Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

میری پارٹی سمجھتی ہے کہ افتخار محمد چوہدری سیاسی ہوچکے ہیں ۔ آصف علی زرداری

August 24th, 2008 · No Comments;  3 months ago

صدر پرویز مشرف کے استعفے کا دن یادگار دن تھاخصوصا ان قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقین اور اسی کو بہترین بدلہ سمجھتی ہیں

صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی

سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آئندہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے

ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیکن میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ریلیوں کی قیادت کرنے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں

پاکستان کا صدر بننے کے بارے سوچا بھی نہ تھا کیونکہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں ان کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر بننے کا نہیں سوچ سکتا تھا

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا ’’نیوز ویک ‘‘ کو انٹرویو

اسلام آباد۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے استعفے کا دن یادگار دن تھاخصوصا ان قوتوں کے لیے جوجمہوریت پر یقین اور اسی کو بہترین بدلہ سمجھتی ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آئندہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ۔ ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیکن میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ریلیوں کی قیادت کرنے کے بعد سیاسی ہوچکے ہیں۔ پاکستان کا صدر بننے کے بارے سوچا بھی نہ تھا کیونکہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں ان کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر بننے کا نہیں سوچ سکتا تھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی اخبار’’نیوز ویک‘‘ کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا ۔آصف علی زرداری نے کہاکہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کا دن یادگار دن تھاخصوصا ہم جیسی قوتوں کے لیے جوجمہوریت کو بہترین بدلہ سمجھتے ہیں صدر پرویز مشرف کے ملک میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات عام طورپر سمجھی جا رہی ہے کہ ہم کسی بھی محاذ آرائی مین نہیں پڑنا چاہتے اور نہ ہی پرویز مشرف کے خلاف کچھ کررہے ہیں کیونکہ ہم جمہوریت کی مکمل منتقلی چاہتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو ملک میں کیوں نہیں رہنا چاہیے ہم ان کے پاکستان میں رہنے کو خوش آمدید کہتے ہیں انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے پارلیمنٹ طے کرے گی ا ور ہر کسی کو علم ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں ہے آصف علی زرداری نے کہاکہ سابق صدر کے خلاف عدالتی کارروائی کے بارے میں آئندہ صدر طے کرے گا اوروہی اس کو معافی بھی دے سکتا ہے ان کاکہنا تھا کہ ہم نے یہ جنگ جمہوریت کے لیے لڑی ہے اور جو طاقتیں پرویز مشرف استعمال کرتے رہے ہیں وہ سب غیر جمہوری تھیں اس بات کی بحث پارلیمنٹ میں ہو گی اور وہی طے کرے گی کہ آئندہ صدر کے پاس کتنے اختیارات ہونے چاہئیں اور وزیراعظم کو کس طرح بااختیار بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میرے خیال میںصدر کے پاس اسمبلی کو تحلیل کرنے کے اختیارات نہیں ہونے چاہئیں ۔ا نہوں نے کہا کہ آئندہ صدر کا زیادہ تر رسمی کردار ہو گا۔ پارلیمنٹ بااختیار ہے اور اس وقت پاکستان کو جمہوریت کی طرف لے جانے کے بارے میں سوچنا چاہیے جو ملکی مفاد فرد واحد سے زیادہ ا ہم ہے انہوں نے کہاکہ مجھے امید ہے کہ ہمارا اتحاد نواز شریف کے ساتھ قائم رہے گا اور میںا ن تمام مسائل میں جن کا ہمیں سامنا ہے دوسروں کو حصہ دار بتانا چاہتا ہوں کیونکہ ہمیں مستحکم پاکستان اچھی حالت میں معیشت اور سرحدوں پر کوئی اچھی صورت حال ورثے میں نہیں ملی ان تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک مفاہمت کی بنیاد پر قائم حکومت کی ضرورت ہے ۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی حمایت میں ہوں لیکن میری پارٹی سمجھتی ہے کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے ریلیوں کی قیادت کرنے کے بعد وہ سیاسی ہوچکے ہیں انہوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے استعفے کے بعد پاک امریکہ تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ امریکہ کا فوجی جنرل کے ساتھ تجربہ ناکام ہو چکاہے اس لیے امریکہ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ جمہوری قوتوں کی حمایت کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ مسائل کی وجہ سے موجودہ عوامی حکومت کمزور ہو گی لیکن ہم اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے اور ترقی کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ سفر ہے جس سے ملک اور عوام ایک مضبوط جمہوریت قائم کر سکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جو خلا پیدا ہوا اس کی وجہ سیملک کے اندر موجودہ صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں کہا تھا کہ میری موت تبدیلی کے لیے عمل انگیز کا کام کرے گی انہوں نے کہاکہ پرویز مشرف نے بے نظیر بھٹو کو مطلوبہ سیکورٹی فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے وہ ان کی شہادت کے ذمہ دار ہیں لیکن میں پرویز مشرف پرالزام نہیںلگاتا بلکہ میں اس کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بے نظیر کی تحقیقات میں دخل دینے کی ضرورت ہے لیکن ہم کسی شخص کو سزا دلوانے کے حق میں نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم ایک نیا اور جمہوری پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی جمہوریت کے لیے جدوجہد تھی اور اگر جمہوریت اپنی اصل شکل میں آجاتی ہے تو یہ بے نظیر کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی بھی پاکستان کا صدر بننے کے بارے میں نہیں سوچا تھا کیونکہ بے نظیر بھٹو کی موجودگی میں ان کی پارٹی کا کوئی بھی شخص لیڈر بننے کا نہیں سوچ سکتا تھا مجھے اس عہدے کے لیے صرف بے نظیر بھٹو کے بعد پیدا شدہ خلا کی وجہ سے منتخب کیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ پرویز مشرف ملک میں ہی رہیںاور ہمیں دیکھیں کہ ہم کس طرح ملک کو کامیابی کی طرف لے کر جاتے ہیں اور یہی بے نظیر بھٹو کی شہادت کا اصل بدلہ ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ میں سمجھتا ہوں کہ فوج اپنے دائرہ کار میں رہے گی اور آئین کا احترام کریگی کیونکہ انہوں نے کہا کہ ان کا کام حکومت کرنا نہیں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ فوج نے عوامی حکومت کا احترام کریں گے اگر فوج کی مداخلت ہوتیتو پرویز مشرف بھی موجود ہوتے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سفارتخانے پر حملے میں آئی ایس آئی کی مداخلت کی پاکستان تردید کر چکا ہے آئی ایس آئی اس قسم کے کسی حملے میں ملوث نہیں ہے اور آئی ایس آئی کو کنٹرول کیا جا رہا ہے کیونکہ آئی ایس آئی ریاست کا حصہ ہے انہوںنے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ آئی ایس آئی ماضی میں مسئلہ نہیں تھی لیکن ہرکوئی اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت گزشتہ پانچ سالوں کی حکومت سے زیادہ مستحکم ہے کیونکہ مغربی حکومتوں کو اتحادی حکومت کے ساتھ کام کرنے کا ابھی کم وقت ملا ہے لیکن اگر آپ بھارتی تجربے کو دیکھیں توآپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں سترہ جماعتیں اتحاد میں موجود ہیں اس لیے چار یا پانچ جماعتوں کے اتحاد کو ہم قائم رکھ سکیں گے انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی قسم کا عدم استحکام پیدا نہیں ہوگا۔ ا ور نہ ہی کوئی نئے انتخابات ہوں گے اور اگر نئے انتخابات ہوئے تو ہر کوئی اس میں حصہ لے گا اگر کوئی جماعت پیپلزپارٹی سے زیادہ مقبول ہے تو اسے حکومت کرنے کا حق ہے اوراگر نہیں تو ہم حکومت بنائیں گے انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ہیں یہ جنگ پاکستان کے خلاف جنگ ہے اور یہ جنگ ہماری سرزمین پر ہے اس جنگ میں ہمارے بچے ‘لڑکے مر رہے ہیں ‘بے گھر ہو رہے ہیں اور ہماری بیٹیاں جو بے گھر ہوگئی ہیں ا س لیے ہم اپنی سرزمین کی حفاظت کریں گے ۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بے نظیر بھٹو کی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف پرویز مشرف نہیں بلکہ یہ اس وقت بھی بہت بڑھ گئی تھی جب ہماری گزشتہ حکومت قائم تھی لیکن یہ اس لیے پھیلی کیونکہ جمہوری قوتیں ملک میں موجود نہ تھیں اوردہشت گردی کے خلاف جنگ میں تو پوری دنیا پرویز مشرف کے ساتھ تھی اس لیے وہ تمام اس کے ذمہ دار ہیں انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہر کوئی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہوا ہے اس لیے ہمیںدہشت گردی کی اصل وجوہات ڈھونڈنے کی ضرورت ہے جو جمہوریت جمہوری سوچ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے ایک آمرانہ ذہن یہ نہیں کرسکتا۔

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News |



اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو