باجوڑ سے ڈھائی لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے ۔20 امدادی کیمپ قائم کر دئیے ہیں
بلوچستان اور فاٹا میں حکومت کی سیکیورٹی فورسز کے چار ہزار جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں
شر پسند عناصر ملک میں شعیہ سنی فسادات چاہتے ہیں ۔ شرپسندوںکے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
مشیر داخلہ کا امریکا کے انسداد دہشت گردی پروگرام کے تحت تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب
اسلام آباد ۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہاہے کہ عسکریت پسندوں کی بیخ کنی تک باجوڑمیں آپریشن جاری رہے گا ۔حکومتی رٹ کو ہر صورت برقرار رکھیں گے اور اسے چیلنج کرنے والوں سے کوئی رو رعایت نہیں کی جائے گی۔ باجوڑ سے ڈھائی لاکھ افراد نے نقل مکانی کی ہے ۔ بلوچستان اور فاٹا میں حکومت کی سیکیورٹی فورسز کے چار ہزار جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔شر پسند عناصر ملک میں شعیہ سنی فسادات چاہتے ہیں ۔ شرپسندوںکے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے جمعرات کو وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں امریکا کے انسداد دہشت گردی پروگرام کے تحت تربیت حاصل کرنے والی پولیس خواتین افسران میں تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب اورصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رحمان ملک نے کہا کہ گزشتہ چھ سالوں سے سنگین دہشت گردی کا سامنا ہے عالمی برادری کا تعاون چاہیے ۔ تنہا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ تربیت اور جدید آلات کی فراہمی کے حوالے سے عالمی برادری کا تعاون چاہیے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید سہولت اور مکمل تربیت دینا چاہتے ہیں۔ دہشت گردوںکے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ انہوںنے کہاکہ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اینٹلی جنس کے شعبے میں تعاون کے ساتھ تربیت اہم ہے ۔ فاٹا میں حالات خراب ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے ۔پوری طاقت کے ساتھ اس جنگ کو لڑیں گے ۔محفوظ پاکستان چاہتے ہیں کسی صورت عسکریت پسندوں کو برداشت کریں گے نہ انہیں حکومتی عملدرآری کو چیلنج کرنے دیں گے ایساہوگا تو سختی سے نمٹنا پڑے گا۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا باجوڑ میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مشیر داخلہ نے کہا کہ 80 فیصد خود کش حملوں میں کمی آ چکی ہے ۔پنجاب میں امن وامان کی صورتحال مجموعی طور پر بہترہے۔ انہوںنے کہاکہ شر پسند عناصر شیعہ سنی کو لڑاناچاہتے ہیں۔ ہم دونوں مسالک کے علماء کرام کو اکٹھا کررہے ہیں۔ یہ علماء کرام فرقہ واریت سے متاثرہ علاقوں میں اکٹھے نمازیں پڑھیں گے۔ باجوڑ سے ڈھائی لاکھ افراد نے ہجرت کی ہے ان کی مدد اور پڑاؤ کے لیے 20 کیمپ قائم کردئیے گئے ہیں سیاسی جماعتیں اور ان کے کارکنان بھی نقل مکانی کرنے والے افرادکی مدد کر رہے ہیں

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment