٭۔ ۔ ۔ حکومت آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے متبادل ذرائع سے معاشی بحران پر قابو پائے اور اپنے اخراجات کم کرے
٭۔ ۔ ۔ امریکی میزائل حملے پارلیمنٹ کی قراردادوں یا احتجاج سے بند نہیں ہوں گے ہمیں عملی اقدامات کرنا پڑیں گے
لاہور۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ حکومت کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کی بجائے متبادل ذرائع سے معاشی بحران پر قابو پانا چاہئے اور اس مقصد کیلئے اپنے اخراجات میں غیر معمولی کمی لانی چاہئے۔ انہوںنے کہا کہ امریکہ میں کوئی بھی امیدوار منتخب ہو امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ قبائلی علاقوں میں جو کھیل کھیلا جارہا ہے وہ خالصتا امریکہ کا کھیل اور ملک توڑنے کی سازش ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن کے زیراہتمام کام کرنے والے منصورہ ہسپتال کے نئے بلاک کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں انہوں نے 24ہزار مربع فٹ پر بنائے جانے والے چار منزلہ بلاک کا سنگ بنیاد رکھا ۔ یہ پراجیکٹ دو حصوں میں مکمل کیا جائے گا۔ قبائلی علاقوں میں امریکی طیاروں کی طرف سے مزائل گرانے جانے سے متعلق سوال پر قاضی حسین احمد نے کہا کہ امریکہ نے تو 30شہریوں کو مارا ہے ہماری اپنی فوج وہاں روزانہ 100سے زیادہ افراد کو مار رہی ہے۔ یہ امریکہ کا کھیل اور ملک توڑنے کی سازش ہے۔ حکومت فوج کو آلہ کار بنا کر ملوث کررہی ہے۔ اگر ہم اس پر آواز اٹھاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ فوج کا مورال گرا رہے ہیں۔ حالانکہ فوج نے خود اپنے مورال کو ختم کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کی قراردادوں یا امریکہ سے احتجاج سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے اور حکومت کو کم سے کم یہ اعلان کرنا چاہئے کہ وہ امریکی اتحاد سے علیحدگی اختیار کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد بھی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی کیونکہ ان کی پالیسی اپنے مفادات کے تابع ہوتی ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی رائے عامہ کو سمجھایا جائے کہ عدل وانصاف قائم کئے بغیر امریکہ کے اپنے لئے بھی مسائل پیدا ہوں گے۔ 3نومبر 2007ء کے پرویز مشرف کے اقدام سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس دن ہم یوم مذمت منائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بڑی سیاسی جماعتوں نے عوام سے ووٹ عدلیہ کی آزادی کے نام پر لیا تھا اب انہیں اس وعدہ کو پورا بھی کرنا چاہئے اور پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہئے تاکہ مارشل لاء کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کیا جاسکے۔ آئی ایم ایف سے امداد سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاکستان بہت مشکل سے آئی ایم ایف کے منہ سے نکلا ہے اب اس مگر مچھ کے منہ میں دوبارہ نہیں جانا چاہئے اور حکومت کو اپنے اللوں تللوں اور عیش وعشرت میں کمی لانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں اور چند بڑے خاندانوں کے 30ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہیں۔ ہم نہیں کہتے کہ انہیں ضبط کیا جائے لیکن انہیں یہ دولت پاکستان میں واپس ضرور لانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ الخدمت فاؤنڈیشن زلزلہ متاثرین کی امداد سمیت ملک بھر میں مختلف فلاحی پراجیکٹس پر کام کررہی ہے۔ منصورہ ہسپتال بھی اسی کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہسپتالوں اور گلی محلوں میں صفائی کا مناسب انتظام کیا جائے اور ہم واقعی صفائی کو نصف ایمان سمجھیں تو آدھی بیماریاں ختم کی جاسکتی ہیں۔













































0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment