٭۔ ۔ ۔ آئندہ جمعرات تک وکلاء کے خلاف کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو ردعمل کی ذمہ دار حکومت اور ہائی کورٹ کا سات رکنی بینچ ہوگا
٭۔ ۔ ۔ وکلاء کو اشتعال نہ دلایا جائے ورنہ ہائی کورٹ میں بھی تالا بندی ہوسکتی ہے، سلمان تاثیر وصی ظفر کے انجام سے سبق سیکھیں۔ حامد خان، نثار قادر، لطیف سراء ودیگر کا وکلاء ریلی سے خطاب
لاہور۔ وکلاء برادری نے حکومت اور عدلیہ کو وارننگ دی ہے کہ آئندہ جمعرات تک 4 نومبر کو عدالتوں کی تالا بندی پر کارروائی کرنے سے باز آجائے ورنہ وکلاء کی جانب سے شدید ردعمل کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹس میں تالا بندی ہوسکتی ہے تو آئندہ ہائی کورٹ میں بھی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے۔ اگر وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تو پی سی او ججز کی عدالتوں سے ضمانت کروانا اپنی توہین سمجھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پی سی او کے تحت بننے والے ججز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ سابق ڈکٹیٹر مشرف نے وصی ظفر کو پالا تھا جبکہ موجودہ دور میں زرداری نے سلمان تاثیر کو باندھا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وکلاء رہنماؤں نے جمعرات کے روز ایوان عدل سے نکلنے والی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وکلاء نے زرداری، لطیف کھوسہ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ریلی میں جماعت اسلامی، تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) ، خاکسار تحریک، پختونخواہ ملی پارٹی، لیبر پارٹی، جمعیت علماء پاکستان (نفاذ شریعت) ، کمیونسٹ پارٹی اور اسلامی جمعیت طلبہ کے علاوہ سول سوسائٹی کے اراکین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ چیئرنگ کراس چوک میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے رکن وسابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ پی سی او ججز کی کوئی آئینی وقانونی حیثیت نہیں ہے ۔ انہوں نے قومی مجرم پرویز مشرف کے حکم پر پی سی او کے تحت حلف اٹھایا۔ ہم ان کی جانب سے وکلاء کے خلاف 4نومبر کی عدالتی تالا بندی پر سویوموٹو ایکشن لینے کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے۔ اگر وکلاء کو اشتعال دلایا گیا تو اس کے نتیجہ میں ہونے والے ردعمل کا ذمہ دار نام نہاد سات رکنی بینچ اور حکومت ہوگی۔ انہوں نے وکلاء کو تلقین کی کہ وہ کل بروز جمعہ لاہور ہائی کورٹ کے سات رکنی بینچ کی سماعت کو پرامن طور پر سنیں اور کسی قسم کی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی سے اجتناب کریں۔ قبل ازیں ایوان عدل سے نکلنے والی ریلی میں وکلاء برادری کی جانب سے گدھا بھی ریلی میں شامل کیا گیا جس کے گلے میں ایک اعلی ترین حکومتی شخصیت کا نام لکھ کر ڈالا گیا تھا۔ اس موقع پر وکلاء نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ریلی جب مال رود پر پہنچی تو تاجران کی جانب سے ان پر گل پاشی کی گئی۔ وکلاء نے چیئرنگ کراس چوک میں دھرنا دیا اور صدر زرداری کے پورٹریٹ کو جلایا گیا۔ لاہور بار کے جنرل ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے بار کے صدر منظور قادر نے کہاکہ ہم عدالتوں سے تصادم نہیں چاہتے ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔ ہماری اصل جنگ ضمیر فروش پی سی او ججز کے خلاف ہے۔ اگر انہوں نے آئندہ جمعرات تک وکلاء کے خلاف پرچہ درج کروانے کا حکم واپس نہ لیا تو وکلاء برادری شدید ردعمل کا اظہار کرے گی۔ آئندہ چند روز میں صوبہ بھر کی بارز کے صدور اور جنرل سیکرٹریوں کو اجلاس کی دعوت دے دی ہے تاکہ نام نہاد ججوں کی جاںب سے کسی غیر قانونی فیصلے کے خلاف لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہ اگر لوئر کورٹس کی تالا بندی ہوسکتی ہے تو ہائی کورٹ کی بھی کردیں گے ۔ ہم نے قسم کھائی ہے کہ حقیقی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کو بحال کرواکر دم لیں گے۔ا گر وکلاء کے خلاف پرچہ درج کیا گیا تو پی سی او زدہ ججز جن کے دامن داغ دار ہیں کی عدالت سے ضماتیں کروانا اپنی توہین سمجھیں گے۔ سابق سیکرٹری لاہور بار خاور بشیر نے کہاکہ گذشتہ دور میں پرویز مشرف نے وصی ظفر کو باندھا ہوا تھا جبکہ موجودہ دور میں اس کی جگہ سلمان تاثیر نے لے لی ہے وہ وصی ظفر کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ پی سی او زدہ جج ڈوگر اور این آر او زدہ زرداری غیر آئینی طور پر اپنے عہدوں پر براجمان ہیں۔













































1 response so far ↓
1 urdu , urdunews, urdunewspaper, newsurdu, online urdunews, مورخہ ٦ نومبر ٢٠٠٨ کا تصویری اخبار // Nov 7, 2008 at 2:50 am
[...] جسٹس ڈوگر پی سی او زدہ ہیں، وکلاء پر مقدمہ چلا تو پی سی ا… وکلاء برادری نے حکومت اور عدلیہ کو وارننگ دی ہے کہ آئندہ جمعرات تک 4 نومبر کو عدالتوں کی تالا بندی پر کارروائی کرنے سے باز آجائے ورنہ وکلاء کی جانب سے شدید ردعمل کیلئے تیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوئر کورٹس میں تالا بندی ہوسکتی ہے تو آئندہ ہائی کورٹ میں بھی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے۔ اگر وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تو پی سی او ججز کی عدالتوں سے ضمانت کروانا اپنی توہین سمجھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پی سی او کے تحت بننے والے ججز کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ سابق ڈکٹیٹر مشرف نے وصی ظفر کو پالا تھا جبکہ موجودہ دور میں زرداری نے سلمان تاثیر کو باندھا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وکلاء رہنماؤں نے جمعرات کے روز ایوان عدل سے نکلنے والی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وکلاء نے زرداری، لطیف کھوسہ اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔مزید۔۔۔۔۔ وکلاء احتجاج ، وکلاء ہائی کورٹ کے ججز کے گیٹ پر چڑھ گئے، چیف جسٹس کے خلاف نعرے بازی وکلاء ریلی میں گدھے کی شرکت ’’ کھوتے نال کھوتا وٹایا، مشرف دی جگہ زرداری آیا‘‘ کے نعرے میں لوگوں کی خصوصی دلچسپی [...]
Leave a Comment