گیلانی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت پڑی تو اپوزیشن میں بیٹھیں گے
اگر سیاست میں اصول او ر کردار کی کوئی حیثیت نہیں تو ایسی سیاست زرداری کو مبارک ہو
اگر پیپلز پارٹی سے صلح کر سکتے ہیں تو (ق) لیگ سے بھی ممکن ہے تاہم چوہدری برادرران سے کوئی امکان نہیں
فوج اگر احترام چاہتی ہے تو اسے بھی آئینی کردار ادا کرنا چاہیے
دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف مذاکرات سے ہی جیتی جا سکتی ہے امریکہ کو ہماری بات سے متفق ہو نا پڑے گا، قائد مسلم لیگ (ن) کا امریکی ہفت روزہ کو انٹرویو
واشنگٹن ۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر یوسف رضا گیلانی کو اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت پڑی تو وہ اپوزیشن میں بیٹھیں گے۔ ایک امریکی ہفت روزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری نے چار وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ چار بار ہمیں قتل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاست میں اصول اور کردار کی کوئی حیثیت نہیں تو ایسی سیاست آصف علی زرداری کو مبارک ہو ہم اصول پسند اپوزیشن کا کردار نبھائیں گے۔ یوسف رضا گیلانی کو دوبارہ اعتماد کو ووٹ دینے کے حوالے سے ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج اگر احترام چاہتی تو اسے بھی آئینی کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن سابق صدر پرویز مشرف کو گارڈ آف آنر پیش کر کے قوم کو تکلیف پہنچائی گئی۔ دہشت گردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ صرف مذاکرات سے ہی جیتی جا سکتی ہے آئرلینڈ اس کی بہترین مثال ہے اور ہم یہی امریکی دانشوروں کو اور میڈیا کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوجی کارروائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور آخر کار امریکہ کو ہماری بات سے متفق ہونا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم پیپلز پارٹی سے صلح کر سکتے ہیں تو قاف لیگ سے بھی ممکن ہے جو اصولوں کی حمایت کرے گا ہم اسے قبول کریں گے تاہم چوہدری برادرن سے صلح کا کوئی امکان نہیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کو استعفیٰ دینے کے لیے جن قوتوں نے مجبور کیا وہ پاکستانی عوام ہیں

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment