقت کہاں ہیں مگر ان کو نہیں پکڑا جارہا۔ بینظیر بھٹو نے ایک بار پھر صدر مشرف سے کہا کہ وہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے فوری طور پر وردی اتاردیں اور فوری انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ انتہاپسند اسلام آباد میں کارروائیاں کریں۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ملک کو بچانے کیلئے وطن واپس آئی ہیں اور ہمیں متحد ہو کر قائد کے پاکستان کو بچانا ہو گا۔ بینظیر بھٹو نے کہاکہ خودکش حملہ آور بزدل ہیں اور کوئی مسلمان عورت پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے جنرل مشرف سے ملک بچانے کیلئے مذاکرات کئے اور ہم عوام کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہاکہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں عراق جیسی صورتحال پیدا ہو جائے۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ وہ عوام سے اپیل کرتی ہیں کہ وہ ضمیر کی آواز پر باہر نکلیں۔

Share

Leave a Reply