٭۔ ۔ ۔ معمولی بخار اور نزلہ بخار کے مریض ہسپتالوں میں پہنچنے پر ایک بیڈ پر تین تین لیٹنے پر مجبور ہو گئے
٭۔ ۔ ۔ سیکرٹری صحت نے آج تک کسی بھی مریض کی عیادت نہیں کی ، ڈینگی کا مرض کچی آبادیوں کے علاوہ سفید پوش علاقوں میں بھی آٹپکا
لاہور ۔ ڈینگی وائرس کی وباء نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ۔ معمولی بخار اور نزلہ زکام کے مریضوں نے بھی سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرلیا جس کے باعث ایک بیڈ پر 3 تین مریض لیٹنے پرمجبور ہو گئے ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت اور ضلعی حکومت کے بروقت اقدامات نہ کرنے سے صوبائی دارالحکومت میں 8سو سے زائد افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ شہر میںاس مرض کے اضافے کی بنا پر عوام خوفزدہ ہو گئی جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی سہولت نہ ہونے کی بناء پر لوگ مجبورا پرائیویٹ ٹیسٹ کروا رہے ہیں ۔ گذشتہ روز صحافیوں کی ٹیم نے سروسز ہسپتال ایمرجنسی کا دورہ کیا تو وہاں ایک بیڈ پر تین 3 مریض تھے ۔ گنگا رام ، میو ، جنرل ہسپتال میں بھی اس مرض سے متاثرہ افراد کے علاج کیلئے خاطر خواہ انتظاما ت نہیں کئے گئے، دوسری طرف محکمہ صحت کے حکام عوام میں اس مرض کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی بجائے ہسپتالوں میں سیمینار منعقد کروا رہی ہے ۔ جس میں ماسوائے ڈاکٹروں کے شہریوں کو دعوت نہیں دی جاتی ۔ وزیر اعلی نے صوبائی دارالحکومت میں ڈینگی وائرس کے مریضوں میں اضافے پر محکمہ صحت کے اعلی حکام کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے ای ڈی او ہیلتھ کو معطل کیا لیکن اس کے باوجود بھی سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب نے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کیلئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے جس کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت کی کچی آبادیوں کے علاوہ سفید پوش علاقوں میں بھی وائرس آٹپکا ہے ۔ سیکرٹری صحت پنجاب نے کسی بھی سرکاری ہسپتال کا اچانک معائنہ نہیں کیا اور نہ ہی ڈینگی وائرس کے مریضوں کی عیادت کی ہے ۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر سپرے مکمل کروایا جائے اور اس میں کوتاہی برتنے والے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت ایکشن لیں













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment