نواز شریف نے آصف علی زرداری کی حکمران اتحاد میں واپسی کیلئے دعوت پر معذرت کر لی ۔ ۔ ۔ احسن اقبال
اب ہمارے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے،اپوزیشن میں مثبت کردار ادا کر سکیں گے
نواز شریف نے آصف علی زرداری کو دو ٹوک جواب دے دیا ہے
مسلم لیگ کے سیکرٹری اطلاعات کی میڈیا سے بات چیت
اسلام آباد ۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کی حکمران اتحاد میں واپسی کیلئے دعوت پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمارے لئے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے نواز شریف اور آصف زرداری کے درمیان جمعرات کو ہونے والے رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ٹیلی فون پر میاں نواز شریف سے بات کی اور دونوں رہنماؤں میں تبادلہ خیال ہوا۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے مابین میثاق جمہوریت کا جو فطری کردار ہے ہماری خواہش ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہم اس کی روشنی میں ایک مثبت اور صحت مندانہ کردار ادا کریں اور نظام کو مضبوط کرنے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ اپوزیشن کی جدوجہد کے ذریعے ججوں کی بحالی، آئین سے 17 ویں ترمیم کا صفایا جو ایک آمر نے کی تھی، اس کے علاوہ عوام کی فلاح و بہبود کے اقدامات میں مثبت تعاون کریں گے۔ یہی ہمارے مستقبل کا لائحہ عمل ہے۔ صدارتی امیدوار پر پی پی پی سے معاہدہ میں طے تھا کہ غیر متنازعہ اور غیر جانبدار کو اس عہدہ پر لایا جائے گا کیونکہ صدر پرویز مشرف کے اس عہدہ پر ہونے سے بہت تنازعات پیدا ہوئے۔مسلم لیگ(ن) کی اتحاد میں واپسی کے حوالہ سے سوال پر مسلم لیگ(ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہاکہ پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زراری نے مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف کو جو پیشکش کی اس پر میاں نوازشریف نے یہ جواب دیا کہ حکمران اتحاد سے الگ ہونے کا ہماری جماعت نے بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا ‘ حکومت میثاق جمہوریت اور اعلان مری کے تحت اب بھی اگر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور دیگر ججوں کو بحال کرے تو ہمیں خوش ہوگی لیکن مرحلہ وار بحالی اعلان مری کی روح کے منافی ہے اس سے دوبارہ عدلیہ کی آزادی پرحملہ کررہے ہیں ۔ مسلم لیگ(ق) سے رابطوں کے حوالہ سے سوال پراحسن اقبال نیبتایا کہ مسلم لیگ(ق) سے بحیثت جماعت ہمارا کوئی رابطہ نہیں البتہ پرویزمشرف کے جانے کے بعد (ق) لیگ بحران سے دوچار ہے ان کے اراکین ایک طرف پی پی پی سے بھی رابط ہے ‘ دوسری طرف بڑی تعداد ہم سے بھی رابطے میں ہے وہ اراکین جن کا 5 یا 7 سال میں منفی کردار نہیں رہا وہ حمایت کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن ان کی قیادت سے ہمارا کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment