Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

آصف علی زرداری اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صدارت کے موزوں ترین امیدوار ہیں۔۔۔سندھ اسمبلی کی قرار داد

August 22nd, 2008 · No Comments;  3 months ago

بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک کی جماعتوں کو فہم و فراست سے یکجا کیا۔۔۔ارکان اسمبلی کے ریمارکس

سندھ اسمبلی میں قرار داد کی منظوری کے بعد اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی

کراچی۔ سندھ اسمبلی میں جمعے کو ایک قرارداد اتفاق رائے سے منظور کرلی گئی جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کو پاکستان کے صدر کیلئے انتہائی موزوں امیدوار قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔حکومت کی اتحادی جماعتوں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) فارورڈ گروپوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں پاکستان مسلم لیگ(ف)، پاکستان مسلم لیگ(ق) اور نیشنل پیپلز پارٹی نے بھی قرارداد کی حمایت کی۔مخدوم امین فہیم کے صاحبزادے مخدوم جمیل الزماں نے بھی نہ صرف قرار داد کی بھرپور حمایت کی بلکہ آصف علی زراداری کی سیاسی بصیرت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔یہ قرار داد سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ یہ اسمبلی قرار دیتی ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے سیاسی دانش کا مظاہرہ کیا اور اپنی کوششوں و مفاہمت کے ذریعے مرکز اور تمام اکائیوں میں مخلوط حکومتیں تشکیل دیں۔انہوں نے اتحادی جماعتوں کی مشاورت اور تعاون سے اپنے سیاسی تدبر و فراست سے ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کی اور موجودہ حالات میں آصف علی زرداری پاکستان میں صدارت کے منصب کیلئے انتہائی موزوں امیدوار ہیں جس کے باعث یہ اسمبلی ان کی حمایت کرتی ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے خطاب میں کہا کہ اس قرار داد کے ذریعے سندھ اسمبلی نے ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے۔بے نظیر بھٹو شہید پاکستان اور پاکستانی عوام کی امید تھیں اب ان کی شہادت کے بعد جو انتشار پیدا ہوا اس میںلوگوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی رہنما نہیں رہا ہے بعض لوگوں کی جانب سے پاکستان نہ کھپے کا نعرہ بھی لگایا گیا تاہم آصف علی زرداری کی جانب سے سیاسی بصیرت سے ملک کو قیادت فراہم کی گئی۔ غمزدہ لوگوں کو تسلی اور امید دلائی اور کہا کہ پاکستان کھپے۔سی ایم سندھ سید قائم علیشاہ نے کہا بے نظیر بھٹو کا یہ فلسفہ تھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے آصف علی زرداری نے اس فلسفے پر عمل پیرا ہوکر جمہوریت بحال کی۔انہوں نے کہا کہ صدر کے انتخاب کے بغیر جمہوری عمل مکمل نہیں ہوگا۔آصف علی زرداری اس منصب کیلئے انتہائی موزوں اور اہل ہیں جنہوں نے قومی مفاہمت کے ذریعے مختلف جماعتوں کو ایک پلیٹ فورم پر بٹھایا ۔میاں محمد نواز شریف انتخابات کا بائیکاٹ کرچکے تھے تاہم آصف علی زرداری نے انہیں انتخابات میں حصہ لینے پر قائل کیا۔سی ایم سندھ نے ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی و اپوزیشن جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے قرارداد کی حمایت کی۔انہوں نے دیگر صوبائی اسمبلیوں سے بھی اپیل کی کہ وہ سندھ اسمبلی کی طرز پر اس طرح کی قرار داد منظور کریں۔ایم کیو ایم کے صوبائی وزیر سید شعیب احمد بخاری نے کہا کہ سانحہ لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عوام میں بے انتہاء اشتعال تھا اس صورتحال میں بعض سینئر سیاستدان بھی پاکستان نہ کھپے کے نعرے لگارہے تھے آصف علی زرداری نے اس ماحول میںجرات کی اور کہا کہ پاکستان کھپے۔انہوں نے خطرہ مول لیا اور عام انتخابات کے بعد زبردست سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔سب سے پہلے ہمارے قائد الطاف حسین نے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی تجویز دی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی پر لازم ہے کہ وہ آصف علی زرداری کو کامیاب کرائیں۔انکا تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کو ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ہوگی آج سے سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی میں ہمارے تمام ووٹ آصف علی زرداری کیلئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے انتہائی مشکل حالات میں پارٹی کو متحد رکھا وہ پہلے ہمارے شہداء کے قبرستان گئے اور بعدازاں نائن زیرو آئے جس کے لئے ہم ان کے احسان مند ہیں۔ان سے پہلے ہمارے شہداء کے قبرستان میں کوئی سیاستدان نہیں آیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے پرویز مشرف کے ساتھ تھے اسے کوئی اچھا سمجھے یا برا انہوں نے معاملات کو بہترین نظم و نسق سے چلایا۔وہ 58-2(b) استعمال کرسکتے تھے تاہم اس سے پاکستان میں انتشار پھیلنے کا احتمال تھا۔اس موقع پر اپوزیشن لیڈر جام مدد علی نے قرار داد کی حمایت میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باعث پاکستان کی عوام نے پی پی پی کو مینڈیٹ دیا اور اب اس پارٹی کا استحقاق ہے کہ صدر یہیں سے نامزد ہو۔نیشنل پیپلز پارٹی کے رکن مسرور خان جتوئی نے کہا کہ ہماری پارٹی جمہوری اقدار کی خواہاں ہے اور ہم مخالفت برائے مخالفت کے قائل نہیں ہیں اور قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔ مسلم لیگ فنکشنل کی خاتون رکن اسمبلی نصرت عباسی او ر فاروڈبلاک مسلم لیگ (ق) کے غالب ڈومکی نے اپنی اپنی تقریر میں آصف علی زرداری کو صدر بنانے کی قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صدارت پیپلزپارٹی کا حق ہے ہم قرار داد کی بھر پور حمایت کرتے ہیں ۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی نادر مگسی ‘ مخدوم خلیق الزماں نے بھی قرار داد کی بھر پور حمایت کی جبکہ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کافی عرصہ سے ایوان صدر میں وفاق اور عوام کی نمائندگی نہیں رہی کچھ آمر رہے اور کچھ ربر اسٹیمپ اب ایوان صدر کو ایک طاقت ور شخص کی ضرورت ہے جو وفاق کی علامت ہو ۔ آصف علی زرداری نے پاکستان نہ کھپے کو روک کر پاکستان لازم کا نعرہ دیا وہ صدارت کیلئے موزوں ترین امیدوار ہیں ۔ ایوان میں پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر پیر مظہرالحق نے کہا کہ اب سندھ میں نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ اردو اور سندھی بولنے والے سندھی عوام ہاتھ میں ڈالے ہاتھ ساتھ چلیں گے ۔ کیونکہ جس اسمبلی نے سب سے پہلے قیام پاکستان کی قرار داد منظور کرکے پاکستان کی خالق اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا آج اس اسمبلی نے سندھ کے ایک سپوت کو صدر بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے ایم کیوایم کے قائد کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین دن پہلے آصف علی زرداری کو صدر بنانے کا اعلان کرکے سبقت حاصل کرلی ۔ انہوں نے اپوزیشن سمیت دیگر جماعتوں کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ بعد ازاں سندھ کے وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے قرار داد کی حمایت میں تقریر کی انہوں نے کہا کہ محترمہ بے نظیربھٹو کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کا خلاء ہوگیا تھا جسے آصف علی زرداری نے خوش اسلوبی سے پورا کیا یہ ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا پراسس جو رکن اسمبلی کے انتخاب سے شروع ہو کر صدر کے انتخاب پر ختم ہوتا ہے اب مکمل ہونے جارہا ہے اورجب ملک میںرکن اسمبلی سے لے کر صدر تک سب ہی منتخب افراد ہوں گے تو ملک مضبوط ہوگا اور عدلیہ آزاد ہوگی ۔ آصف علی زرداری تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ صدر کیلئے موزوں ترین امیدوار ہیں ۔ انہوں نے بے نظیربھٹو کی شہادت کے چند ماہ میں پیدا ہونیوالے بحران سے بڑی خوش اسلوبی سے نمٹا ۔ نواز شریف کو الیکشن کے بائیکاٹ سے روکا اور پھر ان کے ساتھ مل کر آمریت کا خاتمہ کیا ان کی صلاحیتوں کو ملک کیلئے استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزیر اعلی نے ایم کیوایم سمیت حلیف جماعتوں کے رہنماؤں اور ارکان اسمبلی اور اپوزیشن کا بھی شکریہ ادا کیاجس کے بعد وزیر قانون ایاز سومرو کی پیش کردہ قرار داد اسپیکر نے ایوان میں پیش کی جو متفقہ طور پر ایک بجکر پچیس منٹ پر منظور کرلی گئی ۔ قرار داد کی منظوری پر ایوان جئے بھٹو او رزندہ ہے بی بی زندہ ہے کے نعروں سے گونج اٹھا ۔ اسپیکر نثار کھوڑو نے قرار داد کی منظوری کے بعد کہا کہ آج اس ایوان نے ایک اور تاریخی قرار داد منظور کی ہے ۔ 1947ء کے بعد پہلی مرتبہ ملک کا منتخب صدر سندھ سے ہوگا کیونکہ اس سے قبل سندھ سے تعلق رکھنے والے صدر کو اسمبلیوں نے منتخب نہیں کیا تھا اور یہ صدر پاکستان کو مضبوط کریگا ۔ اسپیکر نے اپنی مختصر گفتگو کے بعد اجلاس پیر کی صبح تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News | ,



اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو