٭۔ ۔ ۔ طلباء کو سیاست دے دور نہیں رکھا جاسکتا ، تاہم طلباء کو بھی اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے
٭۔ ۔ ۔ تعلیمی اداروں نے بہت سے سیاسی قائدین پیدا کئے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں طلباء تنظیموں کو پارٹی سیاست سے الگ رکھیں
٭۔ ۔ ۔ اپوزیشن میں تمام سیاسی جماعتیں معزول ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن حکمران بن کر سب بھول گئی ہیں
٭۔ ۔ ۔ جیلو ںمیں 60 فیصد بے قصور لوگ قید ہیں جن کا قصور صرف غربت ہے ،طلباء کو سیاسی مقاصد کے لئے سیاسی جماعتوں کے یوتھ ونگ میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے
٭۔ ۔ ۔ مجرم حکمران افتخار محمد چوہدری جیسے لوگوں کو آنے دیں گے اور نہ ہی عدالتوںکو آزاد کیا جائے گا۔سیمینار سے لیاقت بلوچ، جہانگیر بدر، عمران خان، خواجہ سعد رفیق، مجیب الرحمن شامی اور مجاہد کامران کا خطاب
لاہور۔ ملکی مسائل کو حل کرنا ہے تو صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو اپنی دولت واپس وطن لانی چاہیے ۔ پارٹی کے اندر ون مین شو نہیں چلنے دیا جائے گا۔ طلبہ کو سیاست سے دور نہیں رکھا جا سکتا ۔ غیر سیاسی صرف جانور ہی ہوتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کی جانب سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا ۔ سیمینار سے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما و رکن قومی اسمبلی مخدوم جاوید ہاشمی، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق ، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر مجاہد کامران اور مقامی اخبار کے ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے بھی خطاب کیا ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ ملک کے معاشی اور سیاسی بحران ختم کرنے ہیں تو صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو اپنی دولت وطن واپس لانا ہو گی ۔ سیاسی جماعتوں میں ون مین شو ہم نہیں چلنے دیں گے ۔ انہو ںنے کہا کہ بہت سے سیاسی لیڈر تعلیمی اداروں سے نکل کر آئے ہیں ۔طلباء کو سیاست سے دور نہیں رکھا جانا چاہیے تا ہم طلبہ کو بھی اپنا محاسبہ آپ کرنا چاہیے ۔ اہوں نے کہا کہ جب تک متوسط طبقہ سے قیادت آگے نہیں آئے گی گی جمہوریت مضبوط نہیں ہو گی ۔ آج پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ سے تو کلاشنکوف لینے کی بات کی جاتی ہے لیکن ضرورت امریکہ سے بھی وہ میزائل واپس لینے کی ہے جو وہ ہمارے شہریوں پر پھینک رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے طلبہ کے ذریعے ملک بنایا اب طلبہ کو آگے بڑھ کر ملک کو بچانے کی بھی ضرورت ہے تا کہ جرنیلی سیاست کا ملک سے ہمیشہ کے لئے خاتمہ کیا جا سکے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں تحقیق اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ کفر عالم اسلام اور اس کی وحدت پر حملہ آور ہے جبکہ ڈالر کو ملک سے باہر بھیج کر اور این آراو کے ذریعے لوگوں کو پاک کر کے پاکستان کو معاشی بحران کا شکار کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ووٹ کے ذریعے نئی قیادت کا انتخاب کرنا چاہیے ۔ ۔ اسی قیادت کے ذریعے مستقبل میں ملک میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ عرصہ حکومت پر فوجی آمر مسلط رہے ان کے جانے کے بعد اب یہا ں تبدیلی آنی چاہیے ۔ رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا درس دیا جا تا ہے جبکہ تعلیمی اداروں میں کہا جاتا ہے کہ طلباء سیاست پر بات نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پھر سیاستدان کس بات پر بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنی پہلی تقریر میں طلباء یونینز کی بحالی کا اعلان کیا تھا لیکن تعلیمی اداروں میں محض انتخابات سے کچھ فائدہ نہیں ہو گا ۔ ہمیں دیگر قباحتوں کو بھی ختم کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں نے بہت سے سیاسی قائدین پیدا کئے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں طلباء تنظیموں کو پارٹی سیاست سے الگ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ مشرقی پاکستان میں طلباء تنظیوں نے گراںقدر کردار ادا کیا لیکن سیاسی جماعتیں اپنے جلوس بھرنے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ طلباء یونینز کو اپنا سیاسی ونگ نہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایم او کالج سے ایسے عناصر کا صفایا کیا اور وہاں سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی تصاویر بھی ہٹا دی گئیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معزول ججوں کو ٹکڑوں میں بانٹ کر حلف نہ اٹھوائے جائیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ میں پنجاب یونیورسٹی میں طلباء کو پولیٹیسائز کرنے آیا ہوں کیونکہ غیر سیاسی صرف جانور ہی ہوتے ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے قوم میں پہلی بار امید کی ایک کرن پیدا کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں تمام سیاسی جماعتیں معزول ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن حکمران بن کر سب بھول گئی ہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ طلبہ کو بھیڑ بکریوں کی طرح نہیں رکھا جا سکتا ۔ ان میں دانشورانہ سوچ اجاگر ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مخدوم جاوید ہاشمی نے ایک جرنیل کا خط پڑھا تو اسے جیل میں ڈال دیا گیا جبکہ ڈی آئی جی سلیم اللہ خان نے مجھے بتایا ہے کہ جیلو ںمیں 60 فیصد بے قصور لوگ قید ہیں جن کا قصور صرف غربت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پٹواریویوں اور این آراو کے ذریعے لوٹا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف حکمران آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے ربانی مانگنے سے پہلے حکمرانوں کو خود اپنے پیٹ پر پتھر باندھنا اور ٹیکس دینا ہو گا ۔ بیرون ملک پاکستانیوں کو اپنا سرمایہ پاکستان لانے کے لئے انہیں اعتماد میں لینا پڑے گا تا کہ انہیں اپنی دولت کے محفوظ ہونے کا احساس ہو سکے ۔انہوں نے کہا کہ مجرم حکمران افتخار محمد چوہدری جیسے لوگوں کو آنے دیں گے اور نہ ہی عدالتوںکو آزاد کیا جائے گا ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے سیمینار ہوتے رہنے چاہیں، سیاسی دباؤ سے طلبہ کی طاقت کو ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں پو اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے ۔ طلبہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اب 18 سا ل کا نوجوان ووٹ کا حق رکھتا ہے اس لئے طلباء کو سیاسی مقاصد کے لئے سیاسی جماعتوں کے یوتھ ونگ میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے ۔













































1 response so far ↓
1 urdu , urdunews, urdunewspaper, newsurdu, online urdunews, مورخہ ١٧ نومبر ٢٠٠٨ کا تصویری اخبار // Nov 18, 2008 at 4:07 am
[...] معاشی اور سیاسی بحران کے خاتمہ کے لئے زرداری اور میاں ب… طلباء کو سیاست سے دور نہیں رکھا جاسکتا ، تاہم طلباء کو بھی اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے ، تعلیمی اداروں نے بہت سے سیاسی قائدین پیدا کئے ہیں،ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں طلباء تنظیموں کو پارٹی سیاست سے الگ رکھیں ، اپوزیشن میں تمام سیاسی جماعتیں معزول ججوں کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہیں لیکن حکمران بن کر سب بھول گئی ہیں ، جیلوں میں 60 فیصد بے قصور لوگ قید ہیں جن کا قصور صرف غربت ہے ،طلباء کو سیاسی مقاصد کے لئے سیاسی جماعتوں کے یوتھ ونگ میں شمولیت اختیار کرنی چاہیے ، مجرم حکمران افتخار محمد چوہدری جیسے لوگوں کو آنے دیں گے اور نہ ہی عدالتوںکو آزاد کیا جائے گا۔سیمینار سے لیاقت بلوچ، جہانگیر بدر، عمران خان، خواجہ سعد رفیق، مجیب الرحمن شامی اور مجاہد کامران کا خطاب ۔مزید۔۔۔۔۔۔ [...]
Leave a Comment