زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے رہی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سالوں میں لی تھی
قرضہ ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے کوپورا کرنے اورسود کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہاہے
حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے کر ذہنی غلام اور محتاج ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے
سبسڈی کے خاتمے سے صنعت وزراعت کو فری مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے گا
قرضوں کابوجھ بڑھے گا اور آئندہ چند سالوں میں قرضہ ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے
سینیٹ میں آزاد اپوزیشن کے قائد و ماہر معیشت معاہدے کے حوالے سے معاشی و اقتصادی تجزیہ
اسلام آباد،سینٹ میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اور اقتصادی امور کے ماہر پروفیسر خورشید احمدنے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول کا معاہدہ طے کرکے پاکستان کی معاشی واقتصادی خود مختاری کو گروی رکھ دیا گیا ہے ۔ زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے رہی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سالوں میں لی تھی قرضہ ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے کوپورا کرنے اورسود کی ادائیگی کے لیے لیا جا رہاہے۔حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے کر ذہنی غلام اور محتاج ہونے کا ثبوت فراہم کیاہے ۔ سبسڈی کے خاتمے سے صنعت وزراعت کو فری مارکیٹ کے رحم وکرم پر چھوڑدیا جائے گا جس سے ملکی معیشت خاک میں مل جائے گی ۔ قرضوں کابوجھ بڑھے گا اور آئندہ چند سالوں میں قرضہ ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ۔ پاکستان کی جانب سے 7.6 ارب ڈالر قرضہ کے حصول کے لیے آئی ایم ایف سے معاہدہ طے ہونے پر معاشی واقتصادی لحاظ سے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے انتہائی خطرناک اورتباہ کن فیصلہ کیا ہے اتوار کو ثناء نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ ملک پر قرضوں کابوجھ بڑھتا جا رہا ہے 1999 ء میں جب پرویز مشرف آئے تھے تو اس وقت قرضہ 34 ارب ڈالر تھا جواب 46 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں ۔ نئے قرضے لینے سے خدشہ ہے کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ غیر ملکی قرضے ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بجٹ مین سب سے بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے مختص کرتے رہیں گے۔ گویا نصف بجٹ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں چلا جائے گااور اگلے کئی سالوں تک ملک کی معاشی و اقتصادی خود مختاری کو گروی رکھ دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ قرضوں کے حصول کی وجوہات کے حوالے سے قوم کو دھوکا دیا جا رہا ہے ترقیاتی مقاصداور پیداوار بڑھانے نہیں بلکہ بجٹ خسارے اورقرضوں کی ادائیگی کے لیے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران طبقہ اور اشرافیہ خودانحصاری کا راستہ اختیار کرے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں ۔ ملک میںپیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات کرتے ہوئے حکومتی اخراجات کم کیے جائیں بلاشبہ معاشی حالات خراب ہیں ۔ تاہم آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول کا معاہدہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے ہر دور میں قربانی دی ہے ۔ آئی ایم ایف کا بوجھ بھی غریب عوام پر پڑیگا قوم قربانی دیتی ہے حکومت ا وراشرافیہ اپنے طرز زندگی کوتبدیل کیوں نہیںکرتے ان ملکی حالات کا تقاضاہے کہ بچت اورکفایت شعاری کو اختیار اور نمائشی زندگی کو تبدیل کیا جائے۔ انہوںنے کہاکہ طرز زندگی اورشاہانہ اخراجات بڑھانے کے بجائے پیداوار ، زراعت، صنعت و برآمدات اور انفراسٹرکچر کو فروغ اور ترقی دی جائے انہوں نے کہاکہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات 20 ارب ڈالر سے کم جبکہ درآمد ات 40 ارب ڈالر سے تجاوز کررہی ہیں جتنی برآمدات ہیں اتنا ہی بجٹ خسارہ ہے معیشت کے لیے صورت حال ناقابل برداشت ہے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے جبکہ ویلیو ایڈڈ کم ہو رہی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہماری مصنوعات کو دنیا کی منڈیوں میں رسائی نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ سے تجارتی خسارے کو کنٹرول کرنا ہماری حکومت کے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ملک کے اندرون اور بیرون ملک وسائل کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے اشرافیہ غیر ملکی اکاؤنٹس سے اپنے اربوں ڈالر ملک منتقل کرکے اچھی مثال قائم کرے حکمرانوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے نہ ملک ترقی کرے گا نہ گروتھ ریٹ بڑھے گا ۔نہ سرمایہ کاری آئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا خاتمہ آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے اس طرح زراعت اور صنعت کو مراعات اور سہولتیں دینے کے بجائے اس فری مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑدیا جائے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم پائیدار ترقی کی منزل سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نتیجے میں ملک کو سیاسی طورپر یہ دھچکا لگے گا کہ بجٹ سازی کے حوالے سے آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کیا جائے گا ۔ زرعی ، تجارتی مالیاتی سروسز سمیت معیشت کے شعبوں کے بارے میں تمام پالیسیوں کی نگرانی آئی ایم ایف کرے گا۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اپنی معاشی و اقتصادی خود مختاری سے دستبردار ہو کر معیشت کوخاک میں ملا رہے ہین سراسر خسارے کا سودا ہے حکمران خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنی شرائط پر قرضہ لیا جا رہا ہے آئی ایم ایف کے پروگرام کو اپنا پروگرام قرار دے کر قوم کو دھوکا دیا جا رہا ہے ۔حکمرانوں نے یہ کہہ کر ثابت کیا ہے کہ وہ ذہنی غلام اور محتاج ہین پرویز مشرف نے جس طرح قبائلی علاقوں میں امریکی میزائل حملوںکو اپنی فوج کے کھاتے میں ڈالا تھا اس طرح شوکت ترین بھی آئی ایم ایف کی شرائط کو اپنی شرائط قرار دے رہے ہیں زرداری حکومت نے آٹھ ماہ میں وہ بدنامی مول لے لی ہے جو پرویز مشرف نے آٹھ سال میں لی تھی













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment