پاکستانی حدود کی خلاف ورزی جاری رہنے پر حکومت کو تدارک کے لئے متبادل اقدامات کر نا ہوں گے
امریکی حملوں کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کیا جائے گا ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت اور بے چینی پروان چڑھ رہی ہے
متفقہ قرار داد پر عملدر آمد کا جائزہ لینے کے لئے آئندہ اجلاس میں خارجہ ،دفاع،داخلہ کے وزراء اور آئی ایس آئی کے حکام شرکت کریں گے
کمیٹی کے سر براہ میاں رضا ربانی کی میڈیا سے بات چیت
اسلام آباد۔ قومی سلامتی کے بارے میں قائم پارلیمانی کمیٹی نے قبائلی علاقوں میں امریکہ کے جاسوس طیاروں کے حملوں کا نوٹس لے لیا کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ کسی صورت پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا خلاف ورزی جاری رہتی ہے تو حکومت کو متبادل اقدامات کرنا ہوں گے کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ امریکہ کے فضائی حملوں کے خلاف عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کیا جائے گا کمیٹی نے اہم امور کے بارے میں آئندہ اجلاس میں وزیر خارجہ،وزیر دفاع ، مشیر داخلہ،اور آئی ایس آئی کے حکام سے بریفنگ لینے کا فیصلہ بھی کیا ہے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کی شام کمیٹی کے سر براہ میا ں رضا ربانی کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا کمیٹی کے اراکین شیری رحمن،مولانا فضل الرحمن،آفتاب احمد خان شیر پاؤ،سردار مہتاب احمد خان،منیر خان اورکزئی، عبدالرحیم مندوخیل، ڈاکٹر بابر اعوان،مولانا سمیع الحق، اسرار اللہ زیری، اور دیگر ارکان نے شرکت کی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ کمیٹی کو چلانے کے طریقہ کار کو وضع کر لیا گیا ہے تمام امور اتفاق رائے سے طے پائے ہیں انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی نے امریکی جاسوس طیاروں کا سخت نوٹس لیا ہے پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد کے بعد توقع تھی کہ امریکی حملے ختم ہو جائیں گے مگر امریکہ کی جانب سے پارلیمنٹ کی قرار داد کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے فضائی حملے ناقابل برداشت ہیں امریکہ کے خلاف بے چینی پروان چڑھ رہی ہے عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ قبائل کی صورتحال کے حوالے سے مذاکرات نا گزیر ہیں مسئلے کو سیاسی عمل کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے کمیٹی کا آئندہ اجلاس دسمبر کے پہلے ہفتے میں ہو گا انہوں نے کہا کہ خارجہ ، دفاع،داخلہ کے وزراء اور آئی ایس آئی کے حکام سے اس بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی کہ ان کے اداروں نے متفقہ قرار داد پر اس حد تک عمل کیا ہے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حدود کی خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں تو حکومت کو اقدامات کر نا ہوں گے













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment