عیسائیوں کے خلاف ہندوؤں کے حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی
نئی دہلی ۔ بھارت کی ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں پر تازہ حملوں میں مزید تین افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ ہندو انتہا پسندوں نے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد گرجا گھروں کو تباہ جبکہ اقلیتی فرقے کے رہائشی مکانوں کو نذر آتش کر دیا۔ اڑیسہ میں ہندوؤں اور عیسائیوں کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس کے بعد ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ریاست کے 11 شہروں اور قصبوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ اڑیسہ پولیس کے انسپکٹر جنرل پردیپ کپور نے صحافیوں کو بتایا کہ کندھامل ضلع میں متحارب فرقے کے لوگوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد ریاست کے دیگر علاقوں میں بھی فسادات شروع ہو گئے ہیں۔ حکام نے کہا کہ کئی مقامات پر لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا جن میں بیشتر عیسائی تھے۔ پولیس نے ہلاکتوں میں اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور کئی مقامات پر ملبہ تلے بڑی تعداد میں لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ اڑیسہ میں ایک ہندو انتہا پسند رہنما کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے عیسائی عبادت گاہوں اور شہریوں پر منظم انداز میں حملے شروع کئے ہیں

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment