سیکورٹی فورسز پر حملوں اور سرکاری عمارتوں کو تباہ کرنے کے واقعات پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔ نجی ٹی وی سے گفتگو
پشاور۔ وزیراعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سیکورٹی فورسز پر حملوں اور سرکاری عمارتوں کو تباہ کرنے کے واقعات پر خاموش نہیں رہ سکتے ۔ شدت پسندوں نے ہتھیار پھینک بھی د ئیے تو بھی انہیں عام معافی نہیں دی جائے گی ۔ ایک نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوات میں مذاکرات میں ناکامی کی ذمہ داری حکومت پر نہیں دوسرے فریق پر عائد ہوتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر سیکورٹی فورسز پر حملے کیے جائیں ، اسکول اور سرکاری عمارتیںتباہ کی جائیں تو حکومت کسی بھی طرح سے خاموش نہیں رہ سکتیں اور اسی لیے فوج کو علاقے میں طلب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر شدت پسندوں نے ہتھیار پھینک بھی دئیے تو انہیں عام معافی نہیں دی جائے گی ۔ البتہ چھوٹے جرائم میں ملوث افراد کو معاف کیا جا سکتا ہے ، دیگر جرائم میں ملوث افراد کا فیصلہ عدالتیں کریں گی ۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ہم اب بھی عدم تشدد کے فلسفے پر قائم ہیںلیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پورے صوبے کو طالبان کے حوالے کردیا جائے انہوں نے بتایا کہ قبائلی علاقوں میں غیر ملکی طالبان موجود ہیں جنہوں نے علاقے کا امن تباہ کر رکھا ہے ۔ گورنر سرحد کی تبدیلی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ گورنر اویس غنی بہترین گورنر ہیںا ورو ہ نہیں چاہتے کہ گورنر کو تبدیل کیا جائے ۔ نئے صدر کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی پارٹیوں کو متفقہ طور پر صدر منتخب کرنا چاہیئے اور نیا صدر ایسا ہونا چاہیئے جو تمام صوبوں کے ساتھ انصاف کرے ۔
ہتھیار ڈالنے والوں کو بھی معافی نہیں ملے گی ۔ وزیر اعلیٰ سرحد امیر حیدر خان ہوتی
August 21st, 2008 · No Comments; 3 months ago
Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News | Amir Haidar Khan hoti, chief minister sarhad, sarhad

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment