جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نیا حلف دینا چاہتے ہیں،آئین کے تحت معزول ججوں کی بحالی کے لیے نیا حلف لینا ضروری ہے
آصف علی زرداری نے کوئی معاہدہ نہیں وڑا ،نواز شریف اتحاد میں واپس آ جاہیں
وزیر قانون کی پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد ۔ وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے کہا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر پی سی اُو جج نہیں ہیں آئین کے مطابق وہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔جسٹس افتخار محمد چوہدری کو نیا حلف دینا چاہتے ہیں،آئین کے تحت معزول ججوں کی بحالی کے لیے نیا حلف لینا ضروری ہے۔آصف علی زرداری نے کوئی معاہدہ نہیںتوڑا ،نواز شریف اتحاد میں واپس آ جاہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج بدھ کی رات پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا۔وزیر قانون نے کہا کہ آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف یا قوم کے ساتھ کیا گیا کوئی معاہدہ نہیں توڑا ،قرآن پر وعدہ کے بارے مجھے کوئی علم نہیں میں اس دوران وہاں موجود نہیں تھا انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے جوڈیشل کنٹریکٹ کی بات ہوئی تھی جس کے تحت آج جج بحال ہو گئے ہیں دیگرجو جج بحال ہونا چاہتے ہیں وہ اس جوڈیشل کنٹریکٹ پر بحال ہونے کے لیے حلف اٹھا سکتے ہیں ۔وکلاء بہتر سمجھتے ہیں کہ جوڈیشل کنٹریکٹ کیا ہوتا ہے ۔وکلاء سے کہا ہے کہ وہ اگر سیاست کرنا چاہتے ہیں تو سٹرکوں پر آئیں اگر وہ آئینی بحران حل کرنا چاہتے ہیں تو بات چیت کا راستہ لیں۔انہوں نے کہا کہ ہم آئین کے مطابق ججز کی بحالی چاہتے ہیں ،اور آئین کے مطابق معزول ججوں کو دوبارہ حلف لینا ہو گا ۔ایک سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تمام ججوں کو بحال ہو کر آئینی بحران ختم ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق جسٹس افتخار محمد چوہدری کو دوبارہ حلف لینا ہوگا ،ایک اور سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر پی سی اُو جج نہیں ہیں اس وقت آئین اور قانون کے تحت وہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہیں ۔ایک اور سوال کے جواب میں فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آصف علی زرداری نے اعلان مری سمیت کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ہماری نوازشریف سے اب بھی اپیل ہے کہ وہ اتحاد میں واپس آئیں

































1 response so far ↓
1 urdu , urdunews, urdunewspaper, newsurdu, online urdunews, ماہ اگست ٢٠٠٨ کا تصویری اخبار // Aug 31, 2008 at 10:41 pm
[...] جسٹس عبدالحمید ڈوگر چیف جسٹس ہیں [...]
Leave a Comment