باہم صلاح مشورے سے ایسے صدر کا انتخاب کریں گے جس پر قومی اتفاق رائے ہو
١٥ دن قبل یہ بات طے ہوئی تھی کہ صدرکے مواخذے یا استعفیٰ کے بعد جج بحال ہو جائیں گے
زرداری کے ساتھ ہماری مضبوط کمٹمنٹ تھی کہ جج دوسرے ہی روز بحال ہو جائیں گے
ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں کہ ہم ازخود ججوں کو بحال کر دیں ‘ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ ہے ججز کی بحالی
زرداری کے ساتھ تین معاہدے ہوئے ہیں بلکہ آخری کی تو سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی ‘ مسلم لیگ ( ن ) کے قائد کا ’’ وائس آف امریکہ ‘‘ کو انٹرویو
واشنگٹن ۔ مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ نواز شریف نے کہا کہ سابق صدر مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، لیکن ان سے آئین توڑنے اور قانون کی دوسری خلاف ورزیوں کا حساب لینے والا کوئی تو ہونا چاہیئے۔ ’’ وائس آف امریکہ ‘‘ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگلا صدر کون بن رہا ہے؟ کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ صدر کون بن رہا ہے، ابھی ہم یہاں تک نہیں پہنچے۔ یہ باتیں ابتدا میں ہوئی تھیں، جب مواخذے کی بحث شروع ہوئی تھی، آج سے کوئی 15 دن پہلے۔ لیکن اس وقت یہ ضرور طے ہوا تھا کہ صدر کے مواخذے یا استعفے کے بعد جج بحال ہو جائیں گے۔اب جب کہ مشرف صاحب نے استعفیٰ دے دیا ہے تو ججوں کی بحالی کا یہی وقت ہے۔ ہمارا خیال تھا کہ اب تک بحال ہو جانا چاہیئے تھا لیکن ابھی تک وہ بحال نہیں ہوئے۔ اس سوال پر کہ اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کے رہنما کیا کہتے ہیں؟ پر نواز شریف نے کہا کہ زرداری سے دو دن قبل گفتگو ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں دو مزید اتحادی رہنماؤں اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمٰن سے بھی بات ہوئی ہے۔ ان دونوں نے کہا ہے کہ ہمیں 72 گھنٹے کا وقت دیں، تاکہ ہم کوئی راستہ نکال سکیں۔ زرداری کی ہمارے ساتھ بڑی مضبوط کمٹمنٹ تھی کہ جج دوسرے ہی روز بحال ہو جائیں گے۔اس سوال پر کہ اب آصف زرداری صاحب کا کیا کہنا ہے؟نواز شریف نے کہا کہ اگرچہ معاہدہ بڑا صاف ہے، لیکن زرداری اس سلسلے میں واضح نہیں ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا گیا کہ مشرف کے مواخذے کے سلسلے میں بھی آپ کے اور پیپلز پارٹی کے اختلافات ہیں؟ کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ہماری مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی ہے اور نہ ہی یہ ذاتیات کا مسئلہ ہے۔ لیکن کم از کم اس چیز کا تو احتساب ہونا چاہیئے کہ جج کیوں گرفتار کیے گئے؟ پارلیمنٹ کیوں ٹوٹی؟ دو مرتبہ آئین کیوں ٹوٹا؟ اداروں کو کیوں برباد کیا گیا؟ ملک میں کوئی تو ہو جو اس سوال کا جواب دے۔ اس سوال پر کہ صدارت کا منصب 30 دن کے اندر اندر پْر ہونا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کی کیا گفتگو ہو رہی ہے؟کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ہم باہم صلاح مشورے سے کسی شخص کا فیصلہ کریں گے۔ اور وہ شخص ایسا ہو گا جس پر قومی اتفاقِ رائے ہو۔ ججوں کی بحالی کے مسئلے پر نواز شریف نے کہا کہ دیکھیئے، ہمارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ہم از خود ججوں کو بحال کر دیں۔ ہم نے پیپلزپارٹی کو صرف اسی ایک نکتے پر تعاون کی پیش کش کی تھی۔ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے، اور وہ ہے ججوں کی بحالی۔ ججوں کا بحال نہ ہونا ہمارے لیے پریشان کن ہے۔ اس سوال پر کہ کیا پیپلز پارٹی کے لیت و لعل کا باعث این آر او ہے؟ کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، لیکن زرداری کے ساتھ ہمارے تین معاہدے ہو چکے ہیں۔ بلکہ آخری معاہدے کی تو سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی، اسے دس دن ہوئے ہیں۔ اگر تین معاہدے ہو چکے ہیں تو پھر انھیں ہر قیمت پر پورا ہونا چاہیئے۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment