احمد آباد میں 5سو ہندوؤں کو دہشت گردی کی تربیت دی تھی
نئی دہلی ۔ بم دھماکوںکی سازش کے جرم میں گرفتار کیے گئے بھارتی فوجی کرنل نے انکشاف کیا ہے کہمالی گاؤں اور دوسر علاقوں میں دھماکے دراصلبھارتی مسلمان طلبہ کی تنظیم سیمیکو دہشت گرد قرار دینے اور پاکستان سے اس کی مدد ثابت کرنے کے لییکیے گئیاحمد آباد میں 5سو ہندوؤں کو بھی دہشت گردیکی تربیت دی گئی ہیمالی گاؤں بم دھماکوں کی سازش میں گرفتار کیے گئے لیفٹیننٹ کرنل سری کانتپروہت نیمبینہ طورپراپنے جرائم کا سنسنیخیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی گاؤں دھماکوںکا منصوبہ سیمی کو صفحہ ہستیسے مٹانے کے لیے بنایا گیاتھا بتایا جاتا ہے کہ فوج سے معطل کیے گئے کرنل نے ملک میں ایسے کئی بم دھماکوں میں سرگرم کردارادا کرنے کا آنسو بہاتے ہوئے اعتراف کرلیاجو کیس آج تک حل نہیں کیے جا سکے ۔ یہ سارے معاملات وہ ہیں جن میں سیمی یا سرحد پار دہشت گردتنظیموںکو ملوث قرار دیا گیا ہے پروہت نیبنگلور کی فارنسکسائنس لیبارٹریمیں نار کوٹسٹکے دوران یہ راز بھی فاش کیا کہ دھماکوں کے لیے سادھوی اور دیانند نے اسے اکسایا تھا۔انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے مطابقدرحقیقت پروہت سادھوپرگیہ سنگھ ٹھاکراور دیانندپانڈے نے بم دھماکوں کی تمام سازشتیار کی تھیانہوں نے پولیسکو گمراہ کرنے کے لیے ہر دھماکہ کی جگہ چند ایسی نشانیاں چھوڑی تھیں جن سے سیمی پر شبہ کیا جائے۔ کرنل پروہت نےیہ انکشافات نار کوٹسٹ کیدوران کیے ہیں تاہم عدالت میں اس تجزیاتیاعتراف کو بطور شہادت قبولنہیں کیا جاتا ہے اب پولیسپر ذمہ داری ہے کہ اس انکشافکی روشنی میں حقائق کاپتہ چلانیثبوت اکٹھا کرتے ہوئیملک میں متعددبم دھماکوں کے کیسحل کرے ۔ ذرائع کے مطابق کرنل پروہت نے یہ بھی بتایا کہ 2006 ئمیں ناند یڑبم دھماکوں میں بھی پانڈے ملوثتھا۔ان دھماکوں میں بجرنگ دل کے دو کارکنبم تیار کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔ کرنل پروہت کے مطابقاجمیر دھماکہ کسی اور نے نہیں بلکہ خود ساختہ سوامیامریتا نند عرف دیانندپانڈے نے کیے تھے ان دھماکوںکے بعد پولیس نیمسلمانوں کو گرفتار کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ عقائد کا اختلاف رکھنے والیمسلمانوں نے یہ حرکت کی ہے۔ معطل فوجیعہدیدار نے ایک اور حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نیاحمد آبادکے قریب ایک آشرممیں دہشت گرد ٹریننگ کیمپمیں تقریبا 500ہندوؤں کو دہشتگردی کی تربیت دی تھی اگرچہ اس نے دہشت گردی کی تربیتکی نوعیتکے بارے میں نہیں بتایا لیکن سمجھاجاتا ہے کہیہ تربیتبم سازی ، اسلحہ کا استعمال ، دھماکواشیاء نصب کرنے اور پولیس کو گمراہ کرنے سے متعلق تھی













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment