عوامی قوت کی وجہ سے پرویز مشرف مستعفی ہوئے ۔ نواز شریف
صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان عجلت میں بغیر مشاورت کے کیا گیا ہے ۔ یہ اعلان قبل از وقت ہے۔
جماعتوں کے درمیان معاہدے اور دستاویز مقدس ہوتی ہیں ،معاہدے پر میرے اور آصف علی زرداری کے دستخط موجود ہیں
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد کی پیپلزپارٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ
رائے ونڈ ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حکمران اتحاد کی بقا کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کو پیر تک ججز کی بحالی کا روڈ میپ دے دیا۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ عوامی قوت کی وجہ سے پرویز مشرف مستعفی ہوئے۔ صدارتی انتخاب کا شیڈول عجلت میں جاری کیا گیا ۔ یہ اعلان قبل از وقت ہے۔ ’’ حصول اقتدار ‘‘ نہیں ’’ اقدار‘‘ کا شو ق ہے۔ پی پی پی کے وفد سے ملاقات کے بعد یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ۔نواز شریف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے وفد نے صدر کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی حمایت کے لیے بات کی۔ اس سلسلے میں وہ ہم سے تعاون چاہتے ہیں ہم نے 5اور 7 اگست کے معاہدے انہیں یاد دلائے کہ اس کی رو سے آگے چلنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعتوں کے درمیان معاہدے اور ان کی دستاویز مقدس ہوتی ہیں معاہدے کے گواہ بھی اور میرے اور آصف علی زرداری کے دستخط بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعلان مری سے ایفاء نہیں کیا گیا تھا۔ 7 اگست کو تیسر امعاہدہ ہوا انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں قبل طے پانے والے ان معاہدہ کے تحت صدر پرویز مشرف کے استعفی یا مواخذہ دونوں صورتوں میں 24 گھنٹوں میں ججز کو بحال ہونا تھا اس معاہدے میں درج سے ججز کی بحالی کے بعد آئندہ صدر کے انتخاب سے سترہویں ترمیم کو آئین سے دور کرنا تھا۔ جس کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی صدر کے عہدے کے لیے جسے نامزد کرے گی چاروں اتحادیوں کا اس سے اتفاق رائے ہو گا۔ معاہدے کے مطابق ایسا نہ ہوا اور سترہویں ترمیم آئین سے دو رنہ کیا جا سکا تھا یہی اتفاق رائے ہوا کہ پورے ملک میں ایسا قومی رہنما جو ملک بھر کی نمائندگی کرتے ہوں ۔ وفاق کی علامت نظر آئیں جس کی کوئی سیاسی وابستگی نہ ہو کو صدر بنانے پر چاروں اتحادیوں کے درمیان اتفاق رائے ہے دونوں جماعتیں معاہدے کی پابند ہوں گی ۔نواز شریف پاکستان میںسیاسی استحکام کا مسئلہ ہے پاکستان کا معاملہ ہے 9,8 سالوں سے پاکستان اور اس کے اداروں کو تباہ کردیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ نہ میں اور نہ پاکستان مسلم لیگ (ن) صدر کے عہدے کی خواہش رکھتی ہے اگر دیکھا جائے تو بڑے اتحادی ہونے کے ناطے اس پر ہمارا حق ہے کیونکہ وزارت عظمی ، سپیکر قومی اسمبلی کاتعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے ۔ ملک کے وسیع تر مفاد میں صدارتی عہدہ طلب کیا تھا۔ ہم اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں ۔ کیونکہ دو متحارب جماعتوں کا اتحاد پاکستان کی سلامتی کی ضمانت ہے ۔ دو طرفہ تعاون ہونا چاہیے ہم نے تیس دنوں میں ججز کی بحلای کا اعلان کیا تھا لیکن اعلان مری کو پانچواں ماہ شروع ہو چکا ہے ۔ بار بار اتفاق کیا کہ ججز کو بحال کیا جائے ۔ آزا د عدلیہ سے پاکستان اور آنے والی نسلوں کا مستقبل وابستہ ہے ۔ آئین قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ ہمارے مقصد ہے تاکہ اگر کل کو کوئی طالعآزما آنے کی جرات کر تو آزاد عدلیہ آئین قانون کو قائم کرتے ہوئے اس طالع آزما کو عبرت ناک سزا دی جائے ۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو وزارت عظمی صدارت ، کابینہ کسی کا لالچ نہین ہے۔ حصول اقتدار کا نہیں ، اقدار کا شوق ہے کیونکہ طالع آزما نے پاکستان کے ماضی ، حال ، مستقبل کو تاریک کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل کو تاریک کردیا ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل کو نہ بچایا گیا تو پھر کوئی طالع آزما آئین قانون کو توڑ کر جمہوریت کی بساط لپیٹ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہوتی تو قبائلی علاقوں کی یہ صورت حال نہ ہوتی جہموریت میںاحسن طریقے سے ہر معاملے کو حل کیا جاتا ہے امریت کیونکہ خلا میں ہوتی ہے اس لیے وہ تباہی لے کر آتی ہے انہوں نے کہا کہ ملک آئینی ڈگر پر ہوتا تو کبھی مشرقی پاکستان نہ ٹوٹتا وقت بھی عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا گیا تھا ۔ ہم نہیں چاہتے کہ ملک خطرات سے دوچار ہو نہ یہ چاہتے ہیں کہ بار بار اسمبلیاں آئین قانون عدلیہ ٹوٹے ۔ کوئی دوبارہ عدلیہ کو برطرف اور ججز کو گرفتار نہ کر سکے ۔ 34 سالوں میں طالع آزماؤں کا اور قوم کے ساتھ مذاق تھا۔ پاکستان مزید تباہی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہم جو کہہ رہے ہیں یہی وہ راستہ ہے پاکستان کو بچا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کے تحت اگر آصف علی زرداری کے پاس اختیارات ہوتے تو ہمیں اس سے کوئی خوف نہیں ہے ۔ ہم وزیراعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات کی بحالی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیر کو ججز کی بحالی ہونی چاہیے پیر کی شام ججز کی بحالی کا ایگزیکٹو آرڈر جاری ہونا چاہیے اور رات کو ججز کو بحال ہو جانا چاہیے یہی روڈ میپ پاکستان پیپلزپارٹی کو دیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرف نے عوامی قوت کی وجہ سے استعفی دیا ۔ جو کہ عوام کے اٹھارہ فروری کو ہار گیا تھا۔ عوامی قوت کے علاوہ ہم کسی دوسری قوت کو نہیں جانتے ہمارے موقف میں کمزوری ہوتی تو پرویز مشرف کبھی مستعفی نہ ہوتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پانچ اور سات اگست کے معاہدے کی دستاویز خفیہ ہیں اخلاقی تقاضا ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے شیڈول کے بارے میں ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا جلدی میں صدارتی انتخاب کے شیڈول کا اعلان کیا گیاانہوں نے کہا کہ آئندہ کے اعلان کے حوالے سے وہ پارٹی کو اعتماد میں لیں گے۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment