اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں
پی سی او ججوں اور ان کے فیصلوں کو نہیں مانتے وکلاء جلد جیل بھرو تحریک کا آغاز کریں گے جس کے تحت ہزاروں وکلاء گرفتاریاں دیں گے
تا لہ بندی سمیت ہماری تمام تحریک اس موجود ہ نظام کے خلاف جسے کوئی طاقت دباؤ یا لالچ سے نہیں روک سکتا
جسٹس افتخار چوہدری کے پنجاب کی 3 بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کے لئے وکلاء جلوس کی شکل میں ان کے ہمراہ جائیں گے اور جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جائے گا
راولپنڈی ہائی کورٹ بار کے صدر سردار عصمت اللہ ،جنرل سیکرٹری صدیق اعوان و دیگر کی پریس کانفرنس
راولپنڈی ۔ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی نے خبردار کیا ہے کہ گور نر پنجاب وکلاء کے خلاف نازیبا بیان بازی سے باز رہیں ورنہ ایک لاکھ وکلاء کم از کم دو لاکھ جوتوں کے مالک ہیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں جنہیں ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں اور 16 کروڑ عوام کی بھر پور حمائیت حاصل ہے پی سی او ججوں اور ان کے فیصلوں کو نہیں مانتے وکلاء جلد جیل بھرو تحریک کا آغاز کریں گے جس کے تحت ہزاروں وکلاء گرفتاریاں دیں گے تا لہ بندی سمیت ہماری تمام تحریک اس موجود ہ نظام کے خلاف جسے کوئی طاقت دباؤ یا لالچ سے نہیں روک سکتا چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پنجاب کی 3 بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کے لئے وکلاء جلوس کی شکل میں ان کے ہمراہ جائیں گے اور جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جائے گا ان خیالات کا اظہار ہائی کورٹ بار کے صدر سر دار عصمت اللہ اور جنرل سیکرٹری ملک صدیق اعوان نے دیگر وکلاء کے ہمراہ جمعہ کی شام راولپنڈی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا سردار عصمت اللہ نے کہا کہ آج (بروز ہفتہ) میں جسٹس افتخار چوہدری گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ بار ایسوسی ایشنوں سے خطاب کریں گے جس کے لئے وکلاء اور سول سوسائٹی صبح نو بجے چیف جسٹس کی رہائش گاہ سے ان کی معیت میں ضلع کچہری اور ایئر پورٹ کے راستے جلوس کی شکل میں انہیں لے کر جائے گی جلوس کے راستے میں روات ،گوجر خان ،سوہاوہ،اور جہلم ،کھاریاں تحصیل بار میں چیف جسٹس افتخار ہال کا افتتاح کریں گے انہوں نے کہا کہ گجرات بار میں اور پھر گوجرانوالہ میںمعزول چیف جسٹس کا استقبال کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ لاہور سمیت بعض دیگر ججوں پر وکلاء کی عدالتی ناکہ بندی کے خلاف گورنر پنجاب کے بیان اور لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے از خود کارروائی پر وکلاء میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ سلمان تاثیر گورنر کی حیثیت سے اپنے منصب کے وقار کو سمجھیں اور نا شائستہ زبان استعمال کرنے سے باز رہیں۔ ورنہ پاکستان میں ایک لاکھ وکلاء دو لاکھ جوتوں کے مالک ہیں اگرچہ ہمارا پیشہ اس چیز کی اجازت نہیں دیتا لیکن اگر مجبور کیا جائے تو وکلاء جوتے مارنے والے لوگ ہیں۔ مسلم لیگ ن ، تحریک انصاف،جماعت اسلامی عدلیہ کے اس ایشو پر آج بھی وکلاء کے ساتھ ہیں لیکن گورنر کے یہ سگنل وہ حشر برپا کریں گے کہ آئندہ نسلیں بھی یادر رکھیں گی ۔ سلمان تاثیر پہلے بھی پرویز مشرف کے بغل گیر رہ چکے ہیں ۔ ہائی کورٹ لاہور کے از خود نوٹس کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے چیف جسٹس نے اگرچہ پی سی او کے تحت حلف میں کیس وکلاء ان کی شخصیت کے پھر بھی معترف ہیں۔ لیکن از خود نوٹس لینے والے یہ جج صاحبان اس وقت کہاں تھے جب وکلاء کو عدالتوں میں داخل ہونے سے نہ صرف روکا جاتا تھا بلکہ انہیں گرفتار کیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ہم پی سی او ججوں اور ان کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ جن ججوں نے آمر کا ساتھ دے کر عوامی جذبات کے برعکس اقدام کئے پی سی او کے تحت حلف لے کر اپنی نوکری اور منصب بچا لیا ہم ایسے ججوں کے فیصلے تسلیم نہیں کرتے موجودہ حالات میں لاہور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے وکلاء کو سلام پیش کرتے ہیں کوئی ہمیں جیل نہیں بھیج سکتا وکلاء جلد جیل بھرو تحریک کا آغاز کریں گے اور خود گرفتاریاں دے کر جیل جائیں گے ہم تو اس لئے خاموش ہیں کہ پھر کوئی فوجی آمر اقتدار اور جمہوریت پر شب خون نہ مار سکے اگرچہ سول جج پی سی او جج نہیں لیکن تالہ بندی سمیت ہماری تحریک اس موجودہ نظام کے خلاف ہے کیونکہ سب سے ما تحت جج بھی اس نظام کے تحت چیف جسٹس کے ما تحت ہے ہماری تحریک نظام عدل بچانے کے لئے ہے۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment