٭۔ ۔ ۔ معاشی مسائل کے حل کیلئے بددیانت قیادت اور سرمایہ پرستی پر مبنی پالیسیاں تبدیل کرنا ہوں گی
٭۔ ۔ ۔ قوم و پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر ایسی معاشی احیاء واستحکام کی پالیسیاں اختیار کی جائیں جس میں اصل انحصار اہل پاکستان کی دولت اور ترقیاتی مساعی پر ہو۔ مرکزی مجلس عاملہ کی قرارداد
لاہور۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ نے دوبارہ آئی ایم ایف کے چنگل میں ملک کو دینے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی معیشت اور سیاسی خودمختاری کیلئے تباہ کن قرار دیا ہے۔ قاضی حسین احمد کی زیر صدارت مجلس عاملہ نے اپنے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلاشبہ موجودہ حکومت کو مشرف اور شوکت عزیز کے دور کی تباہ کن معاشی پالیسیوں کے نتائج ورثہ میں ملے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس حکومت نے اپنے آٹھ مہینے کے دور اقتدار میں معاشی اصلاح کی طرف ایک بھی قابل ذکر قدم نہیں اٹھایا۔ زندگی کے ہر میدان میں سابقہ پالیسیوں ہی کو جاری رکھا گیا ہے اور اب آئی ایم ایف کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ملک میں شرح سود میں ایک ہی جست میں دو فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے جس سے زراعت تجارت اور صنعت میں پیداواری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں۔ کاروباری طبقہ اس ظلم پر چلا رہا ہے۔ بیرونی معاشی عناصر کو خوش کرنے اور ملک کے وسائل پر ان کو قبضہ کا موقع دینے کیلئے نجکاری کے نام پر گیس، شوگر، بجلی جیسی اہم صنعتوں کو جو نفر آور بھی ہیں ان کی طرف منتقل کرنے کی کھلی سازشیں کی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ اس نجکاری کی مخالفت کررہی ہے مگر سیاست اور انتظامیہ کے مفاد پرست عناصر تباہی کے اس راستہ پر بگ ٹٹ بھاگتے نظر آرہے ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آج ایک عام گھرانے کیلئے عزت سے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا محال ہوگیا ہے۔ ایکسچینج کا کاروبار کرنے والوں کو تو ہتھکڑیاں لگائی جارہی ہیں مگر وہ بااثر افراد جن کا اربوں ڈالر ناجائز طور پر باہر ہے انہیں کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ ہمارا اصل مسئلہ نااہل اور بددیانات قیادت اور اس کی سرمایہ پرستی پر مبنی پالیسیاں ہیں اور ضرورت ان دونوں ہی کو تبدیل کرنے کی ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے نتیجہ میں ملک میں سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کی رفتار میں کمی آئے گی، بے روزگاری بڑھے گی ، اشیائے ضرورت کی قلت اور بھی گھمبیر ہوجائے گی۔ روپے کی عالمی قیمت گرے گی جس سے درآمدات مزید مہنگی ہوجائیں گی۔ نیز ملک کی پالیسی سازی اور بجٹ سازی پر آئی ایم ایف حاوی ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں ہماری رہی سہی آادی بھی ختم ہوجائے گی۔ حکومت اس خوفناک کھیل کو فی الفور ختم کرے اور قوم و پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر معاشی احیاء واستحکام کی وہ پالیسیاں اختیار کرے جس میں اصل انحصار اہل پاکستان کی دولت اور ترقیاتی مساعی پر ہو۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment