سری نگر ۔ کشمیر رابطہ کمیٹی کی طرف سے جمعہ کوایک بار پھرجامع مسجد چلو پروگرام کے پیش نظرپورے شہرسرینگر کی سخت ترین ناکہ بندی کر دی گئی تھی اور پہلے سے غیر اعلانیہ کرفیوکے نفاذ کومزید سخت کر دیاگیا تھا ۔جمعرات کی شام کو ہی لالچوک کوسیل کر دیاگیا تھا اورسی آر پی ایف کی بھاری تعداد تعینات کر دی گئی تھی جبکہ شہر سرینگر کی اہم شاہراؤں کوبھی بند کرکے جگہ جگہ سیکورٹی فورسز نے خاردارتاریں اوردیگر رکاوٹیں کھڑا کر کے سرینگرشہر کوعبور و مرور کیلئے ناممکن بنا دیا تھا ۔اس دوران مائسمہ،حبہ کدل ،کنہ کدل اور چنکرال محلہ کے علاوہ پائین شہر کے دیگر چند علاقوں میں شبانہ مظاہرے ہوئے جس کے دوران فورسز اور مظاہرین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں اور فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے شلنگ بھی کی۔واضح رہے کہ رابطہ کمیٹی کی جمعرات کوجامع مسجد چلو پروگرام ناکام بنانے کیلئے شہر سرینگر اور وادی کے دیگر تمام قصبوں میں بغیر اعلان کرفیو نافذ کئے جانے سے معمول کی زندگی مکمل طور پر مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ حریت کانفرنس (انصاری ) کے چیئر مین میر واعظ عمر فاروق سمیت کئی حریت پسند رہنماؤں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا ۔ لوگوں کو تاریخی جامع مسجد تک جانے سے روکنے کیلئے شہر سرینگر میں جگہ جگہ تار بندی کردی گئی تھی جبکہ سینکڑوںکی تعداد میں پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کو شہر کی ہر گلی ، ہر بازار اور ہر نکڑ پر تعینات کردیا گیا تھا۔ 1947 میں تقسیم کے وقت جموں میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران شہید کئے گئے لاکھوں مسلمانوں کی یاد میں گذشتہ 61 برسوں سے 6نومبر کو یوم شہدائے جموں کے طور منایا جاتا ہے اور اس دن کی مناسبت سے رابطہ کمیٹی نے لوگوں کو جامع مسجد سرینگر میں جمع ہو کر ’شہدائے جموں‘ کو خراج عقیدت پیش کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ رابطہ کمیٹی کے ’جامع مسجد چلو ‘کال کو ناکام بنانے کیلئے بدھ کو رات دیر گئے شہر سرینگر کے حساس علاقوں اور وادی کے کئی قصبوں میں سی آر پی ایف اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کرکے غیر اعلانیہ کرفیو لگایا گیااورجامع مسجد کے ارد گرد سیکورٹی کے کڑے انتظامات کرکے جامع مسجد کی طرف جانے والے تمام راستوں کو سیل کردیا گیاتھا ۔جمعرات کی صبح شہر خاص کے نوہٹہ ،راجوری کدل ،خانیار ،بہوری کدل ،گوجوارہ،بہوری کدل ،کاؤ ڈارہ ، صفاکدل، مائسمہ ،کرالہ کھڈ ، بربرشاہ ،ڈلگیٹ ،کاکہ سرائے ،بٹہ مالو ،سرائے بالا ،حبہ کدل اور شہر کے دیگر علاقوں میں لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ لوگوں کو جامع مسجد اور میر واعظ عمر فاروق کی رہائش گاہ واقع نگین تک پہنچنے سے روکنے کیلئے جگہ جگہ پولیس و فورسز نے تار بندی اور ناکہ بندی کردی تھی ۔ سول لائنز اور شہر خاص میں پولیس ، سی آر پی ایف اور نیم فوجی دستوں کو بھاری تعداد میں تعینات کرکے غیراعلانیہ طور پر کرفیو کا نفاذ عمل میں لایاگیا اور کسی بھی شخص کو باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ لالچوک کو فورسز نے مکمل طور پرسیل کر دیاتھا اورلالچوک کے تمام راستوں پراضافی سیکورٹی بٹھا دی گئی تھی جبکہ جگہ جگہ پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں۔ صحافیوں کو بھی پوچھ تاچھ اورباضابطہ طور پر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد چھوڑا جارہا تھاجبکہ عام لوگوں کی نقل و حرکت پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی تھی۔شہر سرینگر میں مجموعی طور پرکرفیو جیسی صورتحال رہی جس کے دوران بازار مکمل طور پر بند اور گاڑیوں کی آمد ورفت ٹھپ ہو کر رہ گئی اورسڑکوں اور بازاروں میں صرف سیکورٹی اہلکار نظر آئے اور عام لوگوں نے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔
جامع مسجد کے اردگردسنگین محاصرہ ، غیر اعلانیہ کرفیو نافذ رہا
November 7th, 2008 · No Comments; last year, at the start of November
Tags: Kashmir , Urdu , Urdu News | kashmir













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment