٭۔ ۔ ۔ عدالتوںمیں پیش نہ ہونا اور سڑکوں پر احتجاج وکلاء کا حق ہے لیکن عدالتوں کو تالے نہیں لگائے جاسکتے
٭۔ ۔ ۔ واقعہ سنگین جرم اور دہشت گردی ہے ، عدالت نے چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری اور آئی جی کو طلب کر کے سرزنش کی اور ایف آئی آر کے اندراج کے بعد جمعہ کو رپورٹ طلب کر لی
لاہور۔ لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ چار نومبر کو عدالتوں کی تالہ بندی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ایف آئی آر کے اندراجکے بعد جمعہ کے روز اس حوالے سے پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا جائے ۔ تفصیلات کے مطابق ایوان عدل سمیت دیگر عدالتوںکی وکلاء کی جانب سے چار نومبر کو تالہ بندی کے واقعہ کا از خود نوٹس لیتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید زاہد حسین نے جسٹس میاں نجم الزمان کی سربراہی میں سات رکنی بنچ تشکیل دیا جس کے دیگر ارکان میں جسٹس میاں ثاقب نثار ، جسٹس مولوی انوارالحق ، جسٹس نسیم سکندر، جسٹس عبدالشکور پراچہ، جسٹس محمد بلال خان اور جسٹس شبر رضا رضوی شامل ہے ۔ بنچ کی تشکیل کے بعد عدالت عالیہ نے چیف سیکرٹری پنجاب جاوید محمود ، ہوم سیکرٹری ندیم الحسن، اور آئی جی پنجاب شوکت جاوید کو طلب کرتے ہوئے سماعت ڈھائی بجے تک ملتوی کر دی ۔ دوپر ڈھائی بجے صوبہ کے تینوں ذمہ داران دیگر افسران کے ساتھ عداتل عالیہ میں پیش ہوئے۔ عدالت عالیہ نے عدالتوں کی تالہ بندی کے واقعہ کو سنگین ترین اور دہشت گردی قرار دیتے ہوئے صوبہ کے تینوں افسران کی سرزنش کی اور کہا کہ آئندہ کسی بھی ایسے واقعہ کے تدارک کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ کل بنچ کے ارکان نے جب استفسار کیا کہ تالہ بندی کے مرتکب کتنے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور کیا کارروائی کی گئی ہے تو جواب دیا گیا کہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔ اس حوالے سے سینئر سیشن جج کی رپورٹ کا انتظار ہے ۔ عدالت عالیہ نے افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیکرٹریٹ کو آگ لگا دی جائے تو کیا آپ انتظار کرتے رہیں گے کہ کب چیف سیکرٹری آئیں اور آپ کو احکامات دیں ۔عدالت نے کہا کہ اگر وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوتے اور سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عدالتوں کو تالے لگا دیئے جائیں ۔ عدالتوں کی تالہ بندی سنگین جرم اور دہشت گردی ہے ۔ وکلاء قانون سے بالا تر نہیں ہیں۔ 30 گھنٹے گزر جانے کے باوجود ابھی تک ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی ملزمان کی شناخت کی گئی حالانکہ ٹی وی چینلز کی فلمیں بھی موجود ہیں ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ ذمہ دار ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ایف آئی آر کے اندراج کے بعد جمعہ کو رپورٹ عدالت عالیہ کے سامنے پیش کی جائے ۔ عدالت عالیہ نے یہ بھی کہا کہ یہ تنیوں افسران صرفلاوہر کے نہیں پورے صوبہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے دمہ دار ہیں اگر وہ کسی وجہ سے کارروائی کرنے سے قاصر ہیں تو بتائیں ہمارے پاس متبادل راستے بھی موجود ہیں ۔ کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی ۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment