اوباما کی کامیابی پر دنیا بھر کی اقوام امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توقع کررہی ہیں
اوباما کی جیت کو امریکا اور دنیا بھر کے لئے تاریخی تبدیلی ہے ‘ پروفیسر خورشید احمد
پاکستانی قبائلی علاقوں میں القاعدہ کیخلاف کارروائیوں پر بھی اوباما کا موقف بش سے قدرے مختلف نوعیت کا ہے‘ ڈاکٹر لارنس سائز
اسلامی دنیا بالعموم اور مشرق وسطیٰ کے لوگ بالخصوص نئی امریکی انتظامیہ سے مثبت تبدیلی کی توقعات رکھتے ہیں‘ ڈاکٹر پال سالم
نیویارک۔دنیا بھر کے مسلمان امریکا کے براک اوباما کے بطور صدر انتخاب پر توقعات و خدشات رکھتے ہیں۔ نو منتخب صدر براک اوباما کی کامیابی پر دنیا بھر کی اقوام امریکی پالیسی میں تبدیلی کی توقع کررہی ہیں۔ تبدیلی ڈیموکریٹ صدارتی مہم کا نعرہ بھی تھا۔ اسلامی دنیا ڈیموکریٹ براک اوباما کی پالیسیوں کے متعلق توقعات و خدشات سے دوچار ہے ۔ پاکستان میں مجموعی طور پر براک اوباما کے منتخب ہونے پر مثبت خیالات ہیں لیکن کچھ لوگ ان کی کامیابی سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کرتے۔جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر خورشید احمد نے اوباما کی جیت کو امریکا اور دنیا بھر کے لئے تاریخی تبدیلی قرار دیا ہے۔ ریپبلکنز کی ناکامی کا سبب گزشتہ آٹھ سال کی صدر بش کی پالیسیاں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیمو کریٹس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ اوباما ریپبلکن پالیسیوں کے خلاف اپنا موقف موثر طور پر پیش کرتے رہے۔ اسکول فار اورینٹل اینڈ افریکن اسٹڈیز کے سینئر لیکچرر ڈاکٹر لارنس سائز کا کہنا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف کارروائیوں پر بھی اوباما کا موقف بش سے قدرے مختلف نوعیت کا ہے۔کارنیگی مڈل ایسٹ سینیٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پال سالم نے اوباما کے انتخاب پر کہا کہ اسلامی دنیا بالعموم اور مشرق وسطیٰ کے لوگ بالخصوص نئی امریکی انتظامیہ سے مثبت تبدیلی کی توقعات رکھتے ہیں، اسی طرح ایرانی انقلاب کے بعد پہلی بار کسی ایرانی صدر نے امریکا کے نومنتخب صدر کی آمد پر مبارکباد اور خیرسگالی کا پیغام بھیجا ہے جسے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کی ڈاکٹر ینا ایلن نے خوش آئندہ قرار دیا ہے۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment