٭۔ ۔ ۔ حکومت اپنے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے عدلیہ کو بحال کرے، معزول ججوں کی بحالی تک حالات ٹھیک نہیں ہوں گے اور نہ ہی امن ہو گا ۔۔جسٹس خواجہ محمد شریف کا وکلاء سے خطاب
لاہور ۔ معزول چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس خواجہ محمد شریف نے حلف لینے والے ججز کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے وکلاء تحریک کے ساتھ غداری کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے عہدوں کے ساتھ عزت نہ ہو تو ایسے عہدے لعنت بن جاتے ہیں ۔ حکومت نے حلف لینے والے ججوںکو بحال نہیں بلکہ تعینات کیا ہے ۔ بحالی وہ ہے جس کیلئے وکلاء جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز کراچی شہدا ہال لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ان کے علاوہ صدر لاہور ہائیکورٹ بار انور کمال، صدر لاہور بار منظور قادر، سابق صدر لاہور ہائیکورٹ بار فردوس بٹ و دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا ۔ جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ وکلاء کی تحریک 9 مارچ کو چلی تھی جس میں ہر باشعور اور میڈیا نے بڑا اہم کردار اد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 5 نومبر 2007ء کو لاہور ہائیکورٹ میں وکلاء کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا اور ہم حکومت پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ریاستی دہشت گردی میں ملوث پولیس افسران کو معطل کریں تاکہ دوبارہ اس طرح کے واقعات رونما نہ ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشرف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اس پر مقدمات چلانے کی بجائے سیکورٹی دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ووٹ عدلیہ کی بحالی پر لئے تھے اور وہ اب مینڈیٹ کا احترام کریں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے بھی مختلف حلقوں سے دباؤ دیا کہ میں حلف اٹھا لوں لیکن یہ وکلاء تحریک سے غداری ہے ۔ وکلاء ججز کی بحالی کے لئے مشکلات اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے عہدوں کے ساتھ عزت نہ ہو تو ایسے عہدے لعنت بن جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی عزت مجھے اب ملی ہے وہ اربوں روپے بھی مل جانے کے بعد نہ ملتی ۔ عوام مجھے افتخار محمد چوہدری کے ساتھ دیکھناچاہتی ہے اور ہم مرتے دم تک ان کا ساتھ دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ معزول ججوں کی بحالی تک نہ حالات ٹھیک ہوں گے اور نہ امن ہو گا ۔ دیگر وکلاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 نومبر کا دن ہائیکورٹ کی تاریخ کا سیاہ دن ہے ۔ اس دن 450 سے 500 وکلاء پر پرچے درج کئے گئے اور انہیں پابند سلاسل کیا گیا لیکن حکمرانوں کے یہ اقدامات ہمارے جذبوں کو مات نہیں کرسکتے جس طرح ایک آمر نے وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنا کر ریاستی دہشت گردی کا مرتکب بنایا ۔ موجودہ حکومت بھی سابقہ پالیسیوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے جو 18 فروری سے پہلے ہمارے ساتھ تھے وہ آج عدلیہ کو بحال کرنے سے گریزاں ہیں ۔ ان کے مقاصد صرف حکومت تھی ۔ جن کو وہ حاصل کر چکے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ عدلیہ اور جسٹس افتخار کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ این آر او ہے جو لوگ این آر او سے مستفید ہوئے وہ وکلاء کی تحریک سے نفرت کر تے ہیں ۔ وکلاء نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف 5 نومبر کو پولیس کی کارروائی کے خلاف پرچہ درج کروائیں کیونکہ سابق وزیر اعلی پرویز الہی کے خلاف بھی ایک سال بعد ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے ۔ مقررین نے کہا کہ حکمران ابھی بھی سمجھ جائیں ورنہ ان کا حال بھی مشرف سے بدتر ہو گا ۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment