ناراض اراکین ناراضگی کی وجہ بتائیں مسائل حل کریں گے ،چورہدری پرویز الہیٰ
اسلام آباد ۔ پاکستان مسلم لیگ ق کے اختلافات دور کرنے کے لیے پارٹی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکے ہیں چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر حامد ناصر چٹھہ کے ہمراہ پارٹی کے ارکان کچھ مطالبات لے کر آئے۔ جس میں ایک مطالبہ میں کہا گیا کہ چودھری شجاعت پارٹی صدارت سے استعفیٰ دیں۔ دوسرا مطالبہ یہ کیا گیا کہ وقت سے پہلے انتخابات کرائے جائیں ۔ تیسرے مطالبے میں کہا گیا کہ آئندہ صدارتی مہم میں چودھری پرویز الہیٰ حصہ نہیں ہوں گے تاہم چودھری شجاعت حسین نے ان تمام مطالبات کو مسترد کر دیا اور حامد ناصر چٹھہ سے کہا گیا کہ تمام ناراض اراکین کے نام سامنے لائے جائیں اور ہم تمام مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہیں انھوں نے کہا کہ تمام مسائل سنٹرل ایگز یکٹیو کمیٹی میں پیش کئے جائیں ۔ بعد ازاں چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ حامد ناصر چٹھہ کے ساتھ کرنے والے تمام اراکین کا کہنا تھا کہ ہم بھی کمیٹی کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور ہمارے تمام مسائل حل ہونے چاہیں سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی میں ان مسائل کو لے جانے کی ضرروت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ حامد ناصر چٹھہ اور ہمایوں اختر نے کمیٹی کے لیے دس نام دیئے تھے ۔ ہم نے واضح کر دیا کہ پہلے سے موجود 30رکنی کمیٹی کو کیسے ختم کرسکتے ہیں ۔ حامد ناصر چٹھہ ماضی میں بھی پی پی پی کے اتحادی رہے ہیں اور اب بھی اس کے پی پی پی سے رابطے میں ہیں ۔ انھوں نے 2002ء میں انتخاب میں مسلم لیگ جونیجو کے ٹکٹ پر لڑا تھا ناراض رہنماؤں سے پوچھا جائے ان کی پشت پر کون ہے ۔ چوھدری پرویز الہیٰ نے واضح کیا پارٹی صدارت کے لیے کوئی بھی انتخاب لڑ سکتا ہے ہم نے یہ بھی کہا کہ پہلے ناراض اراکین کی ناراضگی کی وجوہات بتائیں مگر وہ اس حوالے سے کوئی بات کرنے میں ناراض رہے ہم نے ہمیشہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش کو جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر کامل علی آغا نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا کوئی بھی رکن پارٹی کے انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے ۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الہیٰ آئندہ بھی پارٹی قیادت کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں دو ٹرم کی شرط میاں اظہر کے وقت موجود تھی بعد ازاں جنرل کونسل کے اجلاس میں اس شرط کو ختم کر دیا گیا تھا انھوں نے کہا کہ بعض رہنما مسلم لیگ ق کو توڑنا چاہتے ہیںتاہم یہ چند لوگ پارٹی پر قبضہ نہیں کر سکتے نہ ان کی ڈکیٹیشن چل سکتی ہے۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment