Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

سیاسی و معاشی مسائل جوں کے توں ، اسٹاک انڈیکس اور روپیہ بدستور گراوٹ کا شکار اور سونا مزید مہنگا

August 22nd, 2008 · No Comments;  3 months ago

عدلیہ بحالی کی ایک اور ڈیڈ لائن اور متزلزل حکمراں اتحاد اسٹاک منڈیوں میں غیر یقینی کا باعث ہے۔۔۔سرمایہ کار

٦ برسوں تک تیزی کی حامل اسٹاک منڈی ایشیاء کی تیسری بدترین کارکردگی کی حامل مارکیٹ میں شمار

کراچی۔ ملک میں عدلیہ بحالی کی ایک اور ڈیڈ لائن اور متزلزل حکمراں اتحاد کی خبروں سے کراچی اسٹاک ایکس چینج 100 انڈیکس میں 3 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔کاروباری ہفتے کے آخری روز سیاسی مستقبل کے حوالے سے بے یقینی پر نہ صرف روپیہ تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا بلکہ اس بے یقینی کے پس منظر میں سرمایہ کاروں کی جانب سے پرکشش کمپنیوں کے حصص کی فروخت بھی کی گئی۔کراچی اسٹاک ایکس چینج کے ایس ای 100 انڈیکس میں جمعے کو 3.02 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد انڈیکس 10 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی سطح سے گرکر 9907.26 پوائنٹس کی سطح پر دیکھا گیا تاہم بعد میں انڈیکس میں کچھ بہتری ہوئی اور 0.8 فیصد کی مجموعی بہتری کے بعد انڈیکس کا انقطاع 9993.81 پوائنٹس پر ہوا۔سرمایہ کاروں کے مطابق جمعہ کو ڈالر کے مقابلے میں روپے میں تاریخی گراوٹ ریکارڈ ہوئی جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید کمی ہوئی ہے۔ملک کی سیاسی صورتحال کے باعث حکومت نے معاشی مسائل سے صرف نظر اختیار کیا ہوا ہے جس سے منڈیوںسے غیر ملکی سرمائے کا انخلاء ہورہا ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ میں ٹریڈر ساجد بھانجی کے مطابق ملک میں روز بروز زوال پذیر معاشی صورتحال سے حکمرانوں نے صرف نظر اختیار کیا ہوا ہے جبکہ اسٹاک منڈیوں میں غیر ملکی سرمایہ کار حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت کررہے ہیں جس سے یہاں فروخت کا دباؤجنم لے رہا ہے۔جمعہ کو ججز کی بحالی کے سلسلے میں ایک اور ڈیڈ لائن کے اعلان سے جہاں حکومت کا مستقبل بے یقینی کا شکار ہوگیا ہے وہیں روپیہ بھی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی گراوٹ کا شکار ہوا اور یہ 77 روپے15 پیسے کی کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔کمپنیوں کے مالیاتی نتائج توقعات کے برعکس رپورٹ ہورہے ہیں جو ملک میں بے یقینی کی صورتحال کا شکار ہیں۔کراچی اسٹاک مارکیٹ 2007ء تک مسلسل 6 برسوں تک ایشیاء کی بہترین اسٹاک مارکیٹ شمار کی گئی تاہم رواں برس یہاں مجموعی طور پر انڈیکس 30 فیصد گراوٹ کا شکار ہوچکا ہے اور چین و ویتنام کے بعد کراچی اسٹاک ایکس چینج تیسری بدترین اسٹاک مارکیٹ گردانی جارہی ہے۔سرمایہ کاروں کی جانب سے صدر مملکت کا استعفیٰ تمام سیاسی مسائل کا حل سمجھا جارہا تھا تاہم صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے اور اسٹاک منڈیوں میں نجات دہندہ کی امید کی جارہی ہے۔سابق صدر مملکت پرویز مشرف کے دور میں پاکستانی معیشت بہترین شرح نمو کی حامل رہی تاہم اب یہاں مالیاتی و تجارتی خسارے توسیع پذیری کا شکار اور افراط زر کی شرح پاکستان میں گزشتہ 3 دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔کراچی اسٹاک ایکس چینج میں جمعہ کو نمایاں کمپنیوں میں او جی ڈی سی ایل کے حصص 3روپے22پیسے کمی سے 108روپے20پیسے رہے دیگر نمایاں کمپنیوں میں زیل پاک کے حصص 9پیسے کی کمی سے 1روپے40پیسے، نیشنل بنک آف پاکستان کے حصص 5روپے70پیسے کمی سے 108روپے48پیسے، نمر انڈسٹریل کیمیکلز کے حصص 27پیسے کی کمی سے 2روپے18پیسے اور عارف حبیب سیکیورٹیز کے حصص 5روپے71پیسے کمی سے 108روپے65پیسے رہے جبکہ حصص کے کاروبار کے لحاظ سے او جی ڈی سی ایل سرفہرست رہا جس کے 1کروڑ44 لاکھ38ہزار7 سو حصص کا کاروبار ہوا۔

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News , business | , , , , , ,



اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو