قیدیوں کو رہا کیا جائے ، غیر ملکی افواج کشمیر سے نکل جائے
اسلام آباد۔جموں کشمیرلبریشن فرنٹ کے زیر اہتمام اسلام آباد میں یو این آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور دھرنا دیا گیا ۔ یہ احتجاج بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جبر و تشدد ، گرفتاریاں ، لاٹھی چارج ، نظر بندی اور بھارتی فورسزکے کریک ڈاون کے خلاف اپنے بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا مظاہرے کی قیادت صدر صابر انصاری ایڈووکیٹ ، سیکرٹری جنرل راجہ لطیف طاہر ، سابق صدر خواجہ پرویز اقبال اور کوآرڈینیٹر حاجی رفیق ڈار نے کی جبکہ نمایاں رہنماؤں میں غلام احمد بٹ ، سلیم ہارون ، فاروق لون ، نذیر احمد کرناہی ، آفتاب احمد ، مشتاق غزالی اور مقامی رہنماوں کے علاوہ خواتین ، بزرگوں ، بچوں اور نوجوانوں نے مظاہرے میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے پہلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ ہم کیا چاہتے آزادی ، الیکشن نہیں آزادی ، غیر ملکی غاصبو چھوڑ دو کشمیر کو ، مدد کرے گا پروردگار ، کشمیر بنے گا خود مختار ، مقبول بٹ کا راستہ ، یاسین ملک کا راستہ ہے ہمارا راستہ رہا کرو رہا کرو ، یاسین ملک کو رہا کرو ، شہدائے کشمیر کی عظموں کو سلام ہو ، کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ شرکاء مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے راہنماوں نے کہاکہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے آٹھ لاکھ فوج اور فورسز کی موجودگی اور بھارتی آئین کے تحت الیکشن سے بائیکاٹ کر کے شہداء جمو ںو کشمیر کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں ہونا دیااور وطن کی آزادی سے وفاداری کی ۔ جبکہ بھارت نے انسانی اور جمہوری قدروں کی پامالی کرتے ہوئے گرفتاریاں ، جبر و تشدد ، قتل و غارت گری ، نظر بندی کا بازار گرم کر کے اپنی جمہوریت کا بھانڈہ پھوڑ دیا ۔ مقررین نے کہا کہ غیر ملکی افواج اور بیوروکریسی کو جموں و کشمیر سے نکلا دیا جائے تو 61سالہ مسئلہ دنوں میں حل ہو جائے گا۔ مسئلے کے حل کے لیے پہلے مرحلہ پر سیز فائر لائن کو ختم کیا جائے اطراف کے کشمیریوں کو آزادانہ ماحول میں سفر کرنے دیا جائے۔ آئے روز کے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیش کئے جانے والے فارمولوں کو بند کیا جائے کیونکہ کشمیری صرف آزادی چاہتے ہیں ۔جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سیکرٹری جنرل راجہ لطیف ، سابق صدر خواجہ پرویز اقبال نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو جاتا جنوبی ایشیاء میں جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ شملہ معاہدے ، اعلان لاہور اور دیگر معاہدوں جن میں کشمیری شامل نہیں یا تقسیم کشمیر کی جانب جاتے ہیں لبریشن فرنٹ انہیں مسترد کرتا ہے ۔ کوآرڈینیٹر رفیق ڈار سلیم ہارون ، نذیر کرناہی ، فاروق لون نے کہاکہ مشترکہ کنٹرول قبول نہیں باراک حسین اوبامہ کو منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جن خیالات کا اظہار کیا تھا ۔ اب ان ثمرات نظر آنا چاہیے اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلے کا حل نکلنا چاہیے ۔ بزرگ غلام احمد بٹ ، سیکرٹری مالیات مشتاق غزالی نے کہا انسانی حقوق کے علمبردار ادارے آگے بڑھ کر پابند سلاسل چےئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر حریت رہنماوں کو ادویات ، اشیاء خورد و نوش ان تک پہنچانے اور ملاقاتوں کے لیے بندوبست کریں۔ انہوں نے کہاکہ لبریشن فرنٹ الیکشن کے خلاف نہیں تاہم غیرملکی آئین کو ہرگز قبول نہیں کر سکتا۔ انہوںنے کہاکہ ہماری جدوجہد جموں و کشمیر کی مکمل آزادی خود مختاری تک جاری رہے گی۔انتخابات آزادی کانعم البدل نہیں ہو سکتے۔ آزادی کے بعد ہی جمہوری نظام قائم کیا جا سکتاہے ۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment