ہم نے وزیر اعظم گیلانی کے دورہ امریکا میں یہ بات ان پر واضح کر دی ہے کہ ہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی اہم ہے
پاکستان میں شفاف انتخابات کے لیے ہم نے بہت کوششیں کیں اور ہمیں خوشی ہے کہ ایسا ہی ہوا
مشرف کی مستقبل میں کہیں بھی رہائش کے لیے ہم کوئی کردار ادا نہیں کر رہے ہیں
ڈاکٹر عافیہ کو ہم نے 17 جولائی کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرتے وقت گرفتار کیا اس سے قبل غائب رہنے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام اداروں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے ہم ہر سطح پر مدد کر رہے ہیں
امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا کا وائس آف امریکا کو انٹرویو
واشنگٹن ۔ امریکا کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء رچرڈ باوچر نے سبکدوش صدر جنرل ( ر ) پرویز مشرف پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے یہ فیصلہ خود کیا تھا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے ۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ انہوں نے ایسا کیا ہم نے وزیر اعظم گیلانی کے دورے میںیہ بات واضح کر دی تھی کہ ہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی اہم ہے اور ہم نئی حکومت کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کرناچاہتے ہیں۔ ’’ وائس آف امریکا ‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ صدر مشرف کے استعفےٰ کا پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر کوئی اثر ہوسکتا ہے؟رچرڈ باؤچر کا کہنا تھا کہ جیسا کہ وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا ہے کہ صدر مشرف ہمیشہ سے ہمارے اچھے دوست رہے ہیں اور انھوں نے پاکستان کے لیے بہت مشکل اور اسٹریٹیجک فیصلے کیے ہیں۔ لیکن ہم 18 فروری کے بعد بننے والی حکومت کا بھی احترام کرتے ہیں اور ہمیں احساس ہے کہ ان کا اپنا پروگرام ہے جس پر انھیں عمل کرنا ہے۔ ہمارے تعلقات پاکستان کے ساتھ بدستور قریبی رہیں گے۔ امریکی معاون وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ عام تاثر یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں صدر مشرف پاکستانی عوام میں غیرمقبول ہوئے۔ کیا امریکہ کی more doپالیسی سے صدر مشرف کو نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی باریک بینی میرے خیال سے مورخ پر چھوڑ دینی چاہیے۔ لیکن گیارہ ستمبر کے بعد صدر مشرف نے یہ فیصلہ خود کیا کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے اور وہ دہشت گردوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے۔ اور انھوں نے اس سلسلے میں پالیسیز پر عملدرامد کیا۔ اور ہمیں خوشی ہے کہ انھوں نے ایسا کیا۔ نئی حکومت نے بھی یہ بات بالکل واضح کی ہے کہ انتہاپسندی کے خلاف جنگ ان کی اپنی جنگ ہے اور وہ اسے لڑنا چاہتے ہیں۔ ہم نے وزیرِ اعظم گیلانی کے دورے میں یہ بات واضح کردی تھی کہ ہمارے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کتنی اہم ہے اور ہم نئی حکومت کی مدد کرنے کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ معاون وزیر خارجہ نے ایک اور سوال پر کہ کیا امریکہ نے صدر مشرف کی اتنے طویل عرصے تک حمائت سے کوئی سبق سیکھا ہے اور کیا اب آ پ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کسی فردِ واحد کی حمائت کے بجائے جمہوری عمل کو سپورٹ کرنا زیادہ بہترامریکی پالیسی ہوسکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں ہونے والے انتخابات کے لیے بہت کوششیں کیں اور ہماری کوشش تھی کہ پاکستان میں شفاف انتخابات ہوں اور ہمیں خوشی ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ ہم نے حکومت کے ساتھ مل کر کام کیااور پاکستان میں شفاف انتخابات کے انعقاد میں مدد کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں یہ تاثر عام کرنے کے لیے زیادہ کام کرنا چاہیے کہ ہمارے تعلقات پاکستانی عوام سے ہیں۔ اس وقت ہم معیشت، جمہوریت، سیکورٹی اور سماجی شعبوں میں نئی حکومت کے ساتھ تعاون کررہے ہیں اور یہ ان کوششوں کا حصہ ہے جو ہم پاکستان کو مستحکم بنانے کے لیے کررہے ہیں۔ جب معاون وزیر خارجہ سے یہ دریافت کیا گیا کہ صدر مشرف کے مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ کیا وہ امریکہ آسکتے ہیں یا کسی اور ملک منتقل ہونے میں امریکہ ان کی مدد کررہا ہے۔ تو ان کا کہناتھاکہ صدر مشرف ہمارے دوست ہیں،وہ ایک آزاد شہری ہیں اور وہ جہاں جانا چاہیں جاسکتے ہیں۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو سبکدوش صدر مشرف کی مستقبل میں کہیں بھی رہائش کے لیے ہم کوئی کردار ادا نہیں کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ان سے پوچھا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی حراست اور انسانی حقوق کی بہت سی تنظیموں سمیت میڈیا بھی امریکہ پر یہ تنقید کررہا ہے کہ پر ڈاکٹر صدیقی کو غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ امریکی حکومت کا اس سلسلے میں کیا موقف ہے۔ معاون وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ میں لوگوں سے یہ کہنا چاہوں گا کہ الزامات لگانے سے پہلے حقائق کا جائزہ لیں۔ بے بنیاد الزامات لگانا بہت آسان ہے لیکن حقیقت یہ ہے ہمیں یہ خاتون 17 جولائی کو ملیں۔ اس سے پہلے وہ کہاں تھیں اس بارے میں ہمیں کچھ نہیں معلوم لیکن وہ یقینی طور پر ہماری حراست میں نہیں تھیں۔ تو حقیت یہ ہے کہ ہم نے عافیہ صدیقی کو 17 جولائی کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کررہی تھیں اور جب انھیں حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جارہی تھی تو انھوں نے ہمارے ایک آفیسر کی بندوق چھین کر اس پر فائر کردیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وہ تشدد کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہیں۔ میں پھر یہ کہنا چاہوں گا کہ الزامات لگانے سے پہلے حقائق دیکھ لینے چاہیں۔ ہم نے انھیں 17 جولائی کو گرفتار کیا۔ انھوں نے ہمارے ایک آفیسر کو مارنے کی کوشش کی اور اب ان پر مقدمہ چل رہا ہے۔ ان سے اگلا سوال تھا کہ تو کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ڈاکٹر صدیقی کے اتنے عرصے تک غائب رہنے سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بتانا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عرصے میں کہاں تھیں ،ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں معلوم۔ رچرڈ باؤچر سے آئی ایس آئی کے بارے میں پوچھا گیا کہ پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ہیں لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت پاکستان خصوصاً آئی ایس آئی پر پوری طرح بھروسہ نہیں کرتی اور یہ سمجھتی ہے کہ ان کے طالبان سے رابطے ہیں۔ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے اتحادیوں کے بارے میں اس قسم کی بداعتمادی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹنرز کے ساتھ کام کرنے میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ ہم پاکستان کی حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون کررہے ہیں تاکہ ملک کے ادارے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ان سب کو تعاون حاصل ہوسکے۔ اس میں صرف وزیرِ اعظم ہی نہیں بلکہ آرمی اور ایجنسیز ، صوبائی اور مقامی حکومتیں بھی شامل ہیں۔ ان سب سے تعاون کے بعد ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ موثر طور پر لڑی جاسکتی ہے۔ اور ان ہی امور پر ہماری پاکستانی حکومت سے بات چیت اور مشاورت ہورہی ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں پاکستان کی سرحدی حدود، اسکی آزادی اور سالمیت کا احترام ہے۔ پاکستان کو مضبوط کرنا پاکستانی حکومت کا کام ہے ہم اس کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment