Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

August 25th, 2008 · 1 Comment;  3 months ago

پیپلزپارٹی کی مسلسل وعدہ خلافیوں اور لیت ولعل سے کام لینے پر دلبرداشتہ ہو کر حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا، نواز شریف

سعید الزمان صدیقی کو مسلم لیگ (ن)کے صدارتی امیدوار ہوں گے

ہم کسی کا تختہ الٹنے کیلئے آلہ کار نہیں بنیں گے ، مرکز میں پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا نہیں کریں گے

ملک میں ایک تعمیری جمہوری عمل چاہتے ہیں ۔ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کر دیا گیا ہے

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پیپلزپارٹی کی مسلسل وعدہ خلافیوں ، وعدے ایفاکرنے میں تواتر سے ٹال مٹول کرنے اور لیت ولعل سے کام لینے پر دلبرداشتہ ہو کر حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان اورپارلیمنٹ میں اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیاہے جبکہ سعید الزمان صدیقی کو مسلم لیگ (ن)کا صدارتی امیدوار نامزد کر دیا ہے ۔ نوازشریف نے کہاہے کہ ہم کسی کا تختہ الٹنے کیلئے آلہ کار نہیں بنیں گے ، مرکز میں پیپلز پارٹی کے لئے مشکلات پیدا نہیں کریں گے ملک میں ایک تعمیری جمہوری عمل چاہتے ہیں ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے مشوروں کے بعد نہایت افسوس کے ساتھ آج چاروں طرف سے جب نا امیدی سامنے آئی اور آخری حد تک جانے کے بعد جب کچھ امید کی کرن نظر نہ آئی تو بہت ہی دکھی دل کے ساتھ پیپلز پارٹی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نے حکمران اتحاد سے علیحدگی کا یہ فیصلہ پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کی زیر قیادت پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے مرکزی مجلس عاملہ اور پارلیمانی پارٹی کے مشترکہ اجلاس میں کیاگیا اجلاس میں راجہ ظفر الحق ، چوہدری نثار علی خان ، خواجہ اصف ، اسحاق ڈار، احسن اقبال ، اقبال ظفر جھگڑا،تہمینہ دولتانہ ، سرانجام خان، غوث علی شاہ ، پیر صابر شاہ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی اجلاس کے بعد میاں شہباز شریف اور سعید الزمان صدیقی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہاکہ (ن) لیگ نے اتحاد برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلسل ٹال مٹول حیلوں بہانوں او رلیت و لعل سے کام لینے پر ہمیں اتحاد سے الگ ہونا پڑا ہے ۔میاں نواز شریف نے کہاکہ میں تفصیلات میں جائے بغیر مختصر طور پر چند نکات آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تلخیوں کے ایک اہم سفر کے بعد پی ایم ایل اورپی پی پی کے درمیان آئین جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے باہمی تعاون کا سلسلہ 1997ء میں 13ویں آئینی ترمیم سے شروع ہوا جب دونوں جماعتوں نے مل کر 8ویں ترمیم کا خاتمہ کیایہ جمہوری قوتوں کی پہلی فتح تھی جلا وطنی کے دوران بے نظیر سے پہلے کئی ملاقاتیں کیں دونوں جماعتوں پر مشتمل ٹیم نے کئی مہینوں کی محنت کے بعد ایک ڈاکو منٹ تیار کیا گیا جو میثاق جمہوریت کے نام سے مشہور ہوا یہ پاکستان کے جمہوری مستقبل کے حوالے سے دونوں جماعتوں کے تعاون کی نہایت ٹھوس مثال تھی پاکستان واپسی کے بعد بھی ہمارے رابطے قائم رہے اور انتخابات کے دوران بھی غیر سگالی کی فضاء قائم رہی انتخابات کے بعد اس تعاون کو برقرار رکھنے اور اٹھارہ فروری کے انتخابات میں انتخابی مینڈیٹ کی روشنی میں اتحاد قائم کرنے کیلئے مری میں مذاکرات ہوئے ہم نے پیپلز پارٹی کو پیشکش کی کہ کوئی وزارت لئے بغیر ہم طے کردہ مقاصد کیلئے بھرپور تعاون کریں گے اور اتحاد کا حصہ رہیں گے ہمارے لئے بڑا مشکل تھا کہ ہمارا کوئی رکن اسمبلی وزارت کیلئے پرویز مشرف سے حلف اٹھائے تاہم آصف علی زرداری کے اصرار پر ہم تلخ گھونٹ پینے پر آمادہ ہو گئے ایک تحریری معاہدے پر دستخط ہوئے جس پر یہ واضح طورپر طے پایا کہ وفاقی حکومت کے قیام کے بعد تیس دنوں کے اندر قومی اسمبلی کے منظور کردہ ایک قرار داد اور ایگزیکٹو آڈر کے ساتھ ججز کو بحال کر دیاجائے گا اعلان کے فوراً بعد پیپلز پارٹی کی قیادت کہنے لگی کہ ججز قرار داد کے ذریعے نہیں آئینی پیکج کے ذریعے بحال ہوں گے پھر زرداری نے ایک انٹرویو میں کہہ دیا کہ یہ کوئی حدیث یا قرآنی آیات نہیں محض ایک سیاسی بیان تھا شاید شدید مایوسی کے باوجود ہم نے اسے مسئلہ نہیں بنایا اور اتحاد میں شامل رہے تیس دن کے بعد بھی ججز کی بحالی کے کچھ آثار نظر نہ آئے تو میں ہنگامی طورپر دوبئی گیا جہاں دونوں جماعتوں کی ٹیمیں اور آصف علی زرداری موجود تھے جس میں طے پا گیا کہ بارہ مئی کو قرار داد پیش ہو گی اور اسی دن جج بحال کر دئیے جائیں گے مجھے اختیار دیا گیا کہ میں پاکستان آ کر اس کا اعلان کر دوں میں نے لاہور پریس کانفرنس میں اعلان کر دیا بارہ مئی کو بھی یہ وعدہ پورا نہ ہوا جس کے بعد ہمارے وزراء نے کابینہ چھوڑ دی مجھ پر پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید دباؤ رہاکہ اس طرح کی صورتحال میں ہم اتحاد میں رہ کر کون سے مقاصد حاصل کر رہے ہیں میرے نزدیک پاکستان کو مضبوط آئینی حکمرانی کی شاہ پر گامزن کرنا اور ملک کے مسائل کو مل کر حل کرنا زیادہ اہم تھا اس لئے ہم تمام تلخیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد کو کامیاب بنانے کیلئے بے لوث کوششیں کرتے رہے ہیں لیکن ہم نے بہتری کی توقع قائم رکھی زرداری سے کئی ملاقاتوں کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلا بالآ خر میں نے جولائی میں زرداری کے نام ایک تفصیلی خط لکھا جس میںتمام مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے بڑی درد مندی سے گزارش کی ہے کہ وہ طے شدہ معاملات پر عملی قدم اٹھائیں لیکن یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی پانچ سے سات اگست کے دوران اسلام آباد میں دونوں جماعتوں کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات ہوئے پہلے 15اگست کو ایک معاہدہ طے پایا یہ سات صفحات پر مشتمل ایک تحریری دستاویز ہے جس کے ہر صفحے پر میرے اور آصف علی زرداری کے دستخط ہیں7 اگست کو اس معاہدے کی تشریح وضاحت اور ایکشن پلان ٹائم کی تفصیلات پر مشتمل ایک اور مسودہ تیار ہوا اس طے شدہ مسودے کے دونوں صفحات پر بھی میرے اور زرداری کے دستخط تھے ہمارے درمیان طے پایا تھا کہ پرویز مشرف کے مواخذے یا استعفیٰ کے فوراً بعد ایک دن کے اندر اندر جج بحال کر دئیے جائیں گے ۔ اس معاہدے کی روح سے 18اگست کو کو مشرف کے استعفیٰ کے بعد 19 اگست کو جج بحال ہوئے تھے مگر ایسا نہ ہوا آج ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور کہہ دیا گیاہے کہ معاہدے کوئی قرآن وحدیث نہیں ہوتے اسلام آباد مذاکرات ختم ہوتے ہی کسی طرح کی مشاورت کے بغیر ہی زرداری کے صدارتی امیدوار ہونے کا اعلان بھی ہو گیا اور الیکشن شیڈول بھی آگیا ہے حالانکہ تحریری معاہدے کی شق4میں طے پایا تھا کہ مشرف کی مواخذے یا استعفیٰ کے بعد تمام ججز بحال ہوں گے ۔ نواز شریف نے کہاکہ یہ طے پایا تھا کہ اگر سترہویں ترمیم ختم ہو جاتی ہے تو پھر پیپلز پارٹی اپنے امیدوار کو سامنے لائے گی لیکن اگر ختم نہیں ہوتی تو پھر وہ شحص جس کا تعلق کسی پارٹی سے نہ ہو ایک معزز اور قومی اہمیت کا شخص جیسے سعید الزمان صدیقی ہیں اس طرح کا آدمی اس عہدے کیلئے امیدوار کی شکل میں لایاجائے گا یہ طے پایا تھامسلم لیگ ن نے آئینی جمہوریت اور قانون کی بالادستی آمریت کے مکمل خاتمے اور عدلیہ کی آزادی کے لئے ہر ممکن صبر و تحمل سے کام لیا عوام اور میڈیا کی تنقید بھی برداشت کی ہم نے پنجاب میں گور نر کی تقرری کو بھی برداشت کیا ہماری آرزو تھی اور ہے کہ پاکستان کو ان مسائل سے نجات دلائی جائے جو ناسور بن چکے ہیں تا کہ عوام امن و سکون کی فضا میں خوشحالی کی زندگی گزار سکیں غربت،مہنگائی اور بے روز گار ی جیسے مسائل سے نجات پائیں گے۔ ملک اقتصادی ترقی سے ہمکنار ہو گا اور قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر چل سکیں گے اس ساری صوتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے پارٹی کے ساتھ مشوروں کا عمل جاری رکھا سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد سے مشاورت کی ہم اس اجلاس میں عوامی رائے کا بھی غور سے جائزہ لیتے رہے وکلاء سے بھی طویل مشورے ہوتے رہے اور ہم نے ان مشوروں کے بعد نہایت افسوس کے ساتھ آج چاروں طرف سے جب نا امیدی سامنے آئی اور آخری حد تک جانے کے بعد جب کچھ امید کی کرن نظر نہ آئی تو بہت ہی دکھی دل کے ساتھ پیپلز پارٹی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہو گا کہ ہمیں زبردستی اس تلخ فیصلے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ آصف علی زر داری نے کہا کہ دنیا کی تاریخ افراد قوموں اور اداروں کے درمیان معاہدوں سے نہیں ہے ہمارا موقف ہے کہ قائد اعظم نے آزادی کی جنگ انہی ہتھیاروں سے لڑی دنیا کا سارا معاشی سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ کاغذوں پر کھلے معاہدوں پر کھڑا ہے قر آن حکیم اور حدیث نے بار بار وعدے پورے کر نے کی تلقین کی ہے جبکہ کسی زبانی قول اور تحریری معاہدے کا احترام نہ رہے تو باہمی اعتماد کا رشتہ قائم نہیں رہتا اور اعتماد کا رشتہ ٹوٹ جائے تو اتحاد کی روح باقی نہیں رہتی ن لیگ نظریے اور اصول کی سیاست پر یقین رکھتی ہے میں کئی بار کہہ چکاہوں کہ ہم اقتدار کی نہیں اقدار کی سیاست کریں گے ہمارے مقاصد واضح ہیں ہم جسٹس افتخار چوہدری سمیت تمام معزول ججز کی دو نمبر 2007ء کی سطح پر بحالی چاہتے ہیں ہم آئین کو تمام آمرانہ ترامیم سے پاک کر کے بارہ اکتوبر 1999ء کی شکل میں واپس لانا چاہتے ہیں ہم میثاق جمہوریت پر عملدرآمد چاہتے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا شمار دنیاکے مہذب اور ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں ہو ہم کشمکش اور تصادم کے بجائے صاف ستھری سیاست کو پروان چھڑانا چاہتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ کہ عوام کی زندگیوں میں ایک مثبت انقلاب چاہتے ہیں انہی مقاصد کیلئے ہم جدوجہد کر رہے ہیں انہی مقاصد کیلئے ہم نو سال آمر سے لڑتے رہے انہی مقاصد کے لئے ہم اتحاد میں شامل ہوئے اور آج بھی اپنے اصولوں نظریات کے لئے ہم نے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھے کافیصلہ کیا ہے ہم اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی میثاق جمہوریت پر عملدرآمد سمیت اچھے اقام کا بھرپور ساتھ دیں گے پاکستان کے عوام وکلاء دانشوروں سول و سوسائٹی کے مختلف طبقوں بالخصوص میڈیا نے ان مقاصد کے حصول کیلئے زبردست جدوجہد کی ہے یہ اسی جدوجہد کا ثمر ہے کہ اپنے آپ کو نا قابل تسخیر سمجھنے والا آمر گھر جا چکاہے انشاء اللہ ہم تمام جمہوری قوتوں کے شانہ بشانہ یہ سفر جاری رکھیں گے اور آمریت کے تمام اقدامات تمام اثرات فتح کر کے دم لیں گے نواز شریف نے کہا کہ اس معاہدے کی پاسداری کر تے ہوئے مجھے یہ اعلان کر تے ہوئے بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ میں نے اور ہماری پارٹی نے یہ فیصلہ کیا اور پھر میں نے پارٹی کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے میں نے سعید الزمان صدیقی کو گزارش کی کہ آپ ہمارا صدارتی امیدوار بننے کی پیشکش قبول فرمائیں انہوںنے ہماری یہ پیشکش قبول کر لی ہے ان کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں انہوں نے بھی پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور پاکستان کے آئین کی سر بلندی کے لئے اپنا قدم اٹھایا اور اس کی پاسداری کر تے ہوئے اپنی بقیہ سروس کو نظر انداز کر دیا اور گھر جانا گوارا کیا مگر کسی آمر کے حکم کو تسلیم کر نے سے انکار کیا ہے یہ وہ شخص ہے جسے سونے میں تولا جائے۔

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News | , ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

  • پاکستان وہ واحد ملک ہے جو اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت کر رہا ہے ، میاں محمد نواز شریف (0)
  • اے این پی کو نواز شریف مردان سے نکال کر قومی سیاست میں لائے ‘ احسن اقبال (0)
  • صوبہ سرحد کا نام پختونخواہ پکارنے پر مسلم لیگ ( ن ) کا ایوان میں ہنگامہ (0)
  • قومی اسمبلی میں نواز شریف پر تنقید ، اے این پی اور مسلم لیگ ن کے درمیان جھڑپ ، تلخ جملوں کا تبادلہ (0)
  • پاکستانی علاقے میں امریکی میزائل حملے روکنے کے لئے نیٹو فورسز کو سپلائی بند کر دی جائے۔راجہ ظفر الحق (0)
  • ن لیگ ، پیپلز پارٹی کی حکومتی اتحادی نہیں ہے۔مرکزی راہنما ورکن قومی اسمبلی مسلم لیگ (ن) کیپٹن (ر)صفدر (0)
  • سپریم کورٹ نے شریف برادران اہلیت کیس کی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کردی (0)
  • حکمرانوں نے ملک و قوم کو دنیا میں رسوا کردیا اور ’’ پھرمار‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ اپوزیشن لیڈر کا پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو (0)
  • پاکستان مسلم لیگ(ن) نے صوبہ سرحد کیلئے پختونخواہ کے نام کے استعمال پر متحدہ قومی موومنٹ کو خط لکھ دیا (0)
  • حکومت امریکی میزائل حملے رکوا نہیں سکتی تو پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد واپس لے لے ، احسن اقبال (0)


  • اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

    urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

    1 response so far ↓

    Leave a Comment

    Englishاردو