اکثر پولنگ سٹیشنوں پر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ووٹ ڈالتے رہے
ڈھونگ انتخابات کے خلاف کشمیری عوام کی ریلیوں کو روکنے کے لئے کرفیو نافذ کر دیا گیا
نیشنل کانفرنس نے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دے دی
سرینگر ۔ مقبوضہ کشمیر میں سخت حفاظتی انتظامات اور شدید سردی میں اسمبلی انتخابات کے لیے پہلے مرحلے کی پولنگ ہوئی ۔ ریاست میں حریت پسندوں کی ریلیوں کو روکنے کے لیے غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ آج چار ضلعوں کے دس اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جاری رہی ۔ پونچھ ضلع کے ایک پولنگ سٹیشن میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات پانچ اہلکاروں کو انتخابی ضابطء اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرگرفتار کیاگیا ہے۔ پہلے مرحلے کی پولنگ میں پونچھ، باندیپورہ، گڑگل اور لیہہ میں ووٹ ڈالے گئے ۔ حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کئے گئے تھے اور صرف پونچھ میں ہی نیم فوجی دستوں کی اسی کمپنیاں تعینات کی گئی تھی ۔ جولائی اگست میں آزادی کے حق میں ہونے والے مظاہروں اورحکومت کی جوابی کارروائی کے پس منظر میں حریت پسند جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے انتخابی مہم کافی پھیکی رہی ہے۔ زیادہ تر حریت پسند رہنما یا تو گرفتار ہیں یا انہیں نظر بند کردیا گیا ہے۔ جو جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان میں سے نیشنل کانفرنس نے بے روزگاری دور کرنے اور تحریک آزادی کے دوران شہید ہونے والوں کے کنبوں کی مالی امداد کا وعدہ کیا ہے جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے خود مختاری اور گریٹر جموں اور کشمیر کا نعرہ بلند کیا۔ ادھر کانگریس نے ترقی، صاف شفاف حکومت اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تو بھارتیہ جنتا پارٹی نے ریاست کے ہندو اکثریت والے علاقے کو نظر انداز کیے جانے کا الزام لگایا۔ ریاست میں چوبیس دسمبر تک سات مرحلوں میں پولنگ کرائی جائے گی۔ گزشتہ روز ایک سو دو امیدواروں کے انتخابی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ سب سے زیادہ بائیس امیدوار سوناواڑی حلقے سے میدان میں ہیں۔ غیر متوقع طور پر موسم کی پہلی برفباری ہوجانے کی وجہ سے ریاست میں عام زندگی متاثر ہوئی ہے۔ریاستی ناظم مسعود سامون نے بی بی سی کوبتایا ’سکیورٹی اداروں کو امن و امان میں بگاڑ کا خدشہ تھا اس لیے وادی میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے، جس کی رْو سے چار سے زائد افراد ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ کرفیو کہیں پر نہیں ہے۔‘ حریت کانفرنس کی کال کے پیش نظر سرینگر، اننت ناگ اور بارہمولہ اضلاع میں نیم فوجی عملے کی بھاری تعداد کو تعینات کرکے لوگوں کی نقل وحرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔ ادھر نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نے ایک بیان میں الیکشن کمیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی خرابی کے باعث انتخابات کو اگلے سال مارچ یا اپریل تک موخر کردے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز نے عوام کو زبردستی گھروں سے نکالنے کی کوششیں کی ہیں اور انتخابات میں ووٹ نہ ڈالنے پر عوام کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ اکثر پولنگ سٹیشنوں پر ہو کا عالم رہا ہے ۔ بھارتی فوج اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاران سول کپڑوں میں ووٹ ڈالتے رہے ۔













































1 response so far ↓
1 urdu , urdunews, urdunewspaper, newsurdu, online urdunews, مورخہ ١٧ نومبر ٢٠٠٨ کا تصویری اخبار // Nov 18, 2008 at 4:06 am
[...] مقبوضہ کشمیر الیکشن ، ریاست میں پہلے مرحلے کی پولنگ میں… مقبوضہ کشمیر میں سخت حفاظتی انتظامات اور شدید سردی میں اسمبلی انتخابات کے لیے پہلے مرحلے کی پولنگ ہوئی ۔ ریاست میں حریت پسندوں کی ریلیوں کو روکنے کے لیے غیراعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ نیشنل کانفرنس نے انتخابات کو ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ آج چار ضلعوں کے دس اسمبلی حلقوں میں ووٹ ڈالے گئے ۔ پولنگ صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک جاری رہی ۔ پونچھ ضلع کے ایک پولنگ سٹیشن میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات پانچ اہلکاروں کو انتخابی ضابطء اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پرگرفتار کیاگیا ہے۔مزید۔۔۔۔۔ [...]
Leave a Comment