٭۔ ۔ ۔ سندھ کے 8معزول ججوں کی دوبارہ تقرری وکلاء تحریک کے دباؤ کا نتیجہ ہے لیکن افسوس کہ ان ججوں نے پرویز مشرف کے 3نومبر کے اقدام کو درست تسلیم کرلیا
٭۔ ۔ ۔ وکلاء تحریک نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں آخری منزل کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے، پارلیمنٹ کے باہر بھی دھرنا دیا جائیگا
لاہور۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سندھ ہائی کورت کے آٹھ معزول ججوں کی دوبارہ تقرری وکلاء تحریک کا نتیجہ ہے لیکن ہمیں دیکھ ہے کہ ان ججوں نے کیا حلف اٹھا کر جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر 2007ء کے اقدام کو درست تسلیم کرلیا۔ انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کے ساتھ اور ورکرز ووٹرز ہمارے ساتھ ہیں۔ اگر میں اصولوں پر سمجھوتہ کرلیتا تو یہاں سے کچھ فاصلے پر گورنر ہاؤس میں بیٹھا ہوتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملک بھر میں معزول ججوں کی بحالی کی تحریک کے سلسلہ میں سپریم کورت بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر ملک بھر میں وکلاء کے دھرنوں اور ہفتہ وار احتجاج کے سلسلہ میں لاہور ہائی کورٹ بار میں اجلاس سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بیرسٹر چودھری اعتزاز احسن نے کہاکہ پاکستان بچانے کیلئے وکلاء جدوجہد انتہائی مشکل ترین مراحل سے گذری ہے۔ ہم معزول ججوں کی دوبارہ تقرری نہیں بلکہ بحالی چاہتے ہیں۔ وکلاء تحریک نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ہم اپنی آخری منزل حاصل کرنے تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے وکلاء تحریک کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ 20جولائی 2007ء کو معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بحال ہوئے۔ 27نومبر کو جنرل پرویز مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوئے۔ 18فروری کو انتخابات کے نتیجہ میں پرویز مشرف کے حامیوں کو شکست ہوئی۔ میاں نوازشریف اور آصف علی زدراری کے درمیان معاہدہ بھوربن ہوا جس کے تحت معزول ججوں کو 30روز کے اندر بحال کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد ہم نے انتہائی کامیاب لانگ مارچ کیا پھر اسی ماہ آصف علی زرداری اور نوازشریف نے جنرل (ر) پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد 24گھنٹوں کے اندر معزول جج بحال کرنے کا معاہدہ بھی کیا۔ یہ سب وکلاء تحریک کی کامیابیوں کی بدولت ہی ہواہے۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء سوک سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی کامیاب لانگ مارچ کے موقع پر کچھ لوگ پارلیمنٹ پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن ہم نے انہیں پرامن رکھا۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہاکہ اس موقع پر اگر معزول ججوں کو کندھوں پر بٹھا کر سپریم کورٹ لے جاتے تو نہ معزول جج رہتے اور نہ ہی وکلاء تحریک۔ شیر افگن کو بھی ہم نے ہی بچایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دھرنوں کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے بھی بڑا دھرنا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری کے ساتھ ہیں لیکن ووٹر اور سپورٹر ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جن ججوں نے دوبارہ ملازمت حاصل کی ہے وہ بھی وکلاء تحریک کا ہی نتیجہ ہے تاہم ان ججوں نے پرویز مشرف کے تین نومبر کے اقدام کو درست تسلیم کرلیا ہے جس پر مجھے افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر میں بھی اصولوں پر سمجھوتہ کرلیتا تو آج یہاں سے کچھ فاصلے پر گورنر ہاؤس میں بیٹھا ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام 10سے 12اکتوبر تک بین الاقوامی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہوگی جس کا افتتاح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے جسٹس افتخار محمد چودھری کے گھر کے باہر کھرے ہوکر اپنا چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نہیں بلکہ جسٹس افتخار محمد چودھری کو کہا تھا لیکن پیپلز پارٹی اپنی لیڈر کے راستے سے ہٹ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہیتھرو کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے جبکہ 17نومبر کو نیویارک بار انہیں تاحیات اپنا ممبر بنانے کا اعلان کرے گی۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment