ہماری کردار کشی کے ذریعے اپنا قد کاٹھ بڑھایا جا رہا ہے
فاٹا کے بارے میں اصل حقائق سامنے لانے پر ہمارا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے ۔ مولانافضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات چیت
اسلام آباد ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمیں 17 ویں ترمیم کی یاد دلانے والی عوامی نیشنل پارٹی اس بات کو کیوں بھول گئی ہے کہ صدارتی ریفرنڈم ک ے حوالے سے آئینی حیثیت کے لیے اس نے پرویز مشرف کا سرخ جھنڈیوں سے استقبال کیا تھا ۔ اسفند یار ولی خان شاید چار سدہ بم دھماکے کے بعد ایوان صدر منتقلی بھی طے شدہ پروگرام کا حصہ تھا عوامی نیشنل پارٹی مقبولیت کھو چکی ہے ہماری کردارکشی کے ذریعے اپنے قد کاٹھ کو بڑھانا چاہتی ہے ۔ منگل کو پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ نہ جانے ہمارے خلاف نام نہاد سیکنڈل مہم شروع کرنے والوں نے کتنا مال کمایا ہے ہمیں ان لوگوں کی تلاش ہے ۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ اجلاس میں فاٹا کے بارے میں اصل حقائق سامنے لانے پر عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے ہمارا ٹرائل شروع کردیا گیا امریکہ ا ور اس کے حواریوں کو ہماری یہ تقریر ہضم نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے میری شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ اسفند یار ولی خان کو الزامات لگانے کی سیاست زیب نہیں دیتی ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسفند یار ولی خان اس طرح طے شدہ پروگرام کے تحت بیرون ملک گئے تھے جس طرح وہ چار سدہ بم دھماکے کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ ایوان صدر منتقل ہو گئے تھے اور پندرہ دنوں تک صدر آصف علی زرداری سے مذاکرات کرتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمیں بھی بعض سیاستدانوں کی کردار کشی کی ترغیب دلانے کی کوشش کی گئی تھی مگر ہم کسی کے خلاف میڈیا ٹرائل مہم کا حصہ نہیں بنے ۔ بعض سیاستدان میری کردار کشی کے ذریعے اپنے قد کاٹھ میں اضافہ کرناچ اہتے ہیں انہوں نے کہا کہ زمینوں کے جس سیکنڈل کی بات کی جا رہی ہے وہ زمینیں ایم ایم اے کی حکومت نے تو منسوخ کی تھیں یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ لیز بھی ہماری حکومت نے منسوخ کیا ہو اور وہ سیکنڈل بھی ہو ۔اور آج یہ معاملہ کیوں اچھالا جارہا ہے۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment