وعدے پورے کئے جاتے تو آج مالیاتی بحران پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا
وہ وقت ضرور آئے گا جب معزول ججز مینار پاکستان پر جا کر حلف لیں گے پاکستان کا آئی ایم ایف کا تجربہ اتنا اچھا نہیں ہے
ہماری خود مختاری اتنی بھی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ ہم بیان دیں اور دوسرا اس کی پرواہ ہی نہ کرے
پاکستان پیپلزپارٹی آئی ایم ایف سے دور ہی رہے تو اچھاہے۔ اب بھی اس مسائل کے حل میں حکومت کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں
ججوں کو آج بھی بحال کر دیا جاتا ہے تو پاکستان کے99 فی صد مسائل خود بخودحل ہو جائیں گے
مسلم لیگ (ن) کے قائد کا نجی ٹی وی انٹرویو
اسلام آباد۔ سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ جسٹس افتخار ایک نہ ایک دن ضرور واپس آ کر اپنے منصب پر بیٹھیں گے یہ کام اگر آج نہیں تو کل ہو کر رہے گا۔ 2006ء کو ہم نے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے وہ بڑا خوشی کا دن تھا مگر وعدے پورے نہ ہونے پر یہ خوشیاں غم میں بدل گئیں ۔اگر وعدے پورے کئے جاتے تو آج مالیاتی بحران پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میں اب بھی اس مسائل کے حل میں حکومت کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ میں مشرف کے نظام کے تحت نہیں چلنا چاہتا کیونکہ یہ نظام قوم کے لیے بہت بڑی لعنت ہے۔ اگر ججوں کو آج بھی بحال کر دیا جاتا ہے تو پاکستان کے99فی صد مسائل خود بخودحل ہو جائیں گے ایک آزاد عدلیہ ہی پاکستان کے امن وامان کی ضمانت ہے یہ کسی بھی بحران کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے گی مالیاتی بحران خود حل ہو جائے گا۔میںچاہتا ہوں کہ حکومت اپنی مدت 1973ء کے آئین کے تحت پوری کرے نہ کہ کسی آمر کے سسٹم کے تحت کرے۔ وہ وقت ضرور آئے گا جب معزول ججز مینار پاکستان پر جا کر حلف لیں گے پاکستان کا آئی ایم ایف کا تجربہ اتنا اچھا نہیں ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی آئی ایم ایف سے دور ہی رہے تو اچھاہے۔ہماری خود مختاری اتنی بھی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ ہم بیان دیں اور دوسرا اس کی پرواہ ہی نہ کرے ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کیا ۔نواز شریف نے کہا کہا پا کستان نے ماضی میں بھی آئی ایم ایف کے ساتھ کام کیا ہے ۔میرے دورے اقتدار میں ہم نے یہ طے کر لیا تھا کہ آئندہ ہم آئی ایم ایف کے پروگرام کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہیں گے اگر آپ کردیتے تو آج اس کی نوبت نہ آتی۔ میں نے پیپلز پارٹی کی خیر خواہی کے لیے یہ بات کہہ رہا ہوں کہ اس کے لیے بہتر ہو گا اگر وہ آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کرے اگر ہم اس کے بغیر اپنے معاملات کو ٹھیک کر سکیں تو اس سے بہتر اور کوئی بات نہیں ہو گی ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پارلیمنٹ فیصلہ کرے کہ ہمیں آئی ایم ایف کی طرف جانا ہے یا نہیں۔ دنیا کے تمام ملکوں میں پارلیمنٹ ہی قومی فیصلے کرتی ہے اور ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ پارلیمنٹ اپنے کندھوں پر نہ بوجھ اٹھائے اس سے حکومت وقت کا بوجھ ہلکہ ہو گا اس کی ذمہ داری بٹے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام باتیں پارلیمنٹ کے سامنے آنی چاہیں جب ایسا ہو گا تو پارلیمنٹ یہ نوٹس لے گی کہ پچھلے سات آٹھ ماہ میں کیا ہوتا رہا ہے اور گزشتہ آٹھ سالوں میں کیا ہوتا رہا ہے پھر وہ یہ سب باتیںقوم کے سامنے پیش کرے قادر پور گیس کی نجکاری کے بارے سوال پر میاں نواز شریف نے کہا کہ ابھی تک تو یہ بھی معلوم نہیں اس کے ڈیپارٹ کتنے ہیں اس کی نجکاری کا آنکھیں بند کر کے فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا اگراس کے بارے میں یہ رائے آ رہی ہے کہ اس کی نجکاری نہیں ہونی چاہیے تو یہ بالکل صحیح رائے ہے یہ اثاثہ قوم کا ہے اور اس کا فائدہ اسے پہنچنا چاہیے میاں نواز شریف نے کہا کہ ہمارے دور میں جو بھی نجکاری ہوئی بڑی شفاف ہوئی کوئی بھی اس پر انگلی نہیں اٹھا سکتا سٹیل ملز کی نجکاری کے بارے میں میاں نواز شریف نے کہا کہ اسے روکنے پر ہی چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو گھر بھیجا گیا کیونکہ اس کی نجکاری شفاف نہ تھی اور چیف جسٹس نے اسے روکا تھا۔ افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بارے میں سوال پر میاں نواز شریف نے کہا کہ ان کی بحالی کے وعدے میں میں شریک ہوں مگر انہیں بحال نہ کرنے کے جرم میں میں شریک نہیں ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اس وعدے کو پورا ہونا چاہیے تھا نہ ہونے کا مجھے بہت دکھ ہے یہ گلہ ہے اور گلہ رہے گا اس گلے کا اظہار میں زرداری سے کئی مرتبہ کر چکا ہوں پاکستانی قوم کے لیے مشرف کا پی سی او ایک تحفہ ہے آج بھی وہ اسی طرح قائم دائم ہے اسے ختم نہیں کیا گیا بلکہ اسے آگے لے کر چلاجا رہا ہے جو انتہائی افسوس کی بات ہے آج بھی پی سی او والے ججز عدالتوں میں موجود ہیں وکلاء ایک عرصے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس دوران کتنی جانیں ضائع ہوئی ہیں ۔ اس جدوجہد کا بُرا حال کر دینا بڑی ستم ظریفی ہے مجھے یہ سوچ کر بڑی تکلیف ہوئی ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ جسٹس افتخار ایک نہ ایک دن ضرور واپس آ کر اپنے منصب پر بیٹھیں گے یہ کام اگر آج نہیں تو کل ہو کر رہے گا۔ وکلاء کی جدوجہد ضرور لانگ لائے گی۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ رونا اس بات کا ہے کہ ہم نے کتنی خوشدلی کے ساتھ ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا تھا اعلان مری پر دستخط ہوئے عہدہ پیمان باندھے گئے مگر افسوس کہ پورے نہ ہوئے۔ 2006ء کو ہم نے لندن میں میثاق جمہوریت پر دستخط کئے وہ بڑا خوشی کا دن تھا مگر وعدے پورے نہ ہونے پر یہ خوشیاں غم میں بدل گئیں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عدالیتں توڑنے والوں کا ضرور احتساب ہونا چاہیے ایسے آدمی کو باعزت طور پر گارڈ آف آنر دے کر ریٹائرڈ کرنا زندہ قوموں کے شایان شان نہیں ہے۔ اگر وعدے پورے کئے جاتے تو آج مالیاتی بحران پیدا نہ ہوتا اور نہ ہی ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ میں اب بھی اس مسائل کے حل میں حکومت کے ساتھ چلنا چاہتا ہوں تاہم انہوں نے کہا کہ میں مشرف کے نظام کے تحت نہیں چلنا چاہتا کیونکہ یہ نظام قوم کے لیے بہت بڑی لعنت ہے اس سے جتنا جلدی چھٹکارا حاصل کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے میاں نواز شریف نے کہا کہ میں آصف علی زرداری کو آج بھی وعدے یاد دلا رہا ہوں۔ نواز شریف نے کہا کہ آصف زرداری اگر آج بھی مثیاق جمہوریت پر عمل کرتے ہیں تو ہم بغیر کسی شرط کے ان کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں ۔انھوں نے کہا کہ اب جس طرح نظام کو چلایا جا رہا ہے اس کی مدت بڑی مختصر ہے تاہم میں ایسا نہیں چاہتا ہوں کہ حکومت اپنی مدت پوری کر ے اور 1973ء کے آئین کے تحت پوری کرے کسی آمر کے سسٹم کے تحت نہ کرے ۔ آصف علی زرداری صدر بن گئے ہیں ۔ ان کو خود سارے اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کرنے چاہیں اپنی نا اہلی کے کیس کے بارے میں سوال پر میاںنواز شریف نے کہا کہ میں ان حالیہ عدالتوں کو نہیں مانتا اگر مجھے یہ نا اہل قرار دینا چاہتی ہیں تو سو مرتبہ کریں مگر میں اس معاملے میں ان کے سامنے پیش نہیں ہوں گا مجھے ان کی طرف سے نااہل قرار دیئے جانے کی کوئی پرواہ نہیں اگر ان کی نظروں میں نا اہل ہو جاتا ہوں تو قوم کی نظروں میں سرخرو ہوں گا ۔ میں پی پی او کے تحت بنائی گئی عدالت کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ اس کے سامنے کبھی پیش ہوں گا یہ میرا وعدہ ہے اور میں اس پر قائم ہوں اور ایسا کرنے سے ہی پاکستان اپنی منزل تک پہنچے گا ہم وکلاء کی جدوجہد کا ساتھ دے رہے ہیں یہ ضرور کامیاب ہو گی اگر ججوں کو آج بھی بحال کر دیا جاتا ہے تو پاکستان کے99فی صد مسائل خود بخودحل ہو جائیں گے ایک آزاد عدلیہ ہی پاکستان کے امن وامان کی ضمانت ہے یہ کسی بھی بحران کے خلاف ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے گی مالیاتی بحران خود حل ہو جائے گا۔ نظریہ ضرورت نے پاکستان کو بہت ضربیں لگائی ہیں کہ آج پاکستان کی رگ رگ سے خون رس رہا ہے۔ وہ وقت ضرور آئے گا عدلیہ نظریہ ضرورت اور پی سی او کو ختم کرے گی۔ یہ عدلیہ مینار پاکستان پر جا کر حلف لے گی تاکہ پاکستان کے سولہ کروڑ عوام اس کی ضامن بن جائیں یہ وقت آنے والا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے وعدوں کا پاس کیا ہے اگر دوسرے جانب سے پورے نہیں ہوئے تو اس میںہمارا قصور نہیں ہم سرخرو ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں حکومت کے معاملات میں دخل نہیں دے رہا تاہم اگر سماجی معاملات میں حکومت کی مدد کر سکوں تو مجھے خوشی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ میں سندھ ، بلوچستان اور سرحد پہلے بھی جاتا رہا ہوں اور آئندہ بھی ضرور جاؤں گا۔ وہ مجھے پنجاب کی طرح کی عزیز ہیں ہمیں چاروں صوبوں سے ووٹ ملتے ہیں میں عنقریب ان صوبوں میں ضرور جاؤں گا ۔ میں کسی ڈر کی زر میں نہیں آؤں تو بہتر ہے ۔ انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کو جلد قبائلی علاقوں میں جا کر مذاکرات کرنا چاہیں تا کہ وہاںکے مسائل حل ہوں میں نے آصف علی زرداری کو بھی یہی کہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ ہماری سر زمین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہماری طرف سے بیانات جاری ہوتے ہیں اور وہ دوبارہ آ کر خلاف ورزی کر جاتا ہے ۔ ہماری خود مختاری اتنی بھی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ ہم بیان دیں اور دوسرا اس کی پرواہ ہی نہ کرے یاتو یہ بیان دینا چھوڑ دیں یا اپنی خود مختاری کا دفاع کریں حکومت کو ٹھوس اقدامات کرنا چاہیں ۔میں غلامی کے حق میں نہیں ہوں۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment