Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

امریکہ کا آصف زرداری سے زلمے خلیل زاد کے براہ راست خفیہ رابطوں پر اظہار برہمی

August 26th, 2008 · No Comments;  3 months ago

بش انتظامیہ کی طرف سے اقوام متحدہ کیلئے امریکی سفیر کو سخت سوالات کا سامنا

سفیر کو پاکستانی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیںہے ۔ جان نیگرو پونٹے

وضاحت کریں کہ آپ زرداری کو کس قسم کی ہدایت اور مدد فراہم کررہے ہیں ،رچرڈ باؤچر کا زلمے خلیل زاد کو خط

خلیل زاد پاکستانی سیاسی قیادت کی امریکی محکمہ خارجہ میں بیورو کریٹس تک رسائی اور ان سے مستقبل میں استفادہ سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستانی اہلکار

امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز‘‘ کی رپورٹ

واشنگٹن ۔ بش انتظامیہ نے اقوام متحدہ میں امریکہ کے افغان نژاد سفیر زلمے خلیل زاد کے پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کے ساتھ براہ راست خفیہ رابطوں پرسخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفیر کو پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ بش انتظامیہ کی جانب سے زلمے خلیل زاد کو سخت سوالات کا سا منا ہے اور امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے اور جنوبی ایشیاء کے لیے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے زلمے خلیل زاد کے اس اقدام پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے ۔امریکی اخبار ’’نیو یارک ٹائمز ‘‘کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے کئی مرتبہ ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔ حتیٰ کہ دونوں رہنماوں کے درمیان اگلے ہفتے دبئی میں ملاقات کا پروگرام بھی طے پا گیا تھا جسے امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیا رچرڈ باؤچر کو پتا چلنے کے بعد منسوخ کر دیا گیا۔ اخبار کے مطابق رچرڈ باؤچر کو خود آصف علی زرداری نے ایک ملاقات میں بتایا تھا کہ زلمے خلیل زاد کی طرف سے مسلسل ہدایات اور مدد مل رہی ہے۔ جس کے بعد رچرڈ باؤچر نے زلمے خلیل زاد کو خط لکھ کر ان سے وضاحت طلب کی کہ وہ زرداری کو کس قسم کی ہدایات اور مدد فراہم کر رہے ہیں۔ رچرڈ باؤچر نے18اگست کو زلمے خلیل زاد کو لکھے گئے خط میں سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امریکہ نے پاکستان کی سیاست اور دوسرے معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ محدود تعلقات رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو ایسے میں آپ کس قسم کی ہدایات اور امداد فراہم کر رہے ہیں؟ کیا آپ یہ سمجھنے میں میری مدد کریں گے کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ اخبار کے مطابق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نیگروپونٹے نے بھی ان خفیہ رابطوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر کی کوئی براہ راست ذمہ داری نہیں ہے ۔ واضح رہے کہ خلیل زاد زلمے کے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے قریبی تعلقات تھے اور گزشتہ گرمیوں میں اسپن کولو میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے دونوں نے ایک نجی طیارے میںسفر کیا تھا۔ اخبار کے مطابق آصف زرداری کے ساتھ اس قسم کے رابطوں کے انکشاف کے بعد امریکہ میں یہ تاثر جنم لے رہا ہے کہ زلمے خلیل زاد افغانستان کی صدارت کے لئے ذاتی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کو اس سال جنوری میں سوٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقعے پر ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ بیٹھنے اور افغان حکام سے تعلقات استوار کرنے پر بھی شدید تنقید کا سامنا ہوا تھا۔امریکی حکام کے مطابق اس واقعے کے بعد زلمے خلیل زاد کو آزادانہ اظہار رائے سے اجتناب برتنے کی ہدایت دی گئی ہے تاہم ان کے خلاف تادیبی کارروائی خارج از امکان نہیں ہے۔ ادھر ایک سینئر پاکستانی اہلکار نے بتایا کہ زلمے خلیل زاد اور آصف علی زرداری کے درمیان کئی سالوں سے تعلقات ہیں اور یہ تعلقات اس وقت سے استوار ہوئے ہیں جب شہید بے نظیر بھٹو نیویارک میں وقت گزار رہی تھیںا ور آصف علی زرداری ان کے ہمراہ تھے پاکستانی اہلکار نے کہا کہ دونوں آصف علی زرداری اور خلیل زاد کے درمیان مشاورت معلومات کا کھلم کھلا تبادلہ خیال تھا اور دونوں رہنما ایک دوسرے کی سیاسی بصیرت سے استفادہ کرتے رہے انہوں نے کہا کہ خلیل زاد ایک سیاسی شخصیت ہیں وہ پاکستانی سیاسی قیادت کی امریکی محکمہ خارجہ میں بیورو کریٹس تک رسائی اور ان سے مستقبل میں استفادہ سے بخوبی واقف ہیں پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ سفیر پالیسی بناتے یا تبدیل کرتے نہیں وہ صرف ایک متبادل چینل ہوتے ہیں

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News , World News | ,



اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو