ججز کی بحالی کے بارے میں مائنس ون کا فارمولا زیر غور نہیں ہے
دہشت گرد ی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے یہ امریکی جنگ نہیں ہے قوم سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے
ججز کی بحالی کے حوالے سے قائدین نے فیصلہ کر نا ہے ہماری نیت صاف ہے
’’مانگے تانگے‘‘ سے ملک نہیں چلائیں گے معیشت کے استحکام کے لئے غیر مقبول فیصلے کیے ہیں
قبائلی ارکان پارلیمنٹ جب اپنے حلقوں میں نہ جا سکیں تو صورتحال کا ہر ایک کو اندازہ کر لینا چاہیے
وزیر اعظم کی صحافیوں سے بات چیت
اسلام آباد ۔ وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی ججز کی بحالی کے بارے میں مائنس ون کا فارمولا زیر غور نہیں ہے دہشت گرد ی کے خلاف جنگ ہماری اپنی جنگ ہے یہ امریکی جنگ نہیں ہے قوم سے کئے گئے وعدے پورے کئے جائیں گے ججز کی بحالی کے حوالے سے قائدین نے فیصلہ کر نا ہے ہماری نیت صاف ہے آزاد عدلیہ کے لئے ہم سے زیادہ قربانیاں کسی نے نہیں دیں ’’مانگے تانگے‘‘ سے ملک نہیں چلائیں گے معیشت کے استحکام کے لئے غیر مقبول فیصلے کیے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو وزیر اعظم ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں کے اعزاز میں دئیے گئے عصرانہ کے موقع پر بات چیت کر تے ہوئے کیا وزیر اعظم نے کہا امن و امان اور معیشت کا استحکام اہم حکومتی ترجیحات ہیں انہوںنے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت بری طرح متاثر ہو ئی ہے عالمی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے طرز معیشت کو تبدیل کر نے کے لئے سخت اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم فضول خرچی کو ختم کر یں گے قرضوں پر انحصار نہیں کیا جائے گا سبسڈی کی حوصلہ شکنی کی جائے گی ادھار لے کر کسی پر عنایت نہیں کر سکتے مانگے تانگے سے گزارا نہیں ہو سکتا انہوں نے کہا کہ دو ہی آپشن تھے یا معیشت کو جانے دیں یا اسے سنبھالیں سنبھالنے کو ترجیح دی ہے سخت اقدامات اٹھائے ہیں ذراعت کے شعبے کے مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے امن و امان کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ میڈیا کی مدد چاہیے کیونکہ قبائلی ارکان پارلیمنٹ بھی اپنے حلقوں میں نہیں جا سکتے اس کے ذمہ دار کون ہیں انہوں نے کہا کہ جب ارکان پارلیمنٹ غیر محفوظ ہو جائیں اور وہ عدم تحفظ کا شکار ہوں تو کیا سخت اقدامات نہیں کریں گے حالات کی خرابی میں ایسے عناصر شامل ہیں جو معیشت کو تباہ کر نا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ غریب لوگ مارے جا رہے ہیں واہ کینٹ میں کن لوگوں نے اپنی زندگی سے ہاتھ دھوئے غریب خاندان متاثر ہو ئے ہیں نہتے لوگوں کا قتل کہاں کا انصاف ہے اور کاروائی کو قبول کر نے اور اسے تسلیم کر نے کی باتیں بھی سامنے آتی ہیں یہ عناصر پاکستان کو غیر مستحکم کر نا چاہتے ہیں کھلے دل سے پارلیمنٹ میں بحث کے لئے تیار ہیں اس بارے میں ان کیمرہ بریفنگ دی جا سکتی ہے کیونکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کا خیال ہے کیونکہ یہ تاثر مل رہا ہے کہ یہ عناصر کامیاب اور جمہوری قوتیں ناکام ہو چکی ہیں عوام کو متحرک کر نے کی ضرورت ہے سیاسی جماعتیں اتحادی جماعتوں پارلیمنٹ اور عوام اپنا کر دار ادا کر سکتے ہیں دہشت گردی کے ان واقعات کی وجوہات کا جائزہ لیں گے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ نہیں ہے خود کش حملوں میں ہمارے لوگ مارے جا رہے ہیں انہوںنے کہا کہ جمہوری قوتوں کو جمہوریت کا پھل ملا ہے دنیا جمہوری قوتوں کو تسلیم کرتی ہے عوامی رائے ہمارے ساتھ ہے صدر بش نے بھی یقین دہانی کرائی کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کا احترام کر تے ہیں انہوں نے فون کیا تھا امریکہ پاکستان میں جمہوریت کا استحکام چاہتا ہے اور جمہوری حکومت کی حمایت کرتا ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے ہی جدوجہد کر تے ہوئے ہماری قائد بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں ہم نے ملک کو سدھارنا ہے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے لئے مائنس ون فارمولے پر غور نہیں ہو رہا اور اتحادی حکومت قوم سے کئے گئے تمام وعدے پورے کرے گی وزیر اعظم نے کہا کہ اس تاثر میں کوئی حقیقت نہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی ججوں کی بحالی میں سنجیدہ نہیں جمہوریت کے استحکام عدلیہ کی بحالی اور میڈیا کی آزادی کے لئے سب سے زیادہ قربانیاں پی پی پی نے دیں وزیر اعظم نے کہا کہ ججز کی بحالی ایمر جنسی کے خلاف میڈیا کی آزادی کی سب سے پہلے بے نظیر بھٹو نے بات کی ایمر جنسی کے دو ڈھائی گھنٹوں کے اندر دوبئی سے پاکستان پہنچیں اور یہاں آ کر لانگ مارچ کی کال دی اور خود جسٹس افتخار چوہدری کے گھر گئیں اور کہا کہ ان کے گھر پر جھنڈا میں خود لہراؤں گی ہمارے کئی کارکن پنڈی میں شہید ہوئے کئی کراچی میں شہید ہوئے اس لئے اگر ہم پر یہ شک کیا جائے کہ ہم سے زیادہ کوئی ججز کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی میں مخلص ہے تو یہ غلط ہے یہ تاثر ختم ہو نا چاہیے وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے حلف اٹھانے سے قبل ججز کی رہائی کا اعلان کیا تھا وزیر اعظم نے کہا کہ دہشت گرد وحشیانہ کاروائیوں کے ذریعے نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور ملک میں گڑ بڑ پھیلا کر جمہوریت کو عدم استحکام سے دو چار کر نا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی خوشیاں اور غم یکساں ہیں کسی ہمسائیہ ملک سے تعلقات خراب نہیں کر نا چاہتے غربت ،بھوک،افلاس،بے روز گار ی،مہنگائی،بھارت ،پاکستان اور افغانستان کے دشمن اور مسائل ہیں ہمیں جنگ نہیں کر نی ان مسائل سے نمٹنا ہے وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے دفاع مضبوط ہے ہم اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں فوج اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیت سے لیس ہے جو سرحدات کی دفاع کر نا جانتی ہے اس حوالے سے قوم کو کوئی وہم اور فکر نہیں ہو نا چاہیے فکر یہ ہو نا چاہیے کہ حکومت ،جمہوریت اور فوج کو کیوں بدنام کیا جاتاہے اس تاثر کو زائل کر نا ہے ہم کسی کی ذات کے خلاف نہیں ہیں یہی وجہ ہے کہ میں نے صدر مشرف کے مواخذے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی بے یقینی کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہا کہ ایک ہفتہ میں ججز کی بحالی کی بات نہیں کی ججز ضرور بحال ہوں گے ہماری نیت صاف ہے۔

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment