پارلیمنٹ کی قراردادکے بعد فوجی آپریشن اس کی توہین ہے ،دن دہاڑے سفارت کاروں کا اغواء اوراہم شخصیات کا قتل سرحد حکومت کی ناکامی کاثبوت ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب:
پشاور۔ پارلیمنٹ کی کشمیرکمیٹی کے چیئرمین اورجمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے اے این پی کے سربراہ اپنا قدبڑھانے کے لئے میری کردارکشی نہ کرے،ہماراخیال تھا کہ بیرونی دورے کے بعد ان کے حواس بحال ہوچکے ہیں ان سے ایسی غیرذمہ دارانہ بیانات کی توقع نہیں تھی۔ بچوں کے ہاتھوں میں کتابیں دینے کی باتیں کرنے والے کتابیں نہ دے سکیں،علماء پرالزامات ڈالنے کی بجائے اپنا قبلہ درست کرے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے آج پشاورمیں سابق وزیراعلی سرحداکرم خان درانی کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں متفقہ منظورہونے والے قراردادپرعمل درآمد نہ ہونا پارلیمنٹ کی توہین ہے پارلیمنٹ میں ملک توڑنے اوردہشت گردوں کے نام پر ملک کے مفادات اورامت مسلمہ کے خلاف جنگ کی سازش بے نقاب کرنے پر بعض قوتیں ہماری کردارکشی پراترآئی ہے جبکہ اے این پی ان قوتوں کی الہ کاربن کرسیاسی عمل میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سترھویں ترمیم کاطعنہ دینے والے ریفرنڈم میں پرویزمشرف کی حمایت اورسرخ جھنڈوں سے استقبال بھول چکے ہیں آج ہمارے مطالبے پر سترھویں ترمیم ختم کیوں نہیں کیاجاتا۔انہوں نے کہا کہ صوبہ سرحد میں انتظامیہ پر حکومت کاکنٹرول ختم ہوچکا ہے بچوں کے ہاتھ سے کتابیں لیکر ان پر گولیاں چلائی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی قراردادکے بعد فوجی آپریشن پارلیمنٹ کی توہین ہے اورایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت کی طرف سے عملی اقدامات سے پہلے اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کے خلاف سے سب سے زیادہ جدوجہد ہم نے کی ہے اوراس کاثبوت ملین مارچ اوردیگر جلوسوں کی شکل میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرحدمیں تحفظ نام کی کوئی چیز موجود نہیں دن دہاڑے سفارت کاروں کو اغواء اوراہم شخصیات کو قتل کیا جارہا ہے جوحکومت کی ناکامی کاثبوت ہے۔جے یوآئی کے امیر نے کہا کہ حکمران آٹا سمگلنگ میں ملوث ہیں ہم انہیں دعوت دیتے ہیں کہ ایجنسیوں کی سیاست کی بجائے نظریات کی سیاست کرے اورموجودہ حالات میں مثبت کردار اداکرے۔انہوں نے کہا کہ جے یوآئی نے ہمیشہ قیام امن کے لئے کوششیں کی ہیں اورآئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اے این پی کے رہنماء علما ء پربے جا الزامات ڈال رہے ہیں جوبہت افسوسناک ہے الزماات عائدکرنے کی بجائے اپنا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر اورباالخصوص سرحد وقبائلی علاقوں میں قیام امن کے لئے سیاسی وسائل استعمال کرنا ناگزیر ہے کیونکہ جب تک امن قائم نہیں ہوگا خوشحالی نہیں آئے گی۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment