آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس کیلئے دباؤ ڈالا ہے اور نہ ہی دفاعی بجٹ میں کٹوتی کی شرائط عائد کی گئیں ، وزیر مملکت برائے اقتصادی امور
درآمدی خشک دودھ اور خورنی تیل کو جانچنے کا طریقہ کار موجود ہے ،پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت
غیر ملکی افراد اور کمپنیوں کو فارنرز ایکٹ کے تحت وفاقی یا صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے بعد پراپرٹی حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ کی اسمبلی میںو قفہ سوالات کے دوران اظہارخیال
اسلام آباد۔ وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حنا ربانی کھر نے جمعہ کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران انکشاف کیا ہے کہ مالی سال برائے 2008-09 ء کے بجٹ میں متعارف کردہ ٹیکس سکیم کے تحت اب تک 2619 افراد کے 21 ارب روپے کے کالے دھن کو سفید کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں 42 کروڑ 2 لاکھ 70 ہزار روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا ۔ آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس کے لیے دباؤ ڈالا ہے اور نہ ہی آئی ایم ایف نے دفاعی بجٹ میں کٹوتی کے لیے شرائط عائد نہیںکی ہیں ۔ فروری 2008 ء میں ملک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 77 کروڑ 79 لاکھ ڈالر تھے جو کم ہو کر 6 ارب 65 کروڑ 37 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں گزشتہ روز ہمایوں سیف اللہ کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حنا ربانی کھر نے کہا کہ چھٹے این ایف سی ایوارڈ کے مطابق صوبوں کو گیس کی رائلٹی دی جاتی ہے ۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران صوبوں کو گیس رائلٹی کی مد میں ایک ارب 64 کروڑ 62 لاکھ روپے سے زائد ادا کیے گئے ان پانچ سالوں میں گیس پر 585.685 ملین روپے کی رقم ایکسائز ڈیوتی کی مد میں منہا کی گئی ۔ ضمنی سوال کے جواب میں وزیر مملکت اقتصادی امور نے کہا کہ آئی ایم ایف سے صرف پاکستان ہی قرضہ حاصل نہیں کررہا دیگر ممالک نے بھی معاہدے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے 3.5 فیصد سے 4.5 فیصد شرح سود پر قرضہ حاصل کررہا ہے۔دیگر ممالک بھی اس شرح سے قرضہ لے رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جولائی 2008 ء سے اب تک بجلی کے صارفین کو 29 ارب 60 کروڑ روپے کی سبسڈی دی گئی ہے ۔ بیلم حسنین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت نور عالم نے کہا کہ درامدی خشک دودھ اور خوردنی تیل کو جانچنے کا طریقہ کار موجود ہے ۔ ہرکنسائمنٹ کو کسٹمز اہلکار چیک کرتے ہیں ان اشیاء کی پچاس فیصد شیلف کی مدت باقی ہونا ضروری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران 251 تاجروں نے بین الاقوامی تجارتی میلوں میں شرکت کی ۔ پاکستانی مصنوعات کی باہر کی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانے کے لیے تاجروں کے وفود کو ان میلوں میں بھجوایا جاتا ہے۔ نمائش کنندگان کو سٹالوں کے اخراجات کے ضمن میں 50 فیصد سے 70 فیصد سبسڈی دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوبئی میں پاکستانی مصنوعات کی نمائشوں کے لیے موثراقدامات کئے جائیں گے ۔ بیگم نزہت صادق کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت اقتصادی امور حنا ربانی نے کہاکہ ملک میں ہزار اور پانچ سو مالیت کے جعلی کرنسی نوٹ زیر گردش نہیں ہیں ۔ماضی میں بینکوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے پانچ سو اور ہزار روپے کے حوالے سے کچھ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ اور جعل سازی کے ذمہ دار افراد کو قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ نئے نوٹ یورو بانڈ کے معیار کے مطابق چھاپا گیا تھا۔ جعلی کرنسی نوٹ کی روک تھام کے لیے ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کیاجاتاہے۔ انہوں نے کہا کہ عید کے تہواروں پر عوام کے لیے بینکوں کو نئے نوٹ زیادہ تعداد میں فراہم کئے جائیں گے ۔ شکیلہ خانم رشید کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ غیر ملکی افراد اور کمپنیوں کو فارنرز ایکٹ کے تحت وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت کی پیشگی منظوری کے تحت ہی پراپرٹی حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ وفاقی حکومت نے آج تک کسی افغان باشندے کو پراپرٹی کی خرید کے لیے این او سی جاری نہیں کیا ہے ۔ اس طرح ابھی تک کسی بھی بھارتی شہری کو بھی این او سی جاری نہیں کیا گیا ۔ ملک ابرار احمد کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے اقتصادی امور حنا ربانی کھر نے کہاکہ 13 اکتوبر 2008 ء تک 2008-09 بجٹ کے تحت متعارف کردہ ٹیکس سکیم کے تحت 21 ارب روپے کا لا دھن سفید کیا گیا ہے ان پر 420.27 ملین روپے کا ٹیکس ادا کیا گیا۔حنا ربانی کھر نے ایوان کو بتایا کہ سکیم کے تحت 2619 کیسز کو نمٹایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے مقدمات کو قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ کالادھن کو سفید کرنے کی سکیم 31 دسمبر 2008 ء کو ختم ہو جائے گی ۔ ملک ابرار احمد کے سوال کے جواب میں وزیر مملکت اقتصادی امور نے کہا کہ یکم فروری 2008 ء کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14777.9 ارب ڈالر تھے جو 14 نومبر 2008 ء کو کم ہو کر 6653.7 ارب ڈالر رہ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی اور درآمدی بل میں اضافے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کو تیل کی مد میں بل کی ادائیگی کے لئے 5 ارب ڈالر زائد ادا کرنے پڑے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پرتعیش اشیاء کی درآمد کا متحمل نہیں ہے ۔ کابینہ نے ان اشیاء پر ٹیکس اور ڈیوٹی بڑھا دی ہے ۔ ضمنی سوال کے جواب میں حنا ربانی نے کہا کہ سابقہ دور میں ڈالروں کی بیرون ملک منتقلی کے حوالے سے جس SRO کی بات کی جا رہی ہے اس کی تصدیق کے لئے وزارت خزانہ سے رابطہ کیا گیا ہے ۔ ایوان سے وعدہ ہے کہ اس بارے میں ضرور آگاہ کیا جائے گا ۔ ضمنی سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ 16 کروڑ کی آباد میں ایک کروڑ افراد ٹیکس دیتے ہیں ۔ آئی ایم ایف نے زرعی ٹیکس لاگو کرنے کے لء ے کوئی دباؤ نہیں ڈالا ہے ۔ صرف میکرو اکنامک نظام کو مضبوط کرنے کی بات کی ہے ۔ آئی ایم ایف سے ٹیکسوں کے حوالے سے ڈکٹیشن نہیں لے رہے ہیں براہ راست ٹیکسوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment