٭۔ ۔ ۔ لاہور ہائیکورٹ نے ایک ہفتہ کے اندر وکلاء کے خلاف مقدمہ واپس نہ لیا تو عدالتوں کا گھیراؤ کریں گے
لاہور ۔ جنرل مشرف قومی مجرم ہے اسے سہولیات اور پناہ دینے والے بھی قومی مجرم ہیں ۔ آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی یا جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کالے کوٹ والوں سے ٹکرانے کی کوشش کی تو پاش پاش کر کے رکھ دیں گے ۔ عدالتوں کی تالا بندی کروانے کے اقدام پر اگر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ا یک ہفتہ کے اندر مقدمہ واپس نہ لیا تو ان کی عدالت کا گیراؤ کریں گے ۔ پی پی پی کے حکمرانوں کے پاس ابھی وقت ہے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کردیں ورنہ پچھتاوے کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز ہفتہ وار وکلاء ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء رہنماؤں نے کیا ۔ ایوان عدل سے نکلنے والی ریلی میں تحریک انصاف، جماعت اسلامی، خاکسار تحریک، لیبر پارٹی، پختونخواہ ملی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی تمام راستے آصف علی زرداری کے خلاف شدید نعرے بازی کی، وکلاء نے فیصل چوک میں دھرنا دیا ۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری شوکت عزیز نے کہا کہ ہماری تحریک اصولوں کی بنیاد پر جاری ہے جب تک مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے جاری رہے گی ۔ نئی سپریم کورٹ باڈی وکلاء تحریک اصولوں کی بنیاد پر جاری ہے جب تک مقاصد حاصل نہیں ہو جاتے جاری رہے گی ۔ نئی سپریم کورٹ باڈی وکلاء تحریک کو مزید آگے بڑھائے گی ۔ حامد خان نے اپنے ،خطاب میں کہا کہ حکمران دوغلی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں ۔ ایک طرف تین نومبر کے اقدامات کو بھی غلط کہتے ہیں ۔ مشرف کے خلاف بھی بیان بازی کرتے ہیں تاہم عملا کچھ نہیں کرتے کوئی ایک راستہ منتخب کرلیں یا تو تین نومبر کے اقدامات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر 2 نومبر والی عدلیہ کو بحال کر دیں ۔ ورنہ دوسرا راستہ جنرل مشرف کی کھل کر حمایت کردیں ابھی وقت ہے زرداری اور گیلانی عدلیہ کو بحال کردیں ۔ ورنہ پچھتاوے کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ پاکستان بار کونسل کے ارکن عبدالرحمن انصاری نے آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی یا جنرل کیانی نے کالے کوٹ والوں سے ٹکرانے کی کوشش کی تو انہیں بھی پاش پاش کردیں گے ۔ سوموٹو لینے پر ہائیکورٹ کو بخوبی اندازہ ہو گیا ہے کہ وکلاء کے خلاف آئین نہیں لیا جا سکتا اگر ایک ہفتہ کے اندر تالا بندی کرنے پر وکلاء کے خلاف درج کروایا مقدمہ واپس نہ لیا تو عدالت کا گھیراؤ کریں گے ۔ وکلاء متحد ہیں جنہوں نے بکنا اور جھکنا تھا وہ اپنے مفادات حاصل کرچکے ہیں ۔ قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ بار کے جنرل ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے لاہور بار کے صدر منظور قادر نے کہا کہ آئین اور اداروں کو تباہ کرنے والے قومی مجرم جنرل (ر) پرویز مشرف کا ٹرائیل کرنے کی بجائے حکومت اسے 25 ایکڑ والے سہولیت سے مزین گھر میں پناہ دے رکھی ہے ۔ قوم مجرم کو پناہ دینے والے بھی قومی مجرم ہیں ۔ جنرل مشرف جب لاہور آیا تو گورنر ہاؤس کے سٹاف اور انتظامیہ نے اسے پروٹوکول دیا جو قابل مذمت ہے ۔ حکمرانوں کے تعاون سے اب وہ سیاست میں آنے کیلئے پروٹوکول دیا ہے ۔ وکلاء تحریک اس حد تک طاقت ور اور موثر ہے کہ راہ چلتے افراد پوچھتے ہیں کہ چیف جسٹس کب تک بحال ہو جائیں گے اس سے قبل سیکرٹری لاہور بار ملک سرور کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ فیملی اور گارڈین کورٹس کو نئی سیشن بلڈنگ میں منتقل نہ کیا جائے جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ سیشن کورٹ میں آئے روز مقدمات کی پیشی کے موقعہ پر ملزمان کے ساتھی فائرنگ کرتے رہتے ہیں لہذا عورتوں اور معصوم بچوں کی حفاظت کیلئے فیملی اور گارڈین کورٹ کو ایوان عدل میں رہنے دیا جائے ۔ جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ منظور قادر نے اپنے خطاب کے دوران کہا اس مسئلے پر سیشن جج سے بات ہو چکی ہے آئندہ دو روز میں فیملی اور گارڈین کورٹس واپس ایوان عدل منتقل کردی جائیں گی ۔ لاہور بار کے سابق صدر محمد شاہ نے کہا کہ وکلاء اگر باوردی ڈکٹیٹر کو بھگا سکتے ہیں تو موجودہ سول ڈکٹیٹر کیا چیز ہیں ۔وکلاء نے چند روز قبل ایوان صدر سے چند قدم کے فاصلے پر دھرنا دیا تھا آئندہ یہ فاصلے بھی ختم ہو سکتے ہیں













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment