نہتے اور معصوم عوام پر حملے کرنے والوں سے کسی کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔ قبائلی علاقوں میں ہتھیار ڈالنے والے ہمارے بھائی ہیں
ا تحادی جماعتیں ،سیاسی قوتیں سب مل کر دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ میں پالیسی طے کریں گی ۔
وزیراعظم پاکستان کی واہ کینٹ میں خودکش حملے میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت
واہ کینٹ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ملک میں خودکش دھماکوں پر پوری قوم سے معذرت کرتا ہوں ۔ کسی صوبے میں حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں ہونے دیںگے نہتے اور معصوم عوام پر حملے کرنے والوں سے کسی کا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔ قبائلی علاقوں میں ہتھیار ڈالنے والے ہمارے بھائی ہیں ۔ا تحادی جماعتیں ،سیاسی قوتیں سب مل کر دہشت گردی کے خلاف پارلیمنٹ میں پالیسی طے کریں گی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پی او ایف ہسپتا ل واہ کینٹ میں خودکش حملے مین زخمیوں کی عیادت کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ جب سانحے کا سنا تو بے حد دکھ ہوا ۔ ان غریبوں پر جو محنت کش مزدور تھے جن پر کئی افراد کا انحصار تھا۔ شہید کردئیے گئے جو عناصر غریبوں پر حملے کراتے ہیں ان کی مذمت کرتے ہین سیاسی جماعتوں ، عوام ، سیاسی کارکنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ ان واقعات کے ذریعے وہ لوگ جو ملک کا سکون برباد جو غریبوں سے روٹی روزی چھیننا چاہتے ہیں کے خلاف ہمارے ساتھ دیں سب کو مل کر اس کا طریقہ نکالنا ہے جو نہتے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اس سے ملک کی رسوائی ہوتی ہے ، بدامنی ہوتی ہے انہوں نے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ بروقت زخمیوں کی امداد کی فراہمی سے بہت سے زخمی خطرے سے باہر آگئے ہیں ۔ حکومت غفلت کا مظاہرہ نہیں کرے گی ۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا میں پہلا مقصد سیاسی عمل مذاکرات کیے ہیں کرنا بھی چاہتے ہیں ۔ قبائلی محب وطن ہیں سب سے پہلے ملک کو بنانے میں بانی پاکستان کا ساتھ دیا ۔ سرحدات کے تحفظ میں قبائل نے قربانیاں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ چند شرپسند امن خراب کرنا چاہتے ہیں ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ قبائل کو عسکریت پسندون سے الگ تھلگ کرنا چاہتے ہیں ۔ اتحادی جماعتوں سے کہا ہے کہ اس بارے میں پارلیمنٹ حکمت عملی طے کریں جو عناصر ان واقعات میں ملوث ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں ۔ غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میںو زیراعظم نے کہا کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوتی کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ کچھ لوگ گرفتار ہوئے ۔ تحقیقاتی رپورٹ قوم کے سامنے پیش کی جائے گی ۔فاٹا کی صور تحال کے حوالے سے وجوہات کو تلاش کرنا ہے ۔ بھوک افلاک بیماری ہے ۔ ترقی کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں ۔ لوگوں کو صحت ، تعلیم دیگر بنیادی سہولتون کی فرہامی کے ساتھ مذاکرات بھی کررہے ہین جو لوگ ہتھیار پھینک چکے ہیں وہ ہمارے بھائی ہیں ۔ نہتے عوام پر حملے کرنے والوں کا کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے ۔ ملک کے کسی صوبے میں حکومتی رٹ کو چیلنج نہیں ہونے دیں گے۔ اس قسم کے واقعات پر معذرت خواہ ہیں تمام سیاسی قوتوں کو مل کر حالات کا مقابلہ کریں گے عوامی حمایت وتائید حاصل ہے سابقہ اور موجودہ حکومت میں اس حوالے سے فرق ہے

































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment