وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے اعتماد میں لینے کی کوشش
چوہدری شجاعت سے ٹیلی فون پر گفتگو، شہباز شریف، احسن اقبال، چوہدری نثار علی خان،میر ظفراللہ خان جمالی سے ملاقات
یوسف رضا گیلانی نے چوہدری شجاعت سے آصف علی زرداری کی حمایت کرنے کی درخواست کر دی
چوہدری شجاعت نے پنجاب میں وزارت اعلیٰ مانگ لی۔ ۔ ۔ ذرائع
چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کو واضح کر دیا ہے اب کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی تاہم مشروط طور پر دوبارہ اتحاد میں آ سکتے ہیں
آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں اس دوران اہم تبدیلیاں متوقع ہیں
پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب سے پہلے تمام معزول ججز بحال کر دیتی ہے تو صدارتی انتخاب میں ن لیگ آصف زر داری کی حمایت سمیت واپس اتحاد میں آ سکتی ہے
چوہدری نثار علی خان کی میڈیا سے گفتگو
اسلام آباد ۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے آصف علی زرداری کی صدارتی مہم تیز کر دی ہے اس سلسلے میں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے جمعرات کو اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں اور انھیں اعتماد میں لینے کی کوشش کی ہے ۔سید یوسف رضا گیلانی نے چوہدری شجاعت حسین سے ٹیلی فون پر جبکہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف اور سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال ،چو ہدری نثار علی خان اور میر ظفراللہ خان جمالی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت سے ٹیلیفون پرگفتگو کرکے صدارتی انتخاب میں آصف زرداری کی حمایت کی درخواست کی ہے جس کو مسلم لیگ ق نے منظور کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔مسلم لیگ ق کی خواہش ہے کہ پنجاب میں اتحادی حکومت ہو جبکہ وہ مرکز میں پی پی کی حمایت کرے گی۔ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ مسلم لیگ ق نے پنجاب میں وزارت اعلیٰ کی خواہش کااظہار کیاہے ۔ذرائع نے یہ بھی بتایاہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پاگیا تو مشاہد حسین پی پی کے حق میں دستبردا ر ہوجائیں گے۔تاہم مسلم لیگ ق کے ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے چوہدری شجاعت حسین سے درخواست تو کی کہ مسلم لیگ ق اپنے صدارتی امید وار مشاہد حسین سید کو آصف علی زر داری کی حمایت میں دستبردار کر ے تاہم چوہدری شجاعت حسین کا کہنا ہے کہ مشاہد حسین سید کی نامزدگی پارٹی کا فیصلہ ہے اور ان کی دستبرداری بھی پارٹی کی مرضی سے ممکن ہے تاہم وزیر اعظم ہاؤس کے ترجمان وزیر اعظم کے چوہدری شجاعت حسین کو ٹیلی فون کرنے کی تردید کی۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی لاہور ایئرپورٹ پر پہنچے تو یہاں ان کے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور احسن اقبال کے درمیان مختصر ملاقات ہوئی تاہم بعد میں مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار احمد نے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں جن امور پر بات ہوئی ان میں ججز کی بحالی کا معاملہ سرفہرست رہاچوہدری نثار نے سندھ ہائی کورٹ کے 8 معزول ججز کی دوبارہ تعیناتی پر اپنے پارٹی کے تحفظات سے آگاہ کیا ۔چوہدری نثار علی خان نے سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے بعد ایک نجی ٹی وی اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات میں اپوزیشن بنچوں میں بیٹھنے کیلئے نشستیں الاٹ کرنے کا کہا ہے جبکہ ان پر واضح کردیاہے کہ اب کوئی مفاہمت نہیں ہوسکتی۔انہوںنے کہا کہ ملاقات میں باجوڑ میں جاری آپریشن بند کرنے کا بھی مطالبہ کیاہے۔مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم ہیں اس دوران اہم تبدیلیاں متوقع ہیں اگر پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب سے پہلے تمام معزول ججز بحال کر دیتی ہے تو صدارتی انتخاب میں ن لیگ آصف زر داری کی حمایت کرے گی انہوں نے بتایا کہ اگر پیپلز پارٹی صدارتی انتخاب سے پہلے 17ترمیم ختم کر تی ہے اور مسلم لیگ ن کے ساتھ 5اور 7 اگست کو ہو نے والے معاہدوں کی روشنی میں تمام ججوں کو بحال کر دیتی ہے تو پھر دوبارہ پی پی پی سے اتحاد ہو سکتا ہے اور صدارتی انتخاب میں آصف علی زر داری کی حمایت کا مسلم لیگ ن کا دروازہ بھی کھل سکتا ہے۔وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانینے سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی سے بھی ملاقات کی ملاقات میں قومی ہاکی ٹیم کے امور کے ساتھ ملک کی سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ کیا گیا میر ظفر اللہ خان جمالی نے وزیر اعظم کوالالمپک میں پاکستان ہاکی ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کیا وزیر اعظم نے میر ظفر اللہ خان جمالی سے صدارتی انتخاب میں آصف علی زر داری کی حمایت کے لئے بھی کہا۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment