Urdu News - Online Urdu News Paper

Urdu News, Online Urdu Latest News Pakistan & World Newspaper

Urdu News - Online Urdu News Paper header image 2

آئی ایم ایف سے قرضہلے کر پاکستان کی معاشی واقتصادی خود مختاری کو گروی رکھ دیا گیا ہے ۔پروفیسر خورشید احمد

November 16th, 2008 · No Comments;  last year, mid-November

زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے رہی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سالوں میں لی تھی

قرضہ ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے کوپورا کرنے اورسود کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہاہے

حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے کر ذہنی غلام اور محتاج ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے

سبسڈی کے خاتمے سے صنعت وزراعت کو فری مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے گا

قرضوں کابوجھ بڑھے گا اور آئندہ چند سالوں میں قرضہ ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے

سینیٹ میں آزاد اپوزیشن کے قائد و ماہر معیشت معاہدے کے حوالے سے معاشی و اقتصادی تجزیہ

اسلام آباد،سینٹ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اور اقتصادی امور کے ماہر پروفیسر خورشید احمدنے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کا معاہدہ طے کرکے پاکستان کی معاشی واقتصادی خود مختاری کو گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے رہی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سالوں میں لی تھی قرضہ ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے کوپورا کرنے اورسود کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہاہے۔حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے کر ذہنی غلام اور محتاج ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے ۔ سبسڈی کے خاتمے سے صنعت وزراعت کو فری مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے گا جس سے ملکی معیشت خاک میں مل جائے گی ۔ قرضوں کابوجھ بڑھے گا اور آئندہ چند سالوں میں قرضہ ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ۔ پاکستان کی جانب سے 7.6 ارب ڈالر قرضہ کے حصول کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ طے ہونے پر معاشی واقتصادی لحاظ سے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتہائی خطرناک اورتباہ کن فیصلہ کیا ہے اتوار کو ثناء نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ملک پر قرضوں کابوجھ بڑھتا جا رہا ہے 1999 ء میں جب پرویز مشرف آئے تھے تو اس وقت قرضہ 34 ارب ڈالر تھا جواب 46 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں ۔ نئے قرضے لینے سے خدشہ ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ غیر ملکی قرضے ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بجٹ مین سب سے بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرتے رہیں گے۔ گویا نصف بجٹ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جائے گااور اگلے کئی سالوں تک ملک کی معاشی و اقتصادی خود مختاری کو گروی رکھ دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ قرضوں کے حصول کی وجوہات کے حوالے سے قوم کو دھوکا دیا جا رہا ہے ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے اورقرضوں کی ادائیگی کے لیے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اور اشرافیہ خودانحصاری کا راستہ اختیار کرے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں ۔ ملک میںپیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات کرتے ہوئے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں بلاشبہ معاشی حالات خراب ہیں ۔ تاہم آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کا معاہدہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ہر دور میں قربانی دی ہے ۔ آئی ایم ایف کا بوجھ بھی غریب عوام پر پڑیگا قوم قربانی دیتی ہے حکومت ا وراشرافیہ اپنے طرز زندگی کوتبدیل کیوں نہیںکرتے ان ملکی حالات کا تقاضاہے کہ بچت اورکفایت شعاری کو اختیار اور نمائشی زندگی کو تبدیل کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ طرز زندگی اورشاہانہ اخراجات بڑھانے کے بجائے پیداوار ، زراعت، صنعت و برآمدات اور انفراسٹرکچر کو فروغ اور ترقی دی جائے انہوں نے کہاکہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات 20 ارب ڈالر سے کم جبکہ درآمد ات 40 ارب ڈالر سے تجاوز کررہی ہیں جتنی برآمدات ہیں اتنا ہی بجٹ خسارہ ہے معیشت کے لیے صورت حال ناقابل برداشت ہے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جبکہ ویلیو ایڈڈ کم ہو رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات کو دنیا کی منڈیوں میں رسائی نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارے کو کنٹرول کرنا ہماری حکومت کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرون اور بیرون ملک وسائل کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے اشرافیہ غیر ملکی اکاؤنٹس سے اپنے اربوں ڈالر ملک منتقل کرکے اچھی مثال قائم کرے حکمرانوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے نہ ملک ترقی کرے گا نہ گروتھ ریٹ بڑھے گا ۔نہ سرمایہ کاری آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا خاتمہ آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے اس طرح زراعت اور صنعت کو مراعات اور سہولتیں دینے کے بجائے اس فری مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جائے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم پائیدار ترقی کی منزل سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نتیجے میں ملک کو سیاسی طورپر یہ دھچکا لگے گا کہ بجٹ سازی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کیا جائے گا ۔ زرعی ، تجارتی مالیاتی سروسز سمیت معیشت کے شعبوں کے بارے میں تمام پالیسیوں کی نگرانی آئی ایم ایف کرے گا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اپنی معاشی و اقتصادی خود مختاری سے دستبردار ہو کر معیشت کوخاک میں ملا رہے ہین سراسر خسارے کا سودا ہے حکمران خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنی شرائط پر قرضہ لیا جا رہا ہے آئی ایم ایف کے پروگرام کو اپنا پروگرام قرار دے کر قوم کو دھوکا دیا جا رہا ہے ۔حکمرانوں نے یہ کہہ کر ثابت کیا ہے کہ وہ ذہنی غلام اور محتاج ہین پرویز مشرف نے جس طرح قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملوںکو اپنی فوج کے کھاتے میں ڈالا تھا اس طرح شوکت ترین بھی آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے رہے ہیں زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے لی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سال میں لی تھی

Tags: Pakistan , Urdu , Urdu News | ,

اوپر والی خبر سے ملتی جلتی خبریں دیکھیں

  • این آر او کے اثرات اب قوم کے سامنے ہیں، فائدہ اٹھانے والے امریکی ڈکٹیشن پر عملدرآمد کے پابند ہیں ۔ قاضی حسین احمد (0)
  • حکومت ہرمحاذ پر بری طرح ناکام ہونے کے بعد فوری طور پر مستعفی ہو جائے اور ملک میں نئے الیکشن کرائے جائیں ۔ قاضی حسین احمد (0)
  • او آئی سی فعال ادارے کاکردار ادا کرتے ہوئے اسرائیل کے سفارتی اور اقتصادی بائیکاٹ کااعلان اور غزہ کے محاصرے اورسرحدی پابندیاں فی الفور ختم کرانے میں اپنا کردارادا کرے۔قاضی حسین احمد (0)
  • جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے نئے امیر کیلئے تین نام تجویز کردیئے (0)
  • امریکہ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسے ایسا پاکستان قبول نہیں جس کی احساس اسلامی نظریے پر رکھی گئی ہو ۔۔ قاضی حسین احمد (0)
  • ملک کو درپیش خطرات سے نکالنے کیلئے مڈ ٹرم انتخابات کے ذ ریعے ایسی حکومت لائی جائے جو جرات مندانہ پالیسیاں اختیار کر کے حالات میں بہتری لائے ۔قاضی حسین احمد کا جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ سے خطاب (0)
  • خرابی صحت اور طویل عرصہ تک امیر رہنے کے باعث آئندہ مجھے امیر منتخب نہ کیا جائے۔ قاضی حسین احمد کی مجلس شوریٰ سے درخواست (1)
  • اسرائیلی جارحیت کے خلاف جماعت اسلامی مظاہرہ اسرائیلی پرچم نذر آتش (0)
  • آزمائش کی اس گھڑی میںفلسطینیوں کو ذاتی مفاد اور علاقائی سیاست کی بھینٹ چڑھانے والوں کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔ قاضی حسین احمد (0)
  • قاضی حسین احمد اور و زیراعظم کے درمیان رابطہ (0)

  • اس خبر پر آپ کچھ کہنا چاہتے ہوں تو نیچے دئے گئے تبصرہ کے خانہ میں لکھ دیجیے اور اگر آپ ہماری اردو نیوز کو مستقل یا غیر مستقل بنیاد پر خبریں ، مضامین ( ان پیج میں ) تصاویر ، آڈیو ، ویڈیو بھیجنا چاہتے ہوں تو ہمیں نیچے دئے گئے ای میل ایڈریس پر بھیجیے۔

    urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

    0 responses so far ↓

    • تبصرہ کریں

    Leave a Comment

    Englishاردو