گورنر پنجاب کی طرف سے پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور جمہوریت پر انگلیاں اٹھانے سے ایک بار پھر جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما کی ’’ثناء نیوز‘‘ سے بات چیت
راولپنڈی ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے داماد مسلم لیگ (ن) کے مرکزی راہنما ورکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا ہے کہ (ن) لیگ حکومت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی نہیں ہے بلکہ ماضی میں غلطیوں کے ازالے اور سیاسی تلخیاں بھلانے کے لیے برداشت کی پالیسی اپنائی ہے ۔ گورنر پنجاب کی طرف سے پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور جمہوریت پر انگلیاں اٹھانے سے ایک بار پھر جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پرویز مشرف اور ق لیگ اب ماضی کا حصہ ہیں ۔ انہیں اپنے مستقبل کا خود کوئی پتہ نہیں آج یہاں’’ثناء نیوز‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ۔انھوں نے کہا کہ (ن) لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں آمریت کامستقلاً راستہ روکنے اور ماضی کی سیاسی تلخیاں بھلانے کے لیے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے لیکن بد قسمتی سے نہ صرف میثاق جمہوریت بلکہ اعلان مری اور اعلان اسلام آباد سے بھی دوسرا فریق منحرف ہو گیا ۔ جو یہ بات بھول گئے کہ 16 کروڑ عوام نے 18فروری کو آئین کی بالا دستی جمہوری اداروں کی مضبوطی عدلیہ کی آزادی اور 73 کے آئین کی اصل حالت میں بحالی کے لیے ووٹ دیئے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے (ن) لیگ اور پی پی پی کے مابین کوئی حکومتی اتحاد نہیں بلکہ ماضی سے سبق سیکھ کر ہم نے باہمی برداشت کی پالیسی اختیار کی تاکہ مستقبل میں کوئی فوری آمر سیاسی نظام میں مداخلت کر کے جمہوریت پر سب خون نہ مار سکے۔ خیر سگالی کے اس اقدام کے پیچھے ملک میں سیاسی مفاہمت کی فضا پیدا کرنا تھا۔ لہذا پیپلز پارٹی کو بھی اس نصب العین کے تحت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ انھوں نے گورنر پنجاب سلمان تاثیر پر بھی زور دیا کہ وہ نو سالہ مشرف دور سے سبق سیکھیںاور جمہوریت پر انگلیاں اٹھانے یا پنجاب حکومت کو غیر مستحکم کرنے سے باز رہیں گورنر پنجاب کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں اور بیانات کا نقصان عوام اور تمام سیاسی قوتوں کو اٹھانا پڑے گا۔ ق لیگ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ق لیگ کی قیادت خود اپنے مستقبل سے بے بہرہ ہے۔ البتہ نجومی کا طوطا یہ فال نکال رہا ہے کہ (ق) لیگ ماضی میں مشرف کی پالیسیوں کی حمایت کے باعث عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور 18 فروری کو مشرف کی نگرانی میں ہونے والے انتخابات کے باوجود عوام نے ق لیگ اور پرویز مشرف کی آمریت کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ پرویز مشرف اب ماضی کا حصہ بن چکے ہیں ان کی دوبارہ سیاست میں آمد کا راستہ روکا جائے گا انہیں سیاسی پلیٹ فارم دینے کی بجائے عوامی عدالت میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ 3نومبر کی ایمرجنسی سمیت تمام غیر آئینی اقدامات جامعہ حفصہ اور کارگل آپریشن کے خلاف احتساب کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان میں یکے بعد دیگرے مارشل لاء نہ لگتے تو آج پاکستان میںجمہوریت مضبوط نہ ہوتی۔ آمرانہ ادوارنے عوامی خواہشات کو ہمیشہ دبائے رکھا۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ باراک اوبامہ کی کامیابی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اب قومیں رنگ نسل اور ذات برادری پر یقین نہیں رکھتیں بلکہ عوام منشور اور کردار پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغان جنگ اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے باعث امریکہ کو آنے والے دنوں میں بد ترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم اوبامہ کی فتح سے بھی خطے کی صورت حال پر کوئی کاخاص فرق نہیں پڑے گا انھوں نے کہا کہ بھارت میں جمہوری استحکام کی وجہ سے امریکی تبدیلی اثر انداز نہیں ہوسکتی کیونکہ بھارت ہمیشہ امریکہ سے برابری کی سطح پر بات کرتا ہے جبکہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہونے کے باوجود اپنے کمزور سیاسی و جمہوری نظام کی وجہ سے ہمیشہ خام خیالی سے کام لیتا ہے۔ ایک اورسوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ملک کے عدالتی نظام میں بہتری اور عدلیہ کی آزادی تک ملک میں استحکام نہیں آ سکتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کئے بغیر ترقی بھی ممکن نہیں۔ اپنے انتخابی حلقے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ این اے52 سمیت پورے ضلع راولپنڈی کی پسماندگی دور کر کے اسے ماڈل ضلع بنایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ تعمیر وترقی کے منصوبوں کے قبلے مرحلے میں این اے 52میں سڑکوں کی تعمیر اور گیس و بجلی کی فراہمی پر کام جاری ہے اور اگلے مرحلے میں یہاں سکول، ہسپتال اور کالج تعمیر کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حلقہ میں جاری منصوبوں میں 60 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment